زندگي نامہ حضرت امام حسين عليہ السلام

امام حسین علیہ السلام

آپ کی ولادت

حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت کے بعد پچاس راتیں گزریں تھیں کہ حضرت امام حسن علیہ السلام کا نطفہ وجود بطن مادر میں مستقر ہوا تھا ۔ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ ولادت حسن اوراستقرارحمل حسین میں ایک طہر کا فاصلہ تھا (اصابہ نزول الابرار واقدی)۔

ابھی آپ کی ولادت نہ ہونے پائی تھی کہ بروایتی ام الفضل بنت حارث نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم کے جسم کاایک ٹکڑا کاپ کرمیری آغوش میں رکھا گیا ہے اس خواب سے وہ بہت گھبرائیں اوردوڑی ہوئی رسول کریم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض پرداز ہوئیں کہ حضورآج ایک بہت برا خواب دیکھا ہے۔ حضرت نے خواب سن کرمسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ خواب تونہایت ہی عمدہ ہے۔  اے ام الفضل کی تعبیر یہ ہے کہ میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیدا ہو گا جو تمہاری آغوش میں پرورش پائے گا ۔

آپ کے ارشاد فرمانے کوتھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ خصوصی مدت حمل صرف چھ ماہ گزرکرنورنظررسول امام حسین بتاریخ ۳/ شعبان    ۴ ء ہجری بمقام مدینہ منورہ بطن مادرسے آغوش مادرمیں آ گئے۔ (شواہدالنبوت ص ۱۳، انوارحسینہ جلد ۳ ص ۴۳ بحوالہ صافی ص ۲۹۸، جامع عباسی ص ۵۹، بحارالانوار و مصاح طوسی ابن نما ص ۲ وغیرہ)۔

ام الفضل کا بیان ہے کہ میں حسب الحکم ان کی خدمت کرتی رہی، ایک دن میں بچے کولے کر آنحضرت کی خدمت میں حاضرہوئی آپ نے آغوش محبت میں لے کرپیارکیا اور آپ رونے لگے میں نے سبب دریافت کیا توفرمایا کہ ابھی ابھی جبرئیل میرے پاس آئے تھے وہ بتلاگئے ہیں کہ یہ بچہ امت کے ہاتھوں نہایت ظلم وستم کے ساتھ شہید ہوگا اور اے ام الفضل وہ مجھے اس کی قتل گاہ کی سرخ مٹی بھی دے گئے ہیں (مشکواة جلد ۸ ص ۱۴۰ طبع لاہور)۔

اورمسن امام رضا ص ۳۸ میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا دیکھو یہ واقعہ فاطمہ سے کوئی نہ بتلائے ورنہ وہ سخت پریشان ہوں گی، ملا جامی لکھتے ہیں کہ ام سلمہ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول خدا میرے گھراس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے سرمبارک کے بال بکھرے ہوئے تھے  اورچہرے پرگرد پڑی ہوئی تھی ، میں نے اس پریشانی کودیکھ کرپوچھا کیا بات ہے فرمایا مجھے ابھی ابھی جبرئیل عراق کے مقام کربلامیں لے گئے تھے وہاں میں نے جائے قتل حسین دیکھی ہے اوریہ مٹی لایا ہوں اے ام سلمہ اسے اپنے پاس محفوظ رکھو جب یہ خون ہوجائے توسمجھنا کہ میرا حسین شہید ہوگیا ۔الخ(شواہدالنبوت ص ۱۷۴) ۔

آپ کااسم گرامی

امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد سرور کائنات صلعم نے امام حسین کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور اپنی زبان ان کے منہ میں دے کر بڑی دیرتک چسایا، اس کے بعد داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی، پھردعائے  خیرفرما کر حسین نام رکھا (نورالابصار ص ۱۱۳) ۔

علماء کابیان ہے کہ یہ نام اسلام سے پہلے کسی کا بھی نہیں تھا، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نام خود خداوندعالم کا رکھا ہوا ہے (ارجح المطالب و روضة الشہداء ص ۲۳۶) ۔

کتاب اعلام الوری طبرسی میں ہے کہ یہ نام بھی دیگرآئمہ کے ناموں کی طرح لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔

آپ کاعقیقہ

امام حسین کانام رکھنے کے بعد سرور کائنات نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ بیٹی جس طرح حسن کا عقیقہ کیا گیا ہے اسی طرح اسی کے عقیقہ کا بھی انتظام کرو، اوراسی طرح بالوں کے ہم وزن چاندی تصدق کرو، جس طرح اس کے بھائی حسن کے لیے کرچکی ہو، الغرض ایک مینڈھا منگوایا گیا اور رسم عقیقہ ادا کردی گئی (مطالب السؤل ص ۲۴۱) ۔

بعض معاصرین نے عقیقہ کے ساتھ ختنہ کا ذکرکیا ہے جومیرے نزدیک قطعا ناقابل قبول ہے کیونکہ امام کا مختون پیدا ہونا مسلمات سے ہے۔

کنیت و القاب

آپ کی کنیت صرف ابوعبداللہ تھی، البتہ القاب آپ کے بے شمارہیں جن میں سید وصبط اصغر، شہیداکبر، اورسیدالشہداء زیادہ مشہورہیں۔ علامہ محمد بن طلحہ شافعی کا بیان ہے کہ سبط اورسید خود رسول کریم کے معین کردہ القاب ہیں (مطالب السؤل ص ۳۱۲) ۔

آپ کی رضاعت

اصول کافی باب مولدالحسین ص ۱۱۴ میں ہے کہ امام حسین نے پیدا ہونے کے بعد نہ حضرت فاطمہ زہرا کا شیر مبارک نوش کیا اورنہ کسی اوردائی کا دودھ پیا، ہوتا یہ تھا کہ جب آپ بھوکے ہوتے تھے توسرور کائنات تشریف لا کرزبان مبارک دہن اقدس میں دے دیتے تھے اورامام حسین اسے چوسنے لگتے تھے ،یہاں تک کہ سیر وسیرآب ہوجاتے تھے، معلوم ہوناچاہئے کہ اسی سے امام حسین کاگوشت پوست بنا اورلعاب دہن رسالت سے حسین پرورش پا کر کار رسالت انجام دینے کی صلاحیت کے مالک بنے یہی وجہ ہے کہ آپ رسول کریم سے بہت مشابہ تھے (نورالابصار ص ۱۱۳) ۔

خداوند عالم کی طرف سے ولادت امام حسین کی تہنیت اور تعزیت

علامہ حسین واعظ کاشفی رقمطرازہیں کہ امام حسین کی ولادت کے بعد خلاق عالم نے جبرئیل کوحکم دیاکہ زمین پرجاکرمیرے حبیب محمد مصطفی کومیری طرف سے حسین کی ولادت پرمبارک باد دے دو اورساتھ ہی ساتھ ان کی شہادت عظمی سے بھی مطلع کرکے تعزیت ادا کردو، جناب جبرئیل بحکم رب جلیل زمین پر وارد ہوئے اورانہوں نے آنحضرت کی خدمت میں شہادت حسینی کی تعزیت بھی منجانب اللہ اداکی جاتی ہے، یہ سن کرسرورکائنات کا ماتھا ٹھنکا اورآپ نے پوچھا، جبرئیل ماجرا کیا ہے تہنیت کے ساتھ تعزیت کی تفصیل بیان کرو، جبرئیل نے عرض کی کہ مولا ایک وہ دن ہوگا جس دن آپ کے چہیتے فرزند”حسین“ کے گلوئے مبارک پرخنجر آبدار رکھا جائے گا اورآپ کا یہ نورنظر بےیار و مددگار میدان کربلامیں یکہ و تنہا تین دن کا بھوکا پیاسا شہید ہوگا یہ سن کرسرور عالم محو گریہ ہوگئے آپ کے رونے کی خبرجونہی امیرالمومنین کوپہنچی وہ بھی رونے لگے اورعالم گریہ میں داخل خانہ سیدہ ہوگئے ۔

جناب سیدہ نے جوحضرت علی کوروتا دیکھا دل بے چین ہوگیا، عرض کی ابوالحسن رونے کاسبب کیا ہے فرمایا  بنت رسول ابھی جبرئیل آئے ہیں اوروہ حسین کی تہنیت کے ساتھ ساتھ اس کی شہادت کی بھی خبردے گئے ہیں حالات سے باخبرہونے کے بعد فاطمہ کے گریہ گلوگیر ہوگیا، آپ نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض کی باباجان یہ کب ہوگا، فرمایاجب میں نہ ہوں گا نہ توہوگی نہ علی ہوں گے نہ حسن ہوں گے فاطمہ نے پوچھا بابا میرابچہ کس خطا پرشہید ہوگا فرمایا فاطمہ بالکل بے جرم وخطا صرف اسلام کی حمایت میں شہادت ہوگی، فاطمہ نے عرض کی باباجان جب ہم میں سے کوئی نہ ہوگا توپھراس پر گریہ کون کرے گااوراس کی صف ماتم کون بچھائے گا،راوی کا بیان ہے کہ اس سوال کاحضرت رسول کریم ابھی جواب نہ دینے پائے تھے کہ ہاتف غیبی کی آواز آئی، اے فاطمہ غم نہ کروتمہارے اس فرزند کاغم ابدالآباد تک منایاجائے گا اوراس کا ماتم قیامت تک جاری رہے گا ایک روایت میں ہے کہ رسول خدا نے فاطمہ کے جواب میں یہ فرمایا تھا کہ خدا کچھ لوگوں کوہمیشہ پیدا کرتا رہے گا جس کے بوڑھے بوڑھوں پراورجوان جوانوں پراوربچے بچوں پراورعورتیں عورتوں پر گریہ وزاری کرتے رہیں گے۔

امام حسین علیہ السلام

فطرس کا واقعہ

علامہ مذکور بحوالہ حضرت شیخ مفید علیہ الرحمہ رقمطرازہیں کہ اسی تہنیت کے سلسلہ میں جناب جبرئیل بے شمارفرشتوں کے ساتھ زمین کی طرف آرہے تھے کہ ناگاہ  ان کی نظرزمین کے ایک غیرمعروف طبقہ پرپڑی دیکھا کہ ایک فرشتہ زمین پرپڑاہوا زاروقطار رو رہا ہے آپ اس کے قریب گئے اورآپ نے اس سے ماجرا پوچھا اس نے کہا اے جبرئیل میں وہی فرشتہ ہوں جوپہلے آسمان پرستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرتا تھا میرا نام فطرس  ہے جبرئیل نے پوچھا تجھے کس جرم کی یہ سزاملی ہے اس نے عرض کی ،مرضی معبود کے سمجھنے میں ایک پل کی دیرکی تھی جس کی یہ سزابھگت رہا ہوں بال وپرجل گئے ہیں یہاںکنج تنہائی میں پڑاہوں ۔

ائے جبرئیل خدارا میری کچھ مدد کروابھی جبرئیل جواب نہ دینے پائے تھے کہ اس نے سوال کیا ائے روح الامین آپ کہاں جا رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفی صلعم کے یہاں ایک فرزند پیدا ہوا ہے جس کا نام حسین ہے میں خداکی طرف سے اس کی ادائے تہنیت کے لیے جا رہا ہوں، فطرس نے عرض کی اے جبرئیل خدا کے لیے مجھے اپنے ہمراہ لیتے چلو مجھے اسی درسے شفا اورنجات مل سکتی ہے جبرئیل اسے ساتھ لے کر حضورکی خدمت میں اس وقت پہنچے جب کہ امام حسین آغوش رسول میں جلوہ فرما تھے جبرئیل نے عرض حال کیا،سرورکائنات نے فرمایا کہ فطرس کے جسم کوحسین کے بدن سے مس کر دو، شفا ہوجائے گی جبرئیل نے ایسا ہی کیا اورفطرس کے بال وپراسی طرح روئیدہ ہوگیے جس طرح پہلے تھے ۔

وہ صحت پانے کے بعد فخرومباہات کرتا ہوا اپنی منزل”اصلی“ آسمان سوم پرجا پہنچا اورمثل سابق ستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرنے لگا، بعد از شہادت حسین چوں برآں قضیہ مطلع شد“ یہاں تک کہ وہ زمانہ آیا جس میں امام حسین نے شہادت پائی اوراسے حالات سے آگاہی ہوئی تواس نے بارگاہ احدیت میں عرض کی مالک مجھے اجازت دی جائے کہ مین زمین پرجا کردشمنان حسین سے جنگ کروں ارشاد ہوا کہ جنگ کی ضرورت نہیں البتہ توستر ہزار فرشتے لے کر زمین پر جا اوران کی قبرمبارک پرصبح وشام گریہ ماتم کیا کر اوراس کا جو ثواب ہو اسے ان کے رونے والوں کے لیے ہبہ کردے چنانچہ فطرس زمین کربلا پرجا پہنچا اورتا قیام قیامت شب و روز روتا رہے گا(روضة الشہدا صص ۲۳۶ تا ۲۳۸ طبع بمبئی ۱۳۸۵ ئھ وغنیة الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی)۔

