In Praise of God – خداوند عالم کی حمد و ستائش

sahifa-e-sajadia

الحمد لله الاول بلا اول كان قبله ، و الاخر بلا اخر يكون بعده .الذي قصرت عن رؤيته ابصار الناظرين ، و عجزت عن نعته اوهام الواصفين .ابتدع بقدرته الخلق ابتداعا ، و اخترعهم علي مشيته اختراعا .ثم سلك بهم طريق ارادته ، و بعثهم في سبيل محبته ، لا يملكون تاخيرا عما قدمهم اليه ، و لا يستطيعون تقدما الي ما اخرهم عنه .و جعل لكل روح منهم قوتا معلوما مقسوما من رزقه ، لا ينقص من زاده ناقص ، و لا يزيد من نقص منهم زائد .ثم ضرب له في الحيوة اجلا موقوتا ، و نصب له امدا محدودا ، يتخطأ اليه بايام عمره ، و يرهقه باعوام دهره ، حتي إذا بلغ اقصي اثره ، و استوعب حساب عمره ، قبضه الي ما ندبه اليه من موفور ثوابه ، أو محذور عقابه ، ليجزي الذين اساؤا بما عملوا و يجزي الذين احسنوا بالحسني .عدلا منه ، تقدست اسماؤه ، و تظاهرت الاؤه ، لا يسئل عما يفعل و هم يسئلون .و الحمد لله الذي لو حبس عن عباده معرفة حمده علي ما ابلاهم من مننه المتتابعة ، و اسبغ عليهم من نعمه المتظاهرة ، لتصرفوا في مننه فلم يحمدوه ، و توسعوا في رزقه فلم يشكروه .و لو كانوا كذلك لخرجوا من حدود الانسانية الي حد البهيمية فكانوا كما وصف في محكم كتابه : إن هم إلا كالانعام بل هم اضل سبيلا .و الحمد لله علي ما عرفنا من نفسه ، و الهمنا من شكره ، و فتح لنا من ابواب العلم بربوبيته ، و دلنا عليه من الاخلاص له في توحيده ، و جنبنا من الالحاد و الشك في امره .حمدا نعمر به فيمن حمده من خلقه ، و نسبق به من سبق الي رضاه و عفوه .حمدا يضي ء لنا به ظلمات البرزخ ، و يسهل علينا به سبيل المبعث ، و يشرف به منازلنا عند مواقف الاشهاد ، يوم تجزي كل نفس بما كسبت و هم لا يظلمون ، يوم لا يغني مولي عن مولي شيئا و لا هم ينصرون .حمدا يرتفع منا الي اعلي عليين في كتاب مرقوم يشهده المقربون .حمدا تقربه عيوننا إذا برقت الابصار ، و تبيض به وجوهنا إذا اسودت الابشار .حمدا نعتق به من اليم نار الله الي كريم جوار الله .حمدا نزاحم به ملائكته المقربين ، و نضام به انبياءه المرسلين في دار المقامة التي لا تزول ، و محل كرامته التي لا تحول .و الحمد لله الذي اختار لنا محاسن الخلق ، و اجري علينا طيبات الرزق .و جعل لنا الفضيلة بالملكة علي جميع الخلق ، فكل خليقته منقادة لنا بقدرته ، و صائرة الي طاعتنا بعزته .و الحمد لله الذي اغلق عنا باب الحاجة إلا اليه ، فكيف نطيق حمده ؟ أم متي نؤدي شكره ؟ ! لا ، متي ؟ .و الحمد لله الذي ركب فينا الات البسط ، و جعل لنا ادوات القبض ، و متعنا بارواح الحيوة ، و اثبت فينا جوارح الاعمال ، و غذانا بطيبات الرزق ، و اغنانا بفضله ، و اقنانا بمنه .ثم امرنا ليختبر طاعتنا ، و نهانا ليبتلي شكرنا ، فخالفنا عن طريق امره ، و ركبنا متون زجره ، فلم يبتدرنا بعقوبته ، و لم يعاجلنا بنقمته ، بل تأنانا برحمته تكرما ، و انتظر مراجعتنا برأفته حلما .و الحمد لله الذي دلنا علي التوبه التي لم نفدها إلا من فضله ، فلو لم نعتدد من فضله إلا بها لقد حسن بلاؤه عندنا ، و جل احسانه الينا ، و جسم فضله علينا .فما هكذا كانت سنته في التوبة لمن كان قبلنا ، لقد وضع عنا ما لا طاقة لنا به ، و لم يكلفنا الا وسعا ، و لم يجشمنا إلا يسرا ، و لم يدع لاحد منا حجة و لا عذرا .فالهالك منا من هلك عليه ، و السعيد منا من رغب اليه .و الحمد لله بكل ما حمده به ادني ملائكته اليه و اكرم خليقته عليه و ارضي حامديه لديه .حمدا يفضل سائر الحمد كفضل ربنا علي جميع خلقه .ثم له الحمد مكان كل نعمة له علينا و علي جميع عباده الماضين و الباقين عدد ما احاط به علمه من جميع الاشياء ، و مكان كل واحدة منها عددها اضعافا مضاعفة ابدا سرمدا الي يوم القيمة .حمدا لا منتهي لحده ، و لا حساب لعدده ، و لا مبلغ لغايته ، و لا انقطاع لامده .حمدا يكون وصلة الي طاعته و عفوه ، و سببا الي رضوانه ، و ذريعة الي مغفرته ، و طريقا الي جنته ، و خفيرا من نقمته ، و امنا من غضبه ، و ظهيرا علي طاعته ، و حاجزا عن معصيته ، و عونا علي تأدية حقه و وظائفهحمدا نسعد به في السعداء من اوليائه ، و نصير به في نظم الشهداء بسيوف اعدائه ، إنه ولي حميد .
****************************************************************************************