امام حسین سینہ رسول پر

صحابی رسول ابوہریرہ راوی حدیث کا بیان ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا ہے کہ رسول کریم لیٹے ہوئے اورامام حسین نہایت کمسنی کے عالم میں ان کے سینہ مبارک پرہیں، ان کے دونوں ہاتھوں کوپکڑے ہوئے فرماتے ہیں اے حسین تومیرے سینے پرکود چنانچہ امام حسین آپ کے سینہ مبارک پر کودنے لگے اس کے بعد حضورصلعم نے امام حسین کا منہ چوم کرخداکی بارگاہ میں عرض کی اے میرے پالنے والے میں اسے بے حد چاہتا ہوں توبھی اسے محبوب رکھ، ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت امام حسین کا لعاب دہن اوران کی زبان اس طرح چوستے تھے جس طرح کجھورکوئی چوسے (ارجح المطالب ص ۳۵۹ و ص ۳۶۱ ، استیعاب ج ۱ ص ۱۴۴، اصابہ جلد ۲ ص ۱۱، کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۴، کنوزالحقائق ص ۵۹) ۔

امام حسین علیہ السلام

جنت کے کپڑے اور فرزندان رسول کی عید

امام حسن اورا مام حسین کا بچپنا ہے عید آنے والی ہےاوران اسخیائے عالم کے گھرمیں نئے کپڑے کا کیا ذکر پرانے کپڑے بلکہ نان جویں تک نہیں ہے بچوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں مادرگرامی اطفال مدینہ عید کے دن زرق برق کپڑے پہن کرنکلیں گے اورہمارے پاس بالکل لباس نونہیں ہے ہم کس طرح عید منائیں گے ماں نے کہا بچوگھبراؤ نہیں، تمہارے کپڑے درزی لائے گا عید کی رات آئی بچوں نے ماں سے پھرکپڑوں کا تقاضا کیا،ماں نے وہی جواب دے کرنونہالوں کوخاموش کردیا۔

ابھی صبح نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک شخص نے دق الباب کیا، دروازہ کھٹکھٹایا فضہ دروازہ پرگئیں ایک شخص نے ایک بقچہ لباس دیا، فضہ نے سیدئہ عالم کی خدمت میں اسے پیش کیا اب جوکھولاتواس میں دوچھوٹے چھوٹے عمامے دوقبائیں،دوعبائیں غرضیکہ تمام ضروری کپڑے موجود تھے ماں کا دل باغ باغ ہوگیا وہ توسمجھ گئیں کہ یہ کپڑے جنت سے آئے ہیں لیکن منہ سے کچھ نہیں کہا بچوں کوجگایا کپڑے دئیے صبح ہوئی بچوں نے جب کپڑوں کے رنگ کی طرف توجہ کی توکہا مادرگرامی یہ توسفید کپڑے ہیں اطفال مدینہ رنگین کپڑے پہننے ہوں گے، امام جان ہمیں رنگین کپڑے چاہئیں ۔

حضور انورکواطلاع ملی، تشریف لائے، فرمایا گھبراؤ نہیں تمہارے کپڑے ابھی ابھی رنگین ہوجائیں گے اتنے میں جبرئیل آفتابہ لیے ہوئے آ پہنچے انہوں نے پانی ڈالا محمدمصطفی کے ارادے سے کپڑے سبزاورسرخ ہوگئے سبزجوڑاحسن نے پہنا سرخ جوڑاحسین نے زیب تن کیا، ماں نے گلے لگا لیا باپ نے بوسے دئیے نانا نے اپنی پشت پرسوارکرکے مہارکے بدلے زلفیں ہاتھوں میں دیدیں اورکہا،میرے نونہالو، رسالت کی باگ ڈورتمہارے ہاتھوں میں ہے جدھرچاہو موڑدو اورجہاں چاہولے چلو(روضة الشہداء ص ۱۸۹ بحارالانوار) ۔

بعض علماء کاکہناہے کہ سرورکائنات بچوں کوپشت پربٹھا کردونوں ہاتھوں اورپیروں سے چلنے لگے اوربچوں کی فرمائش پراونٹ کی آوازمنہ سے نکالنے لگے (کشف المحجوب)۔

امام حسین کا سردار جنت ہونا

پیغمبر اسلام کی یہ حدیث مسلمات اورمتواترات سے ہے کہ ”الحسن و الحسین سیدا شباب اہل الجنة و ابوہما خیر منہما“ حسن اور حسین جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے پدر بزرگواران دنوں سے بہترہیں (ابن ماجہ)صحابی رسول جناب حذیفہ یمانی کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سرور کائنات صلعم کو بے انتہا مسرور دیکھ کرپوچھا حضور،افراط مسرت کی کیا وجہ ہے فرمایا اے حذیفہ آج ایک ایسا ملک نازل ہوا ہے جومیرے پاس اس سے قبل کبھی نہیں آیا تھا اس نے مجھے میرے بچوں کی سرداری جنت پرمبارک دی ہے اورکہا ہے کہ”ان فاطمة سیدة نساء اہل الجنة وان الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة“ فاطمة جنت کی عورتوں کی سردارہیں اورحسنین جنت کے مردوں کے سردارہیں (کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۷، تاریخ الخلفاص ۱۲۳، اسدالغابہ ص ۱۲، اصابہ جلد ۲ ص ۱۲، ترمذی شریف، مطالب السول ص ۲۴۲، صواعق محرقہ ص ۱۱۴) ۔

اس حدیث سے سیادت علویہ کامسئلہ بھی حل ہوگیا قطع نظراس سے کہ حضرت علی میں مثل نبی سیادت کا ذاتی شرف موجود تھا اورخود سرورکائنات نے باربارآپ کی سیادت کی تصدیق سیدالعرب، سیدالمتقین، سیدالمومنین وغیرہ جیسے الفاظ سے فرمائی ہے حضرت علی کا سرداران جنت امام حسن اورامام حسین سے بہترہونا واضح کرتا ہے کہ آپ کی سیادت مسلم ہی نہیں بلکہ بہت بلند درجہ رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک جملہ اولاد علی سید ہیں یہ اوربات ہے کہ بنی فاطمہ کے برابرنہیں ہیں۔

امام حسین علیہ السلام

امام حسین عالم نمازمیں پشت رسول پر

خدا نے جوشرف امام حسن اورامام حسین کوعطا فرمایا ہے وہ اولاد رسول اورفرزندان علی میں آل محمد کے سواکسی کونصیب نہیں ان حضرات کا ذکرعبادت اوران کی محبت عبادت، یہ حضرات اگرپشت رسول پرعالم نمازمیں سوارہوجائیں، تونمازمیں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، اکثرایسا ہوتا تھا کہ یہ نونہالان رسالت پشت پرعالم نمازمیں سوار ہوجایا کرتے تھے اورجب کوئی منع کرنا چاہتا تھا توآپ اشارہ سے روک دیاکرتے تھے اورکبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ سجدہ میں اس وقت تک مشغول ذکررہا کرتے تھے جب تک بچے آپ کی پشت سے خود نہ اترآئیں آپ فرمایا کرتے تھے خدایا میں انہیں دوست رکھتا ہوں توبھی ان سے محبت کر؟ کبھی ارشاد ہوتا تھا اے دنیا والو! اگرمجھے دوست رکھتے ہوتومیرے بچوں سے بھی محبت کرو(اصابہ ص ۱۲ جلد ۲ ومستدرک امام حاکم ومطالب السؤل ص ۲۲۳) ۔

حدیث «حسین منی»

سرور کائنات نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے دنیا والو! بس مختصریہ سمجھ لوکہ ”حسین منی وانامن الحسین“حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں ۔ خدا اسے دوست رکھے جوحسین کو دوست رکھے (مطالب السؤل ص ۲۴۲، صواعق محرقہ ص ۱۱۴، نورالابصار ص ۱۱۳ ،صحیح ترمذی جلد ۶ ص ۳۰۷ ،مستدرک امام حاکم جلد ۳ ص ۱۷۷ و مسند احمد جلد ۴ ص ۹۷۲، اسدالغابہ جلد ۲ ص ۹۱ ،کنزالعمال جلد ۴ ص ۲۲۱)

مکتوبات باب جنت

سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ شب معراج جب میں سیرآسمانی کرتا ہوا جنت کے قریب پہنچا تودیکھا کہ باب جنت پرسونے کے حروف میں لکھا ہوا ہے۔

”لاالہ الااللہ محمد حبیب اللہ علی ولی اللہ وفاطمة امةاللہ

والحسن والحسین صفوة اللہ ومن ابغضہم لعنہ اللہ“

ترجمہ  :  خداکے سواکوئی معبودنہیں۔ محمدصلعم اللہ کے رسول ہیں علی، اللہ کے ولی ہیں ۔ فاطمہ اللہ کی کنیزہیں، حسن اورحسین اللہ کے برگزیدہ ہیں اوران سے بغض رکھنے والوں پراللہ کی لعنت ہے(ارجح المطالب باب ۳ ص ۳۱۳ طبع لاہور ۱۲۵۱ )

امام حسین اور صفات حسنہ کی مرکزیت

یہ تومعلوم ہی ہے کہ امام حسین حضرت محمد مصطفی صلی علیہ وآلہ وسلم کے نواسے،حضرت علی و فاطمہ کے بیٹے اورامام حسن کے بھائی تھے اورانہیں حضرات کو پنتن پاک کہا جاتا ہے اور امام حسین پنجتن کے آخری فرد ہیں یہ ظاہرہے کہ آخرتک رہنے والے اور ہردورسے گزرنے والے کے لیے اکتساب صفات حسنہ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، امام حسین ۳/ شعبان ۴ ہجری کو پیدا ہو کرسرور کائنات کی پرورش و پرداخت اور آغوش مادرمیں میں رہے اورکسب صفات کرتے رہے، ۲۸/ صفر   ۱۱ ہجری کوجب آنحضرت شہادت پا گئے اور ۳/ جمادی الثانیہ کوماں کی برکتوں سے محروم ہوگئے توحضرت علی نے تعلیمات الہیہ اورصفات حسنہ سے بہرہ ورکیا، ۲۱/ رمضان ۴۰ ہجری کوآپ کی شہادت کے بعد امام حسن کے سرپرذمہ داری عائد ہوئی ،امام حسن ہرقسم کی استمداد و استعانت خاندانی اورفیضان باری میں برابرکے شریک رہے، ۲۸/ صفر ۵۰ ہجری کوجب امام حسن شہید ہوگئے توامام حسین صفات حسنہ کے واحد مرکز بن گئے، یہی وجہ ہے کہ آپ میں جملہ صفات حسنہ موجود تھے اورآپ کے طرزحیات میں محمد وعلی و فاطمہ اورحسن کا کردارنمایاں تھا اورآپ نے جوکچھ کیا قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا، کتب مقاتل میں ہے کہ کربلامیں حب امام حسین رخصت آخری کے لیے خیمہ میں تشریف لائے توجناب زینب نے فرمایا تھا کہ ائے خامس آل عباآج تمہاری جدائی کے تصورسے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد مصطفی، علی مرتضی، فاطمةالزہراء، حسن مجتبی ہم سے جدا ہو رہے ہیں۔

امام حسین علیہ السلام

عمرکا اعتراف شرف آل محمد

عہدعمری میں اگرچہ پیغمبر اسلام کی آنکھیں بندہوچکی تھی اورلوگ محمد مصطفی کی خدمت اورتعلیمات کوپس پشت ڈال چکے تھے لیکن پھربھی کبھی کبھی ”حق برزبان جاری“ کے مطابق عوام سچی باتیں سن ہی لیا کرتے تھے ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ عمرمنبررسول پرخطبہ فرما رہے تھے ناگاہ حضرت امام حسین کاادھرسے گزر ہوا آپ مسجد میں تشریف لے گئے اور عمرکی طرف مخاطب ہوکربولے ”انزل عن منبر ابی“ میرے باپ کے منبرسے اتر آئیے اورجائیے اپنے باپ  کے منبر پربیٹھے آپ نے کہا کہ میرے باپ کا توکوئی منبرنہیں ہے اس کے بعدمنبرسے اترکرامام حسین کواپنے ہمراہ گھرلے گئے اوروہاں پہنچ کرپوچھا کہ صاحب زادے تمہیں یہ بات کس نے سکھائی ہے توانہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے سے کہا ہے، مجھے کسی نے سکھایا نہیں اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میرے ماں باپ تم پرفد اہوں، کبھی کبھی آیا کروآپ نے فرمایا بہترہے ایک دن آپ تشریف لے گئے تو عمرکومعاویہ سے تنہائی میں محوگفتگو پا کر واپس چلے گئے

محرم الحرام کے پيغام

یا ابا عبدالله

کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان کوہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں۔

(1) پیغمبر (ص) کی سنت کو زندہ کرنا:

بنی امیہ یہ کوشش کر رہے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی سنت کو مٹا کر زمانہٴ جاہلیت کے نظام کو جاری کیا جائے۔ یہ بات حضرت کے اس قول سے سمجھ میں آتی ہے کہ ”میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے یا فساد پھیلانے کے لئے نہیں جا رہا ہوں۔ بلکہ میرا مقصد امت اسلامی کی اصلاح اور اپنے جد پیغمبر اسلام (ص) و اپنے بابا علی بن ابی طالب کی سنت پر چلنا ہے۔“

(2) باطل کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو الٹنا:

بنی امیہ اپنے ظاہری اسلام کے ذریعہ لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ واقعہ کربلا نے ان کے چہرے پر پڑی اسلامی نقاب کوالٹ دیا،  تاکہ لوگ ان کے اصلی چہرے کو پہچان سکے۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ نے انسانوں و مسلمانوں کو یہ درس بھی دیا کہ انسان کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اور دین کامکھوٹا پہنے فریبکار لوگوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔

(3) امر بالمعروف کو زندہ رکھنا:

حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے، کہ  آپ کے اس قیام کا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر تھا ۔ آپنے ایک مقام پر بیان فرمایا کہ میرا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکرہے۔ایک دوسرے مقام پر بیان فرمایا کہ : اے اللہ! میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کو بہت دوست رکھتا ہے۔

(4) حقیقی اور ظاہری مسلمانوں کے فرق کو نمایاں کرنا:

آزمائش کے بغیر سچے مسلمانون، معمولی دینداروںا ور ایمان کے جھوٹے دعویداروں کو پہچاننا مشکل ہے۔ اور جب تک ان سب کو نہ پہچان لیا جائے، اس وقت تک اسلامی سماج اپنی حقیقت کا پتہ نہیں لگاسکتا۔ کربلا ایک ایسی آزمائش گاہ تھی جہاں پر مسلمانوں کے ایمان، دینی پابندی  و حق پرستی کے دعووں کوپرکھا جا رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے خود فرمایا کہ لوگ دینا پرست ہیں جب آزمائش کی جاتی ہے تودیندار کم نکلتے ہیں۔

(5) عزت کی حفاظت کرنا:

حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعلق اس خاندان سے ہے، جو عزت وآزادی کا مظہر ہے۔ امام علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے، ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا اور  دوسرا  عزت کے ساتھ موت کی آغوش میں سوجانا۔ امام نے ذلت کو پسند نہیں کیا اور عزت کی موت کو قبول کرلیا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ :  ابن زیاد نے مجھے تلوار اور ذلت کی زندگی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے، لیکن میںذلت کوقبول کرنے والا نہیں ہوں۔

(6) طاغوتی طاقتوں سے  جنگ:

امام حسین علیہ السلام کی تحریک طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھی۔ اس زمانے کا طاغوت یزید بن معاویہ تھا۔ کیونکہ امام علیہ السلام نے اس جنگ میں پیغمبراکرم (ص) کے قول کو سند کے طور پر پیش کیا ہے کہ ” اگر کوئی ایسے ظالم حاکم کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ا ور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کوحرام کررہا ہو،  تواس پر لازم ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے اللہ کی طرف سے سزا دی جائے گی۔“

(7) دین پر ہر چیز کو قربان کردینا چاہئے:

دین کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے بچانے کے لئے ہر چیز کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں ،بھائیوں اور اولاد کو بھی قربان کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے امام علیہ السلام نے شہادت کو قبول کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی اہمیت بہت زیادہ اور وقت پڑنے پر  اس کو بچانے کے لئے سب چیزوں کو قربان کردینا چاہئے۔

یا حسین بن علی

(8) شہادت کے جذبے کو زندہ رکھنا:

جس چیز پر دین کی بقا، طاقت، قدرت و عظمت کا دارومدار ہے  وہ جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ دین فقط نماز روزے کا ہی نام نہیں ہے یہ خونی قیام کیا ،تاکہ عوام میں جذبہٴ شہادت زندہ ہو اور عیش و آرام کی زندگی کا خاتمہ ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد  فرمایاکہ :  میں موت کو سعادت سمجھتا ہوں۔ آپ کا یہ جملہ دین کی راہ میں شہادت کے لئے تاکید ہے۔

(9)اپنے ہدف پرآخری دم تک  باقی رہنا:

جو چیز عقیدہ کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے، وہ ہے اپنے  ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا۔ امام علیہ السلام نے عاشورا کی پوری تحریک میںیہ ہی کیا ،کہ اپنی آخری سانس تک اپنے ہدف پر باقی رہے اور دشمن کے سامنے  تسلیم نہیں ہوئے۔ امام علیہ السلام نے امت مسلمہ کو ایک بہترین درس  یہ دیا کہ حریم مسلمین سے تجاوز کرنے والوںکے سامنے ہرگز نہیں جھکنا  چاہئے۔

(10)جب حق کے لئے لڑو تو ہر طبقہ سے کمک حاصل کرو:

کربلا سے، ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر سماج میں اصلاح یا انقلاب منظور نظر ہو تو سماج میں موجود ہر س طبقہ سے مدد حاصل کرنی چاہئے۔ تاکہ ہدف میں کامیابی حاصل ہو سکے۔امام علیہ السلام کے ساتھیوں میں جوان، بوڑھے، سیاہ سفید، غلام آزاد سبھی طرح کے لوگ موجود تھے۔

(11) افراد کی قلت سے گھبرانا نہیںچاہئے :

کربلا ،امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے اس قول کی مکمل طور پر جلوہ گاہ ہے کہ ”حق و ہدایت کی راہ میں افراد کی تعدا د کی قلت  سے نہیںگھبرانا چاہئے۔“  جو لوگ اپنے ہدف پر ایمان رکھتے ہیں ان کے پیچھے بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے ساتھیوں کی تعداد کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہئے اور نہ ہی ہدف سے پیچھے ہٹنا چاہئے۔ امام حسین علیہ السلام اگر تنہا بھی رہ جاتے تب بھی حق سے دفاع کرتے رہتے اور اس کی دلیل آپ کا وہ قول ہے جو آپ نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ آپ سب جہاں چاہو چلے جاؤ یہ لوگ فقط میرے —–۔

(12)ایثار کے ساتھ سماجی تربیت کوملا دینا:

کربلا ،تنہا جہاد و شجاعت کا میدان نہیں ہے بلکہ سماجی تربیت و  وعظ ونصیحت کا مرکز بھی ہے۔ تاریخ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا یہ پیغام  پوشیدہ ا ہے۔ امام علیہ السلام نے شجاعت، ایثار اور اخلاص کے سائے میں اسلام کو نجات دینے کے ساتھ لوگوں کو بیدار کیا اور ان کی فکری و دینی سطح کو بھی بلند کیا،تاکہ یہ سماجی و جہادی تحریک ،اپنے نتیجہ کو حاصل کرکے نجات بخش بن سکے۔

یا حسین

(13) تلوار پر خون کوفتح:

مظلومیت سب سے اہم اسلحہ ہے۔ یہ احساسات کو جگاتی ہے اور واقعہ کو جاودانی بنادیتی ہے۔ کربلا میں ایک طرف ظالموں کی ننگی تلواریں تھی اور دوسری طرف مظلومیت۔ ظاہراً امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھی شہید ہو گئے۔ لیکن کامیابی انھیں کو حاصل ہوئی۔ ان کے خون نے جہاں باطل کو رسوا کیا وہیں حق کو مضبوطی بھی عطا کی۔ جب مدینہ میں حضرت امام سجاد علیہ السلام سے ابراہیم بن طلحہ نے سوال کیا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟  تو آپ نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ تو نماز کے وقت ہوگا۔

(14) پابندیوں سے نہیں گھبرانا چاہئے:

کربلا کا ایک درس یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے عقید و ایمان پر قائم رہنا چاہئے۔ چاہے تم پر فوجی و اقتصادی پابندیاں ہی کیوں نہ لگی ہوں۔ امام علیہ حسین السلام پر تمام پابندیاں لگی ہوئی تھی۔ کوئی آپ کی مدد نہ کرسکے اس لئے آپ کے پاس جانے والوں پر پابندی تھی۔ نہر سے پانی لینے پر پابندی تھی۔ مگر ان سب پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی کربلا والے نہ اپنے ہدف سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی دشمن کے سامنے جھکے۔

(15) نظام :

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی پوری تحریک کو ایک نظام کے تحت چلایا۔ جیسے ،بیعت سے انکار کرنا، مدینہ کو چھوڑ کر کچھ مہینے مکہ میں رہنا، کوفہ و بصرے کی کچھ شخصیتوں کو خط لکھ کر انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لئے دعوت دینا۔ مکہ، منیٰ اور کربلا کے راستے میں تقریریں کرنا وغیرہ۔ ان سب کاموںکے ذریعہ امام علیہ السلام اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عاشورا کے قیام کا کوئی بھی جز بغیر تدبیر کے پیش نہیں آیا۔ یہاں تک کہ عاشور کی صبح کو امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کے درمیان جو ذمہ داریاں تقسیم کی تھیں وہ بھی ایک نظام کے تحت تھیں۔

(16) خواتین کے کردار سے  استفادہ:

خواتین نے اس دنیا کی بہت سی تحریکوں میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پیغمبروں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو حضرت عیسیٰ ، حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم علیہم السلام—— یہاں تک کہ پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے کے واقعات میں بھی خواتین کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ اسی طرح کربلا کے واقعات کو جاوید بنانے میں بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت سکینہ علیہا السلام، اسیران اہل بیت اورکربلا کے دیگر شہداء کی بیویوں کا اہم کردار رہا ہے۔ کسی بھی تحریک کے پیغام کو عوام تک پہونچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کربلا کی تحریک کے پیغام کو عوام تک اسیران کربلا نے  ہی پہنچایا ہے۔

(17)میدان جنگ میں بھی  یاد  خدا:

جنگ کی حالت میں بھی اللہ کی عبادت ا ور اس کے ذکرکو نہیں بھولنا چاہئے۔  میدان جنگ میں بھی عبادت و یادخدا ضروری ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور دشمن سے جو مہلت لی تھی، اس کا مقصدتلاوت قرآن کریم ، نماز اور اللہ سے مناجات تھا۔ اسی لئے اپنے فرمایاتھاکہ میں نماز کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔ شب عاشور آپ کے خیموں سے پوری رات عبادت و مناجات کی آوازیں آتی رہیں۔ عاشور کے دن امام علیہ السلام نے نماز ظہر کو اول وقت پڑھا۔ یہی نہیں بلکہ اس پورے سفر میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی نماز شب بھی قضا نہ ہوسکی ، چاہے آپ کو بیٹھ کر ہی نماز کیوں نہ پڑھنی پڑی ہو۔

(18) اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا:

سب سے اہم بات انسان کا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ چاہے اس ذمہداری کو نبہانے میں انسان کو ظاہری طور پر کامیابی نظر نہ آئے۔ اور یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی اپنی ذمہ داری کوپورا کرنا ہے ، چاہے اسکا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی، اپنے کربلا کے سفر کے بارے میں یہی فرمایا تھاکہ جو اللہ چاہے گا بہتر ہوگا، چاہے میں قتل ہو جاؤں یا مجھے (بغیر قتل ہوئے) کامیابی مل جائے۔

(19) مکتب کی بقاء کے لئے قربانی:

دین کے معیار کے مطابق، مکتب کی اہمیت، پیروان مکتب سے زیادہ ہے۔ مکتب کو باقی رکھنے کے لئے حضرت علی علیہ السلام و حضرت امام حسین علیہ السلام جیسی معصوم شخصیتوں نے بھی اپنے خون و جان کو فدا کیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کی بیعت  دین کے اہداف کے خلاف ہے لہٰذا بیعت سے انکار کردیا اور دینی اہداف کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کردی، اور امت مسلمہ کو سمجھا دیا کہ مکتب کی بقا کے لئے مکتب کے چاہنے والوں کی قربانیاںضروری ہے۔ انسان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قانون فقط آپ کے زمانہ سے ہی مخصوص نہیں  تھا بلکہ ہر زمانہ کے لئے ہے۔

کبوتر

(20)  اپنے رہبر کی حمایت ضروری ہے:

کربلا ،اپنے رہبر کی حمایت کی سب سے عظیم جلوہ گاہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کے سروں سے اپنی بیعت کو اٹھالیا تھااور فرمایا تھا جہاں تمھارا دل چاہے چلے جاؤ۔ مگر آپ کے ساتھی آپ سے جدا نہیں ہوئے اور آپ کو دشمنون کے نرغہ میں تنہا نہ چھوڑا۔ شب عاشور آپ کی حمایت کے سلسلہ میں حبیب ابن مظاہر اور ظہیر ابن قین کی بات چیت قابل غور ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے اصحاب نے میدان جنگ میں جو رجز پڑہے ان سے بھی اپنے رہبر کی حمایت ظاہر ہوتی ہے ،جیسے حضرت عباس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم نے میران داہنا ہاتھ جدا کردیا تو کوئی بات نہیں، میں پھر بھی اپنے امام ودین کی حمایت کروں گا۔

مسلم ابن عوسجہ نے آخری وقت میں جو حبیب کو وصیت کی وہ بھی یہی تھی کہ امام کو تنہا نہ چھوڑنا اور ان پر اپنی جان قربان کردنیا۔

(21) دنیا ، خطرناک لغزش گاہ ہے:

دنیا کے عیش و آرام و مالو دولت کی محبت تمام سازشوںا ور فتناو فساد کی جڑہے۔  میدان کربلا میں جو لوگ گمراہ  ہوئے یا جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیںکیا، ان کے دلوں میں دنیا کی محبت سمائی ہوئی تھی۔ یہ دنیا کی محبت ہی تو تھی جس نے ابن زیاد وعمر سعد کو امام حسین علیہ السلام کا خون بہانے پر آمادہ کیا۔ لوگوں نے شہر ری کی حکومت کے لالچ اور امیر سے ملنے والے انعامات کی امید پر امام علیہ السلام کا خون بہا یا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے آپ کی لاش پر گھوڑے دوڑآئے انھوںنے بھی ابن زیاد سے اپنی اس کرتوت کے بدلے انعام چاہا۔ شاید اسی لئے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ لوگ دنیا پرست ہوگئے ہیں، دین فقط ان کی زیانوں تک رہ گیا ہے۔ خطرے کے وقت وہ دنیا کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔ چونکہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کے دلوں میں دنیا کی ذرا برابربھی محبت نہیں تھی ،اس لئے انھوں نے بڑے آرام کے ساتھ اپنی جانوں کو راہ خدا میں قربان کردیا۔ امام حسین علیہ السلام نے عاشور کے دن صبح کے وقت جو خطبہ دیا اس میں بھی دشمنوں سے یہی فرمایا کہ تم دنیا کے دھوکہ میں نہ آجانا۔

(22) توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے:

توبہ کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا، انسان جب بھی توبہ کرکے صحیح راستے پر آ جائے بہتر ہے۔ حر جو امام علیہ السلام کو گھیرکر کربلا کے میدان میں لایا تھا، عاشور کے دن صبح کے وقت باطل راستے سے ہٹ کر حق کی راہ پر آگیا۔ حر امام حسین علیہ السلام کے قدموں پر اپنی جان کو قربان کرکے، کربلا کے عظیم ترین شہیدوں میں داخل ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے لئے ہر حالت میں اور ہر وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔

(23) آزادی:

کربلا ،آزادی کا مکتب ہے اور امام حسین علیہ السلام اس مکتب کے معلم ہیں۔ آزادی وہ اہم چیز ہے جسے ہر انسان پسندکرتا ہے۔ امام علیہ السلام نے عمر سعد کی فوج سے کہا کہ اگر تمھارے پاس دین نہیں ہے اور تم قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے ہو تو کم سے کم آزاد انسان بن کر تو جیو۔

(24) جنگ میں ابتداء نہیں کرنی چاہئے:

اسلام میں جنگ کو اولویت نہیں ہے۔ بلکہ جنگ، ہمیشہ انسانوںکی ہدایت کی راہ میں آنے والی رکاوٹ ک دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اسی لئے پیغمبر اسلام (ص) حضرت علی علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام نے ہمیشہ یہی کوشش کی، کہ بغیر جنگ کے معاملہ حل ہوجائے۔ اسی لئے  آپنے کبھی بھی جنگ میں ابتداء نہیں کی۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ ہم ان سے جنگ میں  ابتداء نہیں کرےں گے۔

(25)انسانی حقوق کی حمایت:

کربلا جنگ کا میدان تھا ،مگر امام علیہ السلام نے انسانوں کے مالی حقوق کی مکمل حمایت کی۔ کربلا کی زمین کو اس کے مالکوں سے خرید کر وقف کیا۔ امام علیہ السلام نے جو زمین خریدی اس کا حدود اربع  چارضر ب چار میل تھا۔ اسی طرح امام علیہ السلام نے عاشور کے دن فرمایا کہ اعلان کردو کہ جو انسان مقروض ہو وہ میرے ساتھ نہ رہے۔

(26)  اللہ سے راضی رہنا:

انسان کا سب سے بڑا کمال، ہر حال میں اللہ سے راضی رہنا ہے ۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ ہم اہل بیت کی رضا وہی ہے جو اللہ کی مرضی ہے۔ اسی طرح آپ نے زندگی کے آخری لمحہ میں بھی اللہ سے یہی مناجات کی کہ پالنے والے! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں۔

مقامِ منی میں اہلِ بیت کے حق کو بتاتے ہوئےامام حسین (ع) کا خطبہ

سلیم بن قیس کہتے ہیں: امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد امت میں فتنہ و فساد بہت زیادہ پیدا ہوگیا تھا۔ صورتحال یہ تھی کہ ہر اللہ کا دوست اپنی موت کے بارے خائف تھا یا شہر سے نکالے جانے کے ڈر میں مبتلا تھا جبکہ ہراللہ کا دشمن انتہائی آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہا تھا۔

بہرحال مرگِ معاویہ سے ایک سال پہلے امام حسین علیہ السلام، جنابِ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ ابن جعفر کو ہمراہ لئے حج بیت اللہ کیلئے مشرف ہوئے تو امام علیہ السلام نے بنی ہاشم کے مردوں، عورتوں اور غلاموں کے علاوہ اپنے آپ کو پہچاننے والے لوگوں کو اور اپنے اہلِ بیت کو اکٹھا کیا، یہاں تک کہ سات سو سے بھی زیادہ لوگ ، جن میں اکثر تابعین تھے اور تقریباً ۲۰۰ آدمی اصحابِ پیغمبر میں سے تھے، یوں خطبہ دیا۔

حمد ِ الٰہی کے بعد فرمایا:

بہرحال اس سرکش اور تجاوز کرنے والے (معاویہ ) نے ہم اور ہمارے شیعوں پر ایسے ایسے ظلم روا رکھے ہیں کہ جن کے متعلق تم خود شاہد ہو۔ اس کے مظالم کے متعلق تم تک پوری خبریں پہنچ چکی ہیں۔ ایسی صورتحال میں تم سے پوچھتا ہوں۔

اگر میں سچ بولوں تو میری تصدیق کرو اور اگر خلافِ واقعہ بیان کروں تو میری تکذیب کرو۔ سب سے پہلے میں اللہ اور رسولِ خدا اور سے اپنی قرابت داری کے حق کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ میری باتوں کو غور سے سنو اور ضبطِ تحریر میں لاؤ۔ جب بھی تم اپنے اپنے شہروں میں ، اپنے قبیلے کے افراد کے پاس جاؤ تو ان میں سے جن لوگوں کے متعلق تم یقین اور وثوق رکھتے ہو، ہمارے ان حقوق کے متعلق پردہ اٹھاؤکیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حق کہنہ ہوکر ختم ہوجائے یا اہلِ باطل اس پر غالب آ جائیں۔ہاں! یہ بات مسلّم ہے کہ خدا اپنے نور کو مکمل کرکے ہی رہے گا ، چاہے کافروں کیلئے سخت ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔

سلیم بن قیس کہتے ہیں:جو کچھ قرآن میں ان کے والدین اور اہلِ بیت اطہار کے بارے نازل ہوا ہے، جو کچھ پیغمبر نے ان کے بارے ارشاد فرمایا، انہوں نے بیان کردیا۔

ہر بات پر صحابہ کرام اس طرح تائید کرتے رہے کہ ہاں! ہم نے یہ بات سنی تھی اور گواہی دیتے ہیں جبکہ تابعی یوں تائید کرتے کہ ہم نے اپنے موردوثوق صحابہ کرام سے سنی ہے۔ پھر امام علیہ السلام یوں گویا ہوئے: خدا کی قسم! یہ باتیں اپنے قابل اعتماد دوستوں کو بتاؤ۔

سلیم بن قیس کہتے ہیں کہ سب سے سخت اور رقت آمیز گفتگو یہ تھی:

فرمایا: خدا کی قسم! کیا تم جانتے ہوکہ جب پیغمبر اسلام(ص) نے صحابہ کرام کے درمیان برادری قائم کی تو اس وقت علی علیہ السلام کو اس طرح اپنا بھائی بنایا: فرمانے لگے کہ اے علی ! دنیا اور آخرت میں میں تمہارا اور تم میرے بھائی ہو۔ تمام حاضرین نے بیک زبان تائید کی۔

پھر فرمایا: خدا کی قسم!کیا تم جانتے ہو کہ جب پیغمبر اسلام(ص)نے اپنی مسجد تعمیر کرنے کیلئے زمین خریدی، پھر مسجد تعمیر کی، پھر مسجد کے اطراف میں دس گھر بنائے جن میں سے نو گھر اپنے لئے اور ایک گھر جو درمیان میں تھا، ہمارے والد گرامی کیلئے بنایا۔ پھر مسجد کی طرف تمام کھلنے والے دروازوں کو بند کردیا، سوائے میرے والد ِگرامی کے دروازے کے۔ جب لوگوں نے اس حوالہ سے باتیں کیں تو فرمایا کہ جس طرح نہ میں نے تمہارے دروازے اپنی مرضی سے بند کئے، اسی طرح علی علیہ السلام کا دروازہ بھی اپنی مرضی سے کھلا نہیں رکھا بلکہ یہ سب کچھ حکمِ خداوندی کے تحت ہوا ہے۔ پھر سوائے علی علیہ السلام کے تمام کو مسجد میں سونے سے منع فرما دیا جبکہ اُسی مسجد میں پیغمبر اسلام(ص)کیلئے اولادیں پیدا ہوئیں۔

اس بات پر بھی سب نے تائید کی۔

کیا تم جانتے ہو کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے اپنے گھر سے مسجد کی طرف ایک چھوٹا سا سوراخ رکھنے پر اصرار کیا لیکن پیغمبر اسلام(ص)نے ایک نہ مانی بلکہ یوں خطبہ ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں ایسی پاک و پاکیزہ مسجد تیار کروں جس میں علی اور ان کے دو بیٹے فقط رہ سکتے ہیں۔

پھر بھی سب لوگوں نے تائید کی۔

میں تمہیں خد اکی قسم دیتا ہوں ، کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے غدیر خم میں میرے والد گرامی کو یوں منصوب کیا کہ بلند آواز میں ان کی ولایت کا اعلان کیا اور فرمایا کہ ضروری ہے کہ حاضرین وغائبین کو اطلاع کردیں۔

پھر سب لوگوں نے تائید کی۔پھر فرمایا:

خدا کی قسم! کیا تم نہیں جانتے ہو کہ پیغمبر اسلام(ص)نے غزوئہ تبوک میں میرے والد گرامی سے یوں فرمایا تھا کہ آپ کی میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کی حضرت موسیٰ سے تھی اور میرے بعد تمام موٴمنین کے ولی و سرپرست ہیں۔

پھر بھی سب نے تائید کی۔پھر فرمایا:

خدا کی قسم کھا کے بتاؤ کہ کیا اہلِ نجران کے ساتھ مباہلہ کرنے کیلئے پیغمبر اسلام(ص)سوائے ہم پنجتن کے کسی کو بھی ہمراہ لے کر گئے تھے؟

پھر بھی سب نے تائید کی۔ اس کے بعد فرمایا:

خدا کی قسم! کیا تم جانتے ہو کہ جنگ خیبر میں پیغمبر اسلام(ص)نے علمدار علی علیہ السلام کو بنایا اور فرمایا کہ آج پرچم ایسے شخص کو دے رہا ہوں کہ جسے اللہ اور اللہ کا رسول دوست رکھتے ہیں اور وہ خدا اور رسولِ خدا کو دوستے رکھتا ہے۔ مزید اس کی نشانی یہ ہے کہ پلٹ پلٹ کر حملے کرتا ہے اور میدانِ جنگ سے فرار کرنے والا بھی نہیں ہے۔ یقینا خدا اُس کے ہاتھوں ہی اسلام کو فتح دیتا ہے۔

پھر بھی سب نے تائید کی۔ پھر فرمایا:

کیا تم جانتے ہو کہ رسولِ خدا نے میرے والد کو سورة برأت مکہ پہنچانے کیلئے بھیجا اور فرمایا کہ اس سورة کو خود میں یا کوئی میرے جیسا ہی مکہ میں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔

اس پر بھی سب نے تائید کی۔پھر آپ نے فرمایا:

کیا تم جانتے ہو کہ ہر مشکل گھڑی میں پیغمبر نے میرے والد ِ گرامی کو آگے کیا کیونکہ ان کے بارے میں وثوق رکھتے تھے۔ کبھی بھی پیغمبر نے ان کو نام سے نہیں پکارا بلکہ کہتے تھے:” اے بھائی علی “، یا کہتے تھے کہ میرے بھائی کو بلاؤ۔

اس پر پھر سب نے تائید کی۔ اس کے بعد آپ یوں مخاطب ہوئے:

کیا تم جانتے ہو کہ پیغمبر اسلام(ص)نے ان کے اور حضرت جعفر، حضرت زید کے درمیان قضاوت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے علی ! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔تم میرے بعد تمام موٴمنوں کے ولی اور سرپرست ہو۔

پھر سب نے تائید کی۔پھر فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ میرے والد گرامی ہر دن اور رات میں پیغمبر اسلام(ص)سے تنہائی میں ملاقات کرتے تھے۔ جب بھی انہوں نے سوال کیا، پیغمبر اسلام(ص)نے جواب دیا اور جب بھی وہ خاموش ہوئے،رسولِ خدا نے گفتگو کا آغاز فرمایا۔

اس کی بھی سب نے بھرپور تائید کی۔ پھر امام علیہ السلام نے فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے علی علیہ السلام کو جنابِ جعفر اور حضرت حمزہ پر یوں کہہ کر برتری دی کہ اے فاطمہ ! تمہارا اپنے خاندان میں سب سے اچھے آدمی کے ساتھ عقد کیا ہے جو اسلام، حلم اور علم میں سب سے افضل ہے۔

اس پر بھی سب نے تائید کی۔ پھر فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)کا ارشاد ہے کہ میں پوری انسانیت کا سید و سردار ہوں جبکہ علی تمام عرب کے سردار ہیں۔ حضرت فاطمہ تمام اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں جبکہ حسن اور حسین میرے دو بیٹے جوانانِ جنت کے سردار ہیں۔

اس پر پھر سب نے تائید کی۔ اس کے بعد فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے اپنے آپ کو غسل دلوانے کیلئے علی علیہ السلام کو حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جبرائیل آپ کی مدد کریں گے۔

سب نے کہا:جی ہاں!یہ درست ہے۔پھر آپ نے فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے اپنی زندگی کا آخری خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، ایک کتاب اللہ اور دوسرے اپنے اہلِ بیت ۔ پس ان دونوں سے تمسک رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔

سلیم بن قیس کہتے ہیں : جو کچھ علی اور اہلِ بیت ِ اطہار کے بارے میں قرآن اور روایات میں بیان ہوا تھا، امام علیہ السلام نے سب کچھ بیان کرتے ہوئے لوگوں سے ان پر اقرار لیا اور جواب میں صحابہ کرام یوں کہتے کہ ہاں! ہم نے خود پیغمبر اسلام(ص)سے سنا جبکہ تابعین کہتے تھے کہ ہم نے فلاں فلاں موثق آدمیوں سے سنا ہے۔

پھر امام حسین علیہ السلام نے صحابہ کرام کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا پیغمبر اسلام(ص)نے یہ فرمایا تھا کہ وہ آدمی جھوٹ بولتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ مجھے دوست رکھتا ہے جبکہ حضرت علی علیہ السلام کو دشمن رکھتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ علی علیہ السلام کو دشمن رکھتا ہو جبکہ مجھے دوست رکھتا ہو؟کسی نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ تو فرمانے لگے: چونکہ علی علیہ السلام مجھ سے ہیں اور میں علی علیہ السلام سے ہوں۔ جو علی علیہ السلام سے محبت رکھتا ہو، وہ مجھ سے بھی محبت رکھتا ہے اور مجھے دوست رکھنے والا گویا اللہ کو دوست رکھتا ہے۔ جو علی علیہ السلام سے بغض رکھتا ہو، وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے اور مجھ سے بغض رکھنے والا اللہ تعالیٰ سے بغض رکھتا ہے۔

یہاں پر بھی تمام حاضرین نے تائید کی اور کہا کہ ہاں! ہم نے سنا ہے اور پھرمنتشر ہوگئے۔(تحف العقول:۲۳۷،احتجاج:۲۹۶)

کربلا ميں حضرت امام حسين کے ورود سے ليکرنويں محرم الحرام تک کے مختصر واقعات

کاروان

کربلا میں ورود

2محرم الحرام 61 ھ بروزجمعرات کو امام حسین علیہ السلام وارد کربلا ہو گئے۔ واعظ کاشفی اور علامہ اربلی کا بیان ہے کہ جیسے ہی امام حسین (ع) نے زمین کربلا پر قدم رکھا زمین کر بلا زرد ہو گئی اور ایک ایسا غبار اٹھا جس سے آپ کے چہرئہ مبارک پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے۔یہ دیکھ کر اصحاب ڈرگئے اور جنابِ اُم کلثوم رونے لگیں۔

صاحب مخزن البکا لکھتے ہیں کہ کربلا پر درود کے فوراََ بعد جنابِ ام کلثوم نے امام حسین (ع) سے عرض کی،بھائی جان یہ کیسی زمین ہے کہ اس جگہ ہمارادل دھل رہا ہے۔ امام حسین (ع) نے فرمایا بس یہ وہی مقام ہے جہاں بابا جان نے صفیں کے سفر میں خواب دیکھا تھا۔یعنی یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارا خون بہے گا۔کتاب مائتین میں ہے کہ اسی دن ایک صحابی نے ایک بیری کے درخت سے مسواک کے لیے شاخ کاٹی تواس سے خون تازہ جاری ہو گیا۔

امام حسین (ع) کا خط اہل کوفہ کے نام

کربلا پہنچنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے اتمام حجت کیلئے اہل کوفہ کے نام قیس ابن مسھر کے ذریعہ سے ایک خط ارسال فرمایا۔جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ تمھاری دعوت پر میں کربلا تک آگیا ہوں الخ۔قیس خط لیے جارہے تھے کہ راستے میں گرفتار کر لیے گئے۔اور انھیں ابن زیاد کے سامنے کوفہ لے جاکر پیش کر دیا گیا۔ابن زیاد نے خط مانگا۔قیس نے بروایتے چاک کرکے پھینک دیا اوربروایتے اس خط کو کھا لیاابن زیاد نے انھیں بضرب تازیانہ شہید کر دیا۔

عبیداللہ ابن زیاد کا خط امام حسین (ع) کے نام

علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسین (ع) کے کربلا پہنچنے کے بعد حرنے ابن زیاد کو آپ کی رسیدگی کربلا کی خبردی۔ا س نے امام حسین (ع) کو فوراََ ایک خط ارسال کیا۔جس میں لکھا کہ مجھے یزید نے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے اس کے لیے بیعت لے لوں ،یا آپ کو قتل کر دوں۔امام حسین (ع) نے اس خط کا جواب نہ دیا۔اَلقَاہُ مِن یَدِہاور اسے زمین پر پھینک دیا۔  اس کے بعد آپ نے محمد بن حنفیہ کو اپنے کربلاپہنچنے کی ایک خط کے ذریعہ سے اطلاع دی اور تحریر فرمایا کہ میں نے زندگی سے ہاتھ دھولیا ہے اور عنقریب عروس موت سے ہم کنار ہو جاؤں گا۔

دوسری محرم سے نویں محرم تک کے مختصر واقعات

دوسری محرم ۶۱ ء ہجری

دوسری محرم الحرام ۶۱ ھجری کو آپ کا کربلا میں ورود ہوا۔آپ نے اہل کوفہ کے نام خط لکھا۔آپ کے نام ابن زیاد کاخط آیا،اسی تاریخ کو آپ کے حکم سے برلبِ فرات خیمے نصب کئے گئے۔  حرنے مزاحمت کی اور کہا کہ فرات سے دور خیمے نصب کیجئے۔  عباس ابن علی کو غصہ آگیا  امام حسین (ع) نے غصہ کوفروکیا۔اور بقول علامہ اسفر ائنی ۳یا۵میل کے فاصلہ پر خیمے نصب کئے گئے  نصبِ خیام کے بعد ابھی آپ اس میں داخل نہ ہوئے تھے۔کہ چند اشعار آپ کی زبان پر جاری ہوئے۔جنابِ زینب نے جونہی اشعار کو سنا اس درجہ روئیں کہ بے ہوش ہوگئیں۔امام نے رخسار پر پانی چھڑک کر باہوش کیا  پھر آلِ محمد داخل خیمہ ہوئے۔اس کے بعد ساٹھ ہزار درہم پر ۱۶مربع میل زمین خرید کر چند شرائط کے ساتھ انھیں کو ہبہ کر دی۔

تیسری محرم الحرام یوم جمعہ

تیسری محرم الحرام یوم جمعہ کو عمر ابن سعد۵،۶اور بقول علامہ اربلی ۲۲ ہزار سوار و پیادے لے کر کربلا پہنچا اور اس نے امام حسین (ع) سے تبادلہ خیالات کی خواہش کی۔حضرت نے ارادہ کوفہ کا سبب بیان فرمایا۔اس نے ابن زیاد کوگفتگو کی تفصیل لکھ دی اور یہ بھی لکھا کہ امام حسین (ع) فرماتے ہیں کہ اگر اب اہل کوفہ مجھے نہیں چاہتے تو میں واپس جانے کوتیارہوں ۔ابن زیاد نے عمر بن سعد کے جواب میں لکھا کہ اب جب کہ ہم نے حسین (ع) کو چنگل میں لے لیا ہے تو وہ چھٹکارا چاہتے ہیں۔لات حین مناص۔یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ان سے کہہ دو کہ یہ اپنے تمام اعزاواقرباسمیت بیعت بزید کریں یاقتل ہونے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔میں بیعت سے پہلے ان کی کسی بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں  اسی تیسری تاریخ کی شام کو حبیب ابن مظاہر قبیلہ ابنی اسد میں گئے ا ور ان میں سے جانبازامداد حسینی کے لیے تیار کئے وہ انھیں لارہے تھے کہ کسی نے ابن زیاد کو اطلاع کر دی۔اس نے ۴۰۰ سوکالشکر بھیج کر اس کمک کو روکوا دیا۔

چوتھی محرم الحرام یوم شنبہ۔ہفتہ

چوتھی محرم الحرام یوم شنبہ کوابن زیاد نے مسجد جامع میں ایک خطبہ دیا جس میں اس نے امام حسین (ع) کے خلاف لوگوں کو بھڑکایااور کہا کہ حکم یزید سے تمھارے لیے خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں تم اس کے دشمن حسین (ع) سے لڑنے کے لیے آمادہ ہوجاؤ۔اس کے کہنے سے بے شمار لوگ آمادئہ کر بلا ہو گئے اور سب سے پہلے شمر نے روانگی کی درخواست کی ۔چنانچہ شمر کو چارہزار،ابن رکاب کو دوہزار،ابن نمیر کو چار ہزار ،ابن رھینہ کوتین ہزار،ابن خرشہ کو دو ہزار سواردے کر روانہ کر بلا کردیا گیا۔

پانچویں محرم الحرم یوم یک شنبہ۔ اتوار

پانچویں محرم الحرام یوم یک شنبہ اتوار کو شیث ابن ربعی کو چار ہزار،عروہ ابن قیس کو چار ہزار سنان ابن انس کو دس ہزار،محمد ابن اشعث کو ایک ہزار ۔عبداللہ ابن حصین کو ایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کر دیا گیا۔

چھٹی محرم الحرام بروز پیر

چھٹی محرم الحرام بروز پیر کو خولی ابن یزید اصبحی کو دس ہزار کعب ابن الحروکوتین ہزار،حجاج ابن حرکوایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کر دیا گیا۔ان کے علاوہ چھوٹے بڑے اور کئی لشکر ارسال کر نے کے بعد ابن زیاد نے عمر ابن سعد کو لکھا کہ اب تک تجھے اسی ہزار کا کوفی لشکر بھیج چکا ہوں،ان میں حجازی اور شامی شامل نہیں ہیں۔تجھے چاہئے کہ بلاحیلہ حوالہ حسین کو قتل کر دے۔ اسی تاریخ کو خوبی ابن یزید نے ابن زیاد کے نام ایک خط ارسال کیا جس میں عمر ابن سعد کے لیے لکھا کہ یہ امام حسین(ع) سے رات کو چھپ کر ملتا ہے۔اور ان سے بات چیت کیاکرتا ہے۔ابن زیاد نے اس خط کو پاتے ہی عمر سعدکے نام ایک خط لکھا کہ مجھے تیری تمام حرکتوں کی اطلاع ہے تو چھپ کر باتیں کرتا ہے۔دیکھ میرا خط پاتے ہی امام حسین (ع) پر پانی بند کر دے اور انھیں جلد سے جلد موت کے گھاٹ اتار نے کی کوشش کر۔

ساتویں محرم الحرام بروز منگل

ساتویں محرم الحرام بروزمنگل عمر ابن حجاج کو پانچ سوسواروں سمیت نہرفرات پر اس لیے مقرر کر دیا گیا کہ امام حسین (ع) کے خیمہ تک پانی نہ پہنچنے پائے  پھر مزید احتیاط کے لیے چار ہزار کا لشکر دے کر حجر کو ایک ہزار کا لشکر دے کر شیث ابن ربعی کو روانہ کیا گیا۔ اور پانی کی بندش کر دی گئی۔پانی بند ہو جانے کے بعد عبداللہ ابن حصین نے نہایت کر یہہ لفظوں میں طعنہ زنی کی  جس سے امام حسین (ع) کو سخت صدمہ پہنچا  پھر ابن حوشب نے طعنہ زنی کی جس کا جواب حضرت عباس نے دیا۔  آپ نے غالباََ طعنہ زنی کے جواب میں خیمہ سے ۱۹قدم کے فاصلہ پر جانب قبلہ ایک ضرب تیشہ سے چشمہ جاری کر دیا۔  اور یہ بتادیا کہ ہمارے لیے پانی کی کمی نہیں ہے۔لیکن ہم اس مقام پرمعجزہ دکھانے نہیں آئے بلکہ امتحان دینے آئے ہیں۔

آٹھویں محرم الحرام بروز بدھ

آٹھویں محرم الحرام بروزبدھ کی شب کو خیمہ آلِ محمد سے پانی بالکل غائب ہو گیا۔اس پیاس کی شدت نے بچوں کو بے چین کر دیا ہے۔امام حسین (ع) نے حالات کو دیکھ کر حضرت عباس کو پانی لانے کا حکم دیا آپ چند سواروں کو لے کر تشریف لے گئے اور بڑی مشکلوں سے پانی لائے۔وَلِذَالِکَ سُمِیَ العَبَّاسُ السقَاء اسی سقائی کی وجہ سے عباس(ع) کو سقاء کہا جاتا ہے۔  رات گزرنے کے بعد جب صبح ہوئی تو یزید ابن حصین صحرائی نے باجازت امام حسین (ع)،ابن سعد کو فہمائش کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں حسین (ع) کو پانی دے کر حکومت رے چھوڑدوں۔  امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ابن حصین اور ابن سعد کی گفتگو کے بعد امام حسین(ع) نے اپنے خیموں کے گرو خندق کھودنے کاحکم دیا۔ اس کے بعد حضرت عباس(ع) کو حکم دیا کہ کنواں کھود کر پانی برآمد کرو۔آپ نے کنواں تو کھودا۔لیکن پانی نہ نکلا۔ ۷۷

نویں محرم الحرام بروز جمعرات

نویں محرم الحرام بروز جمعرات کی شب کو امام حسین اور عمر بن سعد میں آخری گفتگو ہوئی۔آپ کے ہمراہ حضرت عباس اور علی اکبر بھی تھے۔آپ نے گفتگو میں ہر قسم کی حجت تمام کر لی۔

نویں کی صبح کو آپ نے حضرت عباس کو پھر کنواں کھودنے کا حکم دیا لیکن پانی بر آمد نہ ہوا۔

تھوڑی دیر کے بعد امام حسین نے بچوں کی حالت کے پیشِ نظر پھر عباس سے کنواں کھودنے کی فرمائش کی آپ نے سعی بلیغ شروع کردی جب بچوں نے کنواں کھدتا ہوا دیکھا تو سب کوزے لے کر آپہنچے۔ابھی پانی نکلنے نہ پایا تھا کہ دشمنوں نے آکر اسے بند کر دیا۔فھربت الاطفال الخیام دشمنوں کو دیکھ کر بچے خیموں میں جا چھپے۔پھر تھوڑی دیر کے بعد حضرت عباس (ع) نے کنواں کھودا وہ بھی بند کر دیا گیا حتی حفراربعا۔یہاں تک کہ چار کنویں کھودے اور پانی حاصل نہ کر سکے۔ اس کے بعد امام حسین (ع) ایک ناقہ پر سوار ہوکر دشمن کے قریب گئے اور اپنا تعارف کرایا لیکن کچھ نہ بنا

مورخین لکھتے ہیں کہ نویں تاریخ کو شمر کو فہ واپس گیااور اس نے عمر ابن سعد کی شکایت کرکے ابن زیاد سے ایک سخت حکم حاصل کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اگرحسین (ع) بیعت نہیں کرتے تو انھیں قتل کرکے ان کی لاش پرگھوڑے دوڑادے اور اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکے تو شمر کو چار ج دے دے ہم نے اسے حکم تعمیل حکم یزید دے دیا ہے۔

ابن زیاد کا حکم پاتے ہی ابن سعد تعمیل پر تیار ہو گیا۔اسی نویں تاریخ کو شمر نے حضرت عباس(ع) اور ان کے بھائیوں کو امان کی پیش کش کی انھوں نے بڑی دلیری سے اسے ٹھکرادیا ( تفصیل کے لیے ملاخطہ ہوذکر العباس از۱۷۶تا۱۸۲)

اسی نویں کی شام آنے سے پہلے شمر کی تحریک سے ابن سعد نے حملہ کاحکم دے دیا۔امام حسین (ع) خیمہ میں تشریف فرما تھے۔آپ کو حضرت زینب(ع) پھر حضرت عباس (ع) نے دشمن کے آنے کی اطلاع دی۔حضرت نے فرمایا کہ مجھ پر ابھی غنودگی طاری ہو گئی تھی۔میں نے آنحضرت کو خواب میں دیکھا۔انھوں نے فرمایا کہ انک تروح غدا حسین (ع) تم کل میرے پا س پہنچ جاؤ گے

جناب زینب رونے لگیں اور امام حسین (ع) نے حضرت عباس (ع) سے فرمایا کہ بھیا تم جاکر ان دشمنوں سے ایک شب کی مہلت لے لو۔حضرت عباس(ع) تشریف لے گئے اور لڑائی ایک شب کے لیے ملتوی ہو گئی۔

ماہ محرم الحرام کے اعمال

گل

واضح ہوکہ محرم کا مہینہ اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیر وکا روں کے لیے رنج وغم کا مہینہ ہے ۔امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب ماہ محرم آتا تھا تو ہرکو ئی شخص والد بزرگوار امام موسی ٰکا ظم  کوہنستے ہوئے نہ پاتاتھا ۔ آپ پر حزن وملال طاری رہاکرتا اور جب دسویں محرم کادن آہ وذاری کرتے اورفرماتے کہ آج وہ دن ہے جس میں امام حسین  کوشہید کیاگیا تھا ۔

پہلی محر م کی رات

سید نے کتاب اقبال میں اس رات کی چندنمازیں ذکر فرمائی ہیں :

۱۔       سو رکعت نماز کہ ہر رکعت میں سورہ  حمد اور سورہ  توحید پڑھے :

۲۔       دو رکعت نماز کہ پہلی رکعت میں سورہ  الحمد کے بعد سورہ  انعام اور دوسری رکعت میں سورہ  الحمد کے بعد سورہ  یاسین پڑھے :

۳۔       دورکعت نماز کہ ہر رکعت میں سو رئہ الحمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ  توحید پڑھے :

روا یت ہوئی ہے کہ حضرت محمد نے فر ما یا کہ جو شخص اس را ت دورکعت نماز اداکرے اوراسکی صبح کوجوسا ل کاپہلادن ہے روزہ رکھے تو وہ اس شخص کے مانند ہوگا۔جوسال بھر تک اعمال خیر بجالاتارہا ۔وہ شخص اس سال محفوظ رہےگا اوراگراسے موت آجائے تو وہ بہشت میں داخل ہوجائے گا۔نیز سید نے محرم کا چاند دیکھنے کے وقت کی ایک طویل دعاء بھی نقل فرمائی ہے ۔

پہلی محر م کادن

یہ سال کا پہلا دن ہے اور اس کے لئے دوعمل بیان ہوئے ہیں ۔

۱۔       روزہ رکھے اس ضمن میں ریان بن شبیب نے امام علی رضا سے روایت کی ہے ۔کہ جوشخص پہلی محر م کاروزہ رکھے اور خدا سے کچھ طلب کر ے تو وہ اس کی دعا ء قبو ل فرما ئے گا۔ جیسے حضرت زکر یا علیہ السلام کی دعاء قبو ل فر مائی تھی ۔

۲۔       امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ پہلی محرم کے دن دو رکعت نمازادا فرماتے اورنماز کے بعداپنے ہاتھ سو ئے آسما ن بلند کر کے  دعاء پڑھتے تھے :

شیخ طوسی نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے مگر یوم عاشورہ کو عصر تک کچھ نہ کھائے پئے اور بعد عصر تھوڑی سی خاک شفاکھالے سید نے پورے ماہ محرم کے روزے رکھنے کی فضیلت لکھی اورفرمایاہے کہ اس مہینے کا روزے رکھنا انسان کوہر گنا ہ سے محفو ظ رکھتاہے ۔ سوائے یو م عاشو رہ کے   کیو نکہ اس دن کا روزہ مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک حرام ہے ۔

تیسر ی محرم کا دن

یہ وہ دن ہے کہ جس میں حضرت یو سف قید خا نے سے آزاد ہو ئے تھے  جو شخص اس دن کا رو زہ رکھے حق تعا لی اس کی مشکلات آسان فرما تااوراس کے غم دو ر کر دیتاہے ۔ حضرت رسو ل اللہ سے روایت ہوئی ہے کہ اس دن کاروزہ رکھنے والے کی دعا قبو ل کی جا تی ہے :

نو یں محرم کادن

یہ روز تا سو عاہے امام جعفر صادق  سے روایت ہے کہ ۹محرم کے دن فوج یزید نے امام حسین اوران کے انصار کاگھیراؤ کرکے لوگوں کوان کے قتل پرآمادہ کیا ابن مرجانہ اورعمر سعد اپنے لشکر کی کثرت پرخوش تھے اورامام حسین کوان کی فوج کی قلت کے با عث کمزور ضعیف سمجھ رہے تھے ۔انہیں یقین ہوگیاتھا کہ اب امام حسین کاکوئی یارومدد گارنہیں آسکتا اورعراق والے ان کی کچھ بھی مدد نہیں کریں گے امام جعفر صادق  نے یہ بھی فرمایا کہ اس غریب وضعیف یعنی امام حسین پر میرے والد بزرگوارفدادقربان ہو ں ۔

دست دعا

دسو یں محرم کی رات

یہ شب عاشو ر ہے سید نے اس رات کی بہت سی بافضیلت نماز یں اور دعائیں نقل فرمائی ہیں ان سے ایک سورکعت نماز ہے ۔جواس رات پڑھی جاتی ہے ۔ اس نمازکی ہر رکعت میں سو رہ الحمد کے بعد تین مر تبہ سو رہ تو حید پڑھے اور نماز سے فارغ ہو نے کے بعد ستر مر تبہ کہے :

سبحان اللہ والحمد للہ ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حو ل ولا قوةالا با اللہ العلی العظیم

پاک ترہے اللہ حمد اللہ ہی کے لیے ہے نہیں کوئی معبودسوائے اللہ کے اللہ بزرگ تر ہے اور نہیں ہے کوئی حرکت وقوت مگر وہی جو خدا بلند وبرترسے ملتی ہے

بعض روایات میں ہے کہ العلی العظیم کے بعد استغفار بھی پڑھے اس رات کے آخری حصے میں چار رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت مین سورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ آیتہ الکرسی دس مرتبہ سورہ توحید دس مرتبہ سورہ فلق اور دس مرتبہ سورہ ناس کی قرائت کر لے اور بعد از سلام سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے:

آج کی را ت چا ر رکعت نماز ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید پڑھے یہ وہی نماز امیر المومنین ہے کہ جس کی بہت ذیادہ فضیلت بیان کی گی ہے اس نماز کے بعد زیادہ سے زیادہ ذکر الہی کرے حضرت رسول پر صلوات بھیجے اور ان کے دشمنوں پر بہت لعنت کرے ۔اس را ت میں بیداری کی فضیلت میں روا یت ہوئی ہے کہ اس رات کا جاگنے والا مثل اس کے ہے کہ جس نے تمام ملائکہ جتنی عبادت کی ہو ۔اس رات میں کی گی عبادت ستر سال کی عبادت کے برابرہے ۔

اگر کسی شخص کے لیے ممکن ہو تو آج رات اسے زمین کر بلا میں رہنا چاہیے جہاں وہ امام حسین کے روضہ اقدس کی زیارت کرے اور حضرت کے قرب میں شب بیداری کرے تاکہ حق تعالیٰ اس کو امام حسین کے ان ساتھیوں میں شمار کرے جو اپنے خون میں لتھڑے ہوئے تھے ۔

دسویں محرم کادن

یہ یوم عاشورہ ہے امام حسین  کی شہا دت کادن ہے ۔یہ آئمہ طاہرین  اور ان کے پیروکاروں کیلئے مصیبت کا دن ہے اورحزن وملال میں رہنے کادن ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ امام علی  کے چاہنے والوں اور ان کی اتباع کرنے والے مومن مسلمان آج کے دن دنیاوی کاموں میں مصروف نہ ہو ں اورگھر کیلئے کچھ نہ کما ئیں بلکہ نو حہ و ماتم اورنالہ وبکامیں لگے رہیں ۔امام حسین کیلئے مجا لس بر پا کر یں اوراس طرح ماتم وسینہ کریں جس طرح اپنے کسی عزیز کی موت پرماتم کیاکرتے ہیں آج کے دن امام حسین کی زیارت عاشور پڑھیں جوتیسرے باب میں آئے گی حضرت کے قاتلوں پر بہت بہت لعنت کریں اور ایک دوسرے کوامام حسین  کی مصیبت پران الفاظ میں پرسہ دیں :

اعظم اللہ اجورنابمصابنا بالحسین علیہ السلام و جعلنا و ایاکم من الطالبین بثارہ مع ولیہ الامام المہدی من ال محمد علیہم السلام

اللہ زیادہ کرے ہمارے اجر وثواب کو اسپر جوکچھ ہم امام حسین کی سوگواری میں کر تے ہیں اور ہمیں اور تمھں امام حسین  کے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار دے اپنے ولی امام مہدی کے ہم رکاب ہو کر کہ جو آل محمد علیہم السلا م میں سے ہے

ضروری ہے کہ آج کے دن امام حسین  کی مجلس اور واقعات شہادت کو پڑھیں۔خودروئیں اور دوسروں کو رلائیں  رو ایت میں ہے۔ جب حضرت مو سی ٰکو حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کرنے اوران سے تعلیم حاصل کرنیکا حکم ہوا توسب سے پہلی با ت کہ جس پر انکے درمیان مذکرہ ومکالمہ ہوا وہ یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسی ٰ  کے سامنے ان مصائب کا ذکر کیا جو آل محمد  پر آنا تھاپھر ان دو نوں بز رگواروں نے ا ن مصائب پر بہت گر یہ وبکا کیا ۔

ابن عباس سے روا یت ہے کہ انہو ں نے کہا :میں مقا م میں ذی قا ر میں حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے حضو ر گیا تو آپ نے ایک کتا بچہ نکا لاجو آپ کا لکھا ہو ا تھا اور حضرت رسو ل اللہ کا لکھوایاہو اتھا #آپ نے اس کا کچھ حصہ میرے سامنے پڑھا ۔اس میں امام حسین کی شہادت کا ذکر اس طرح تھا کہ شہادت کس طرح ہوگی اور کون آپ کو شہید کرے گا کون کون آپ کی مدد ونصرت کرے گااور کون کون آپ کے ہمرکاب رہ کر شہید ہو گا یہ ذکر پڑھ کر خود بھی امیر المو منین نے یہ گریہ کیااور مجھ کو بھی خوب رلایا ۔مئولف کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں اتنی گنجائش ہوتی تو میں یہاں امام حسین کے کچھ مصائب کرتا ۔لیکن موضو ع کے لحاظ سے اس میں ان واقعات کا ذکر نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذاقارئین میری کتب مقاتل کی طرف رجوع کریں۔

خلاصہ یہ کہ اگر کوئی شخص آج کے دن امام حسین کے روضئہ اقدس کے نزدیک رہ کر لوگوں کو پانی پلاتا رہے تو وہ اس شخص کی مانند ہوگا ۔جس نے حضرت کے لشکر کو پانی پلایا ہو اور آپ کے ہمرکاب کربلا میں موجود رہا ہو آج کے دن ہزار مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے جیساکہ روایت میں ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے شخص پر نظر رحمت فر ماتا ہے سید نے آج کے دن ایک دعاء پڑھنے کی تا کید کی ہے جو عثرات کی مثل ہے بلکہ بعض روایات کے مطابق وہ دعاء عثرات ہی ہے۔ شیخ نے عبداللہ بن سنان سے انہوں نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ یوم عاشور کو چاشت کے وقت چار رکعت نماز اور دعاء پڑھنا چاہیے کہ جسے ہم نے اختصارکے پیش نظرترک کردیاہے پس جو شخص اسے پڑھنا چاہتا ہو وہ زاد المعادمیں ملاحظہ کرے یہ بھی ضروری اور مناسب ہے کہ شیعہ مسلمان آج کے دن امساک کریں یعنی کچھ کھائیں پیئں نہیں مگر روزے کا قصد بھی نہ کریں اور عصر کے بعد ایسی چیز سے افطار کریں جو مصیبت زدہ لوگ کھاتے ہیں۔مثلا دودھ یا دہی وغیرہ نیزآج کے دن قمیضوں کے گر یبان کھلے رکھیں اور آستینیں چڑھا کر ان لو گوں کی طرح رہیں جو مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں یعنی مصیبت زدہ لوگوں جیسی شکل بنائے رہیں ۔

گل

علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ نویں اوردسویں محرم کاروزہ نہ رکھے کہ بنی امیہ اوران کے پیرو کا ر ان دو دنوں کو بڑے بابرکت تصور کرتے ہیں ۔شہادت حسین پر طعن کر تے اور ان دنو ں میں روزہ رکھتے تھے ۔انہوں نے بہت سی وضعی حدیثیں حضرت رسو ل لله کی طرف منسو ب کرکے یہ ظاہر کیا کہ ان دودنوں کاروزہ رکھنے میں بڑا ثو اب ہے ۔حالانکہ اہل بیت  سے مروی کثیرحدیثیوں میں ان دودنوں اورخاص کریوم عاشور کا روزہ رکھنے کی مذمت آئی ہے بنی امیہ اور ان کی پیر وی کر نے والے لوگ بر کت کے خیا ل سے عاشورہ کے دن سال بھر کا خرچہ جمع کرکے رکھ لیتے تھے اسی بنا ء پر امام علی رضا  سے منقول ہے کہ جوشخص یوم عاشور اپنا دنیاوی کارو با رچھو ڑے رہے تو حق تعا لی اسکے دنیا و آخرت سب کا مو ں کو انجام تک پہنچادے گا جو شخص یو م عاشور کو گر یہ و زاری اور رنج میں گزارے تو خدا تعالی قیامت کے دن کو اس کے لیے خوشی و مسرت کادن قرار دے گا اور اس شخص کی آنکھیں جنت میں ہم اہل بیت کے دیدا ر سے روشن ہوں گی ۔مگر جو لوگ یوم عاشور کو بر کت والا دن تصور کر یں اور اس دن اپنے گھر میں سال بھر کاخرچ لاکر رکھیں تو خق تعالی ان کی فراہم کی ہو ئی اس جنس ومال کو ان کے لیے با بر کت نہ کرے گا اورایسے لو گ قیامت کے دن  یزید بن معاویہ عبید اللہ بن زیاد اور عمروبن سعد ایسے ملعون عذا بیوں کے سا تھ محشو ر ہو گا اس لیے یو م عا شو ر میں کسی انسان کو دنیا کے دھندے میں نہ پڑنا چاہیے اور اس کی بجائے گر یہ وزاری  نو حہ وما تم اوررنج وغم میں مشغو ل رہنا چاہیے ۔ نیز اپنے اہل وعیا ل کوبھی آمادہ کر ے کہ وہ سینہ زنی وما تم میں اس طرح مشغو ل ہوں جیسے اپنے کسی رشتہ دار کی موت پرہواکرتے ہیں۔

آج کے دن روز ے کی نیت کے بغیر کھا ناپینا تر ک کیے رہیں اور عصرکے بعد تھو ڑے سے پا نی وغیر ہ سے فا قہ شکنی کریں ۔ اوردن کے تما م ہو نے تک فاقہ سے نہ رہیں آج کے دن گھرمیں سا ل بھر کے لیے غلہ وجنس جمع نہ کر ے آج کے دن ہنسنے سے پر ہیز کرے اور کھیل کو د میں ہرگزمشغول نہ ہو اور امام حسین کے قاتلو ں پر ان الفاظ میں لعنت کرے:

اللھم العن قتلۃ الحسین علیہ السلام

اے اللہ امام حسین  کے قاتلوں پر لعنت کر

مولف کہتے ہیں :اس حدیث سے ظاہرہوتا ہے کہ یوم عا شورہ کا روزہ رکھنے کے بارے میں جو حدیثیں آئیں وہ سب جعلی اور بناوٹی ہیں اور ان کو جھوٹوں جھو ٹ حضرت رسول کی طرف منسوب کیا گیا ہے :

اللھم ان ھذایوم تبرکت بہ بنو امیہ

اے اللہ!یہ وہ دن ہے جسکو بنو امیہ نے با برکت قراردیا

صاحبان شفا ء الصدور نے زیارت کے مندرجہ بالا جملے کے ذیل میں ایک طویل حدیث سے اسکی تشریح فرمائی ہے جس کا خلا صہ یہ ہے کہ بنو امیہ آج کے منحوس دن کو چند وجوہات کی بنا پر با برکت تصور کرتے تھے :

۱۔       بنو امیہ نے آج کے دن آئندہ سال کے لیے غلہ وجنس جمع کر رکھنے کومستحب جانا اوراس کو وسعت رزق اور خوش حآلی کا سبب قرار دیا چنانچہ اہل بیت کی طرف سے ان کے اس زعم باطل کی بار بار تردید اور مذمت کی      گئی ہے ۔

۲۔       بنو امیہ نے آج کے دن کو روز عید قرار دیا اور اس میں عید کے رسوم جاری کیے جیسے اہل وعیال کے لیے عمدہ لباس اور خورا ک فر اہم کرناایک دوسرے سے ملن ااور حجا مت بنو انا وغیر ہ لہذا یہ امور ان کے پیر وکا روں           میں عام طور پر رائج ہو گئے۔

۳۔       انہو ں نے آج دن کا روزہ رکھنے کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وضع کیں اور اس دن روزہ رکھنے پر عمل پیر ا ہوئے۔

۴۔       انہوں نے عاشو رہ کے دن دعاء کرنے اور اپنی حاجا ت طلب کرنے کو مستحب ٹھرا یا اس لیے اس سے متعلق بہت سے فضائل اور منا قب گھڑ لیے ۔ نیز آج کے دن پڑھنے کے لیے بہت سی دعا ئیں بنا ئیں اور انہیں عام کیا تا کہ لو گو ں کو حقیقت واقعہ کی سمجھ نہ آئے ۔ چنانچہ وہ آج کے دن اپنے شہر وں میں منبر وں پر جو خطبے دیتے ۔ان میں یہ بیان ہو ا کر تا تھا کہ آج کے دن ہر نبی کے لئے شرف اور وسیلے میں اضا فہ ہو ا ہے مثلا نمر ود کی آگ بجھ گئی حصرت نو ح کی کشتی کنا رے لگی  فرعون کا لشکر غرق ہوا اور حضرت عیسی ٰکو یہو دیو ں کے چنگل سے نجا ت حا صل ہوئی ۔یعنی یہ سب امور آج کے دن وقوع میں آئے ۔تاہم ان کا یہ کہنا سفید جھو ٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اس بارے میں شیخ صدوق جبلہ مکیہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے میثم تمارسے سناہے کہ وہ کہتے تھے خداکی قسم !یہ امت اپنے نبی کے فر زند کو دسو یں محرم کے دن شہید کرے گی اورخد ا کے دشمن اس دن کوبابرکت دن تصور کریں گے ، یہ سب کا م ہو کر ہی رہے گااوریہ با تیں اللہ کے علم میں آچکی ہیں ۔یہ با ت تجھے اس عہد کے زریعے سے معلوم ہے جو مجھ کو امیر المو منین  کی طرف سے ملا ہے جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے میثم تما ر سے عر ض کی کہ وہ لوگ امام حسین  کے رو زشہادتکو کس طرح ب ابر کت قر ار دیں گے ؟تب میثم تمار رو پڑے اور کہاکہ لو گ ایک ایسی حدیث وضع کریں گے  جس میں یہ کہیں گے کہ آج کادن ہی وہ دن ہے کہ جب حق تعالی ٰ نے حضرت آدم  کی تو بہ قبول فر مائی ۔ حالانکہ خدائے تعالی ٰ نے ان کی توبہ ذ ی ا حجہ میں قبو ل فر ما ئی وہ کہیں گے آج کے دن ہی خدا وند کر یم نے حضرت یونس  کومچھلی کے پیٹ سے با ہر نکالا -حالانکہ اللہ تعالی ٰ نے ان کو ذی القعدہ میں شکم ما ہی سے نکا لاتھاوہ تصو ر کر یں گے کہ آج کے دن حضرت نو ح کی کشتی جو دی پر رکی  جبکہ کشتی ۱۸ذی الحجہ کو رکی تھی وہ کہیں گے کہ آج کے دن ہی حق تعالے ٰنے حضرت مو سی ٰ کے لیے دریا کوچیر احالانکہ یہ واقعہ ربیع الاول میں ہو اتھا۔

خلاصہ یہ کہ میثم تمار کی اس رو ایت میں مذکو ر یہ تصر یحا ت جو کہ اصل میں نبوت ومامت کی علامات ہیں اورشیعہ مسلمانوں کے بر سر حق ہونے کی روشن دلیل ہیں ۔ کیونکہ اس میں ان باتوں کا ذکر ہے ۔ جو ہو چکی ہیں اور ہورہی ہیں ۔پس یہ تعجب کی بات ہے کہ اس واضح خبر کے باوجود ان لو گوں نے اپنے وہم و گمان کی بناء پر قرار دی ہو ئی چھو ٹی با توں کے مطا بق دعا ئیں بنا لی ہیں جو بعض بے خبر اشخا ص کی کتابو ں میں درج ہے کہ جن کو ان کی اصلیت کا کچھ بھی علم نہ تھا ان کتابوں کے زریعے سے دعائیں عوام کے ہا تھو ں میں پہنچ گئی ہیں لیکن ان دعاؤ ں کا پڑھنا بدعت ہو نے کے علا وہ حرام بھی ہے ان بدعت وحرام ہے

یوم عاشو ر کے آخر وقت کھڑا ہو جائے اور حضرت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، امیر المومنین علی المر تضی علیہ السلا م جنا ب فاطمتہ الزہرا علیہ السلام امام حسن مجتبٰی علیہ السلام اورباقی ائمہ علیہم السلا م جو اولادحسین علیہم السلام میں سے ہیں ان سب پر سلام بھیجے اور گریہ کی حالت میں ان کو پرسہ دے اور یہ     زیا رت پڑھے :

السلام علیک یا ابا عبدالله

السلام علیک یاوارث ادم صفوة اللہ السلام علیک

سلام ہو آپ پر اے آدم کے وارث جو بر گزیدہ خداہیں سلام ہو آپ پر

یاوارث نوح نبی اللہ السلام علیک یا وارث

اے نوح  کے وارث جو اللہ کے نبی ہیں سلا م ہو آپ پر اے ابر اہیم کے وارث

ابراہیم خلیل اللہ السلام علیک یا وارث موسی

جو اللہ کے دوست ہیں سلام ہو آپ پر اے مو سی ٰ  کے وارث جو

کلیم اللہ السلام علیک یاوارث عیسی ٰروح اللہ

خد اکے کلیم ہیں سلام ہو آپ پر اے عیسی ٰ کے وارث جو خدا کی رو ح ہیں

السلام علیک یاوارث محمد حبیب اللہ السلام

سلام ہو آپ پر اے محمد کے وارث جو خد اکے حبیب ہیں سلام ہو پر

علیک یا وارث علی امیر المومنین ولی اللہ

آپ پر اے علی  کے وارث جو مو منوں کے امیر اور دوست خدا ہیں

السلام علیک یا وارث الحسن الشہید سبط

سلام ہو آپ پر اے حسن کے وا رث جو شہید ہیں

رسول اللہ السلام علیک یا بن رسول اللہ السلام

سلا م ہو ا آپ پر اللہ کے رسول کے فرزند سلام ہو آپ پر

علیک یابن البشیر النذیر و ابن سید الوصیین

اے بشیر و نز یر اور وصیوں کے سر دار

السلام علیک یا بن فاطمۃ سیدة نساء العالمین

کے فرزند سلام ہو آپ پر اے فرزند فاطمہ جو

ا لسلام علیک یا ابا عبد اللہ السلام علیک

جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہو آپ پر اے ابو عبد اللہ سلام ہو

یاخیرةاللہ وابن خیرتہ السلام علیک یا ثار

اے خدا کے پسند یدہ کیے ہو ئے او ر پسند یدہ کے فر زند سلام ہو آپ پر اے شہید

اللہ وابن ثارہ السلام علیک ایہا الوتر الموتور

راہ خدا اورشہید کے فر زند سلام ہو آپ پر اے وہ مقتو ل جس کے قاتل قتل ہو گئے ۔

السلام علیک ایہاالامام الہادی الزکی و علی ارواح

سلام ہو آپ پراے ہدایت و پاکیزگی والے امام اورسلام ہو ان روحوں پرجو

حلت بفنائک و اقامت فی جوارک و وفدت مع

آپ کے آستاں پر سوگئیں اور آپ کی قربت میں رہی ہیں اور

زوارک السلام علیک منی مابقیت و بقی الیل والنھار

سلام ان پرجوآپ کے زائروں کے ہمراہ آئیں میراسلام ہو آپ پر جب تک زندہ ہوں اور رات دن

محرم الحرام اور وحدت مسلمین

محرم الحرام میں حضرت امام حسین اور ان کے اصحاب باوفا کی مظلومانہ شہادت کی یاد تازہ کرنے ثانی زہرا حضرت سیدہ زینب کے باطل شکن خطبات اور طریق عزاداری کو زندہ کرنے کے لئے دور حاضر میں افکار حسینی کے فروغ اور کارہائے زینبی کی ترویج کے لئے اسلام کی اصل شکل دنیا پر واضح کرنے اور یزیدیت کے روپ میں موجودہ عزاداری کی ان مقدس محافل میں دشمن قوتوں کی طرف سے رکاوٹوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالانکہ محرم الحرام اور دیگر ایام میں محافل عزاداری کا مقصد پیغام امام حسین دنیا تک پہنچانا اور یزیدی عزائم کا پردہ چاک کرنا ہوتا ہے لیکن یزیدیت سے متاثر بعض قوتیں اسے اپنے مقاصد کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف بھرپور سازشیں بھی کرتی ہیں ا ور عملی طور پر اس کی بندش اور رکاوٹ کے لئے سامنے موجود رہتی ہیں۔

چودہ سو سال قبل ریگزار کربلا میں ۷۲ جانثار‘ حق پرست ‘ دیندار‘ وفا شعار اور متقی اصحاب کے ساتھ حضرت امام حسین نے جام شہادت نوش کرکے رہتی دنیا تک حق اور باطل میں حد فاصل قائم کرنے کے لئے دائمی اور ابدی کسوٹی فراہم کردی اور ثابت کر دیا کہ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے صحرائے کربلا تک کا سفر اپنی ذات اور مفاد کے لئے نہیں خدا کے دین اور الہی نظام کو بندگان خدا پر نافذ کرانے کے لئے ہے۔ ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھنے اور مظلوم کو اس کے حق کی فراہمی کے لئے ہے۔ اسلام کی شکل بگاڑنے کی مذموم کوشش نا کام بنا کر عالم انسانیت کے سامنے حقیقی اور نبوی اسلام کا تعارف کرانے کے لئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معرکہ کو صرف چند نوجوانوں‘ بوڑھوں‘ بچوں اور خواتین کی معیت میں سر کرلیا جسے بڑی معرکتہ الآرا جنگوں میں نہیں جیتا جا سکتا تھا۔ امام عالی مقام کی جنگ یزید سے نہیں بلکہ یزیدیت سے تھی اس لئے آج بھی جب کہیں یزیدیت کی شکل میں کوئی فتنہ اٹھانے لگتا ہے تو حسینیت کی شکل میں اس کی سرکوبی کے لئے طاقتیں سامنے آتی ہیں۔

محرم الحرام

امام حسین نے اس وقت یزیدی عزائم کو بے نقاب کرکے اسلام کو درپیش خطرات سے امت کو آگاہ کیا اور اپنی عظیم قربانی پیش کی۔ اسی طرح آج بھی دنیا کے مختلف کونوں سے یزیدیت مختلف صورتوں میں سر اٹھا رہی ہے۔ ہمیں حسینی بن کر ان یزیدی صیہونی اور استعماری سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

محرم الحرام ہمیں جہاں واقعہ کی خونیں داستان کی یاد دلاتا ہے وہاں حضرت امام حسین کے اعلی مشن و مقصد کی ترویج کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے اور عالم انسانیت کے محروم و مظلوم طبقات کے لئے امید کی کرنیں بکھیرتا ہے۔

وطن عزیز کے قیام کے بعد آئین پاکستان میں موجود مذہبی و شہری آزادیوں کے تحت اسلامیان پاکستان مکمل جوش و جذبے عقیدت اور بھرپور اتحاد و یکجہتی سے محرم الحرام میں مجالس و محافل عزاداری برپا کر رہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قیام پاکستان سے قبل برصغیر میں مسلمانوں کے علاوہ ہند اور دیگر غیر مسلم مذاہب بھی محافل عزاداری میں نہ صرف شرکت کرتے تھے بلکہ ان محافل کا اہتمام بھی مسلمانوں کے ساتھ مل کر کرتے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حسین کسی ایک مکتب و مسلک کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے محسن ہیں۔ لہذا اپنے محسن کی یاد زندہ رکھنا باغیرت قوموں کا شعار ہے۔

قیام پاکستان کے بعد چند سال قبل تک وطن عزیز میں جلوس ہائے عزاداری اور مجالس محرم میں تمام مکاتب فکر مکمل امن و امان کے ساتھ محفل برپا کرتے رہے۔ ایک دوسرے کی محافل میں شریک ہوتے رہے۔ امن کمیٹیوں محلہ سے لے کر مرکزی سطح پر اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں اور دیگر پلیٹ فارموں سے محرم الحرام میں محافل عزاداری کا اہتمام کیا جاتا رہا۔ یہ سلسلہ اب بھی اسی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے لیکن چند سال قبل ایک گروہ نے خاص مقاصد کے تحت امام عالی مقام سے منسوب ان مقدس محافل کے خلاف شرانگیز اور غلیظ پروپیگنڈہ شروع کیا جب عوام الناس اور با شعور طبقات نے اس پر کان نہ دھرا تو اس گروہ نے مسلح دہشت گردی کے ذریعے جلوس ہائے عزاداری اور مجالس امام حسین میں رکاوٹیں شروع کر دیں لیکن انہیں علم نہ تھا کہ ایسے اقدامات سے حق زیادہ بلند اور وسیع ہوتا ہے اور باطل کا چہرہ اپنے ظلم و بربریت کی وجہ سے بے نقاب ہوتا ہے۔ یہیں سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ محرم الحرام میں محافل و جلوس ہائے عزا ملک میں امن و امان کے لئے خطرہ ہیں لہذا انہیں محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض مقامات پر فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے اس تاثر کو مستحکم کرنے کی کوشش بھی کی گئی اور یک طرفہ جملوں سے انتظامیہ اور حکومتوں کا رویہ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعض مقامات پر انتظامیہ نے رکاوٹیں بھی ڈالیں۔ لیکن مسلمانوں کے باہمی اتحاد سے یہ رکاوٹیں دور ہوئیں۔

یہ بات کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ کہ دنیا کا ہر کلمہ گو حسینی ہے اس لئے اس کی ذمہ داری ہے کہ یزیدیت کے خلاف ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کرے اور سیرت امام حسین (ع) کو اپ