سب تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جو ایسا اوّل ہے جس کے پہلے کوئی اوّل نہ تھا اور ایسا آخر ہے جس کے بعد کوئی آخر نہ ہو گا۔ وہ خدا جس کے دیکھنے سے دیکھنے والوں کی آنکھیں عاجز اور جس کی توصیف و ثنا سے وصف بیان کرنے والوں کی عقلیں قاصر ہیں۔ اس نے کائنات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اور اپنے منشا‎ۓ ازلی سے جیسا چاہا اسے ایجاد کیا ۔ پھر انہیں اپنے ارادہ کے راستے پر چلایا اور اپنی محبت کی راہ پر ابھارا۔ جن حدود کی طرف انہیں آگے بڑھایا ہے ان سے پیچھے رہنا اور جن سے پیچھے رکھا ہے ان سےآگے بڑھنا ان کے قبضہ و اختیار سے باہر ہے ۔ اسی نے ہر ( ذی) روح کے لیۓ اپنے ( پیدا کردہ ) رزق سے معیّن و معلوم روزی مقرر کر دی ہے جسے زیادہ دیا ہے اسےکوئی گھٹانے والا گھٹا نہیں سکتا اور جسے کم دیا ہے اسے کوئی بڑھانے والا بڑھا نہیں سکتا ۔ پھر یہ کہ اسی نے اس کی زندگی کا ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک معینہ مدت اس کے لۓ ٹھہرا دی ۔ جس مدت کی طرف وہ اپنی زندگی کے دنوں سے بڑھتا اور اپنے زمانہ زیست کے سالوں سے اس کے نزدیک ہوتا ہے یہاں تک کہ جب زندگی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور اپنی عمر کا حساب پورا کر لیتا ہے تو اللہ اسے اپنے ثواب بے پایاں تک جس کی طرف اسے بلایا تھا یا خوفناک عذاب کی جانب جسے بیان کر دیا تھا قبض روح کے بعد پہنچا دیتا ہے تاکہ اپنے عدل کی بناء پر بروں کی اس کی بد اعمالیوں کی سزا اور نیکو کاروں کو اچھا بدلا دے ۔ اس کے نام پاکیزہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ لگاتار ہے ۔ وہ جو کرتا ہے اس کی پوچھہ گھچہ اس سے نہیں ہو سکتی اور لوگوں سے بہرحال باز پرس ہو گی ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے کہ اگر وہ اپنے بندوں کو حمد و شکر کی معرفت سے محروم رکھتا ان پیہم عطیوں پر جو اسں نے دیۓ ہیں اور ان پے درپے نعمتوں پر جو اس نے فراوانی سے بخشی ہیں تو وہ اس کی نعمتوں میں تصّرف تو کرتے مگر اس کی حمد نہ کرتے ۔ اور اس کے رزق میں فارغ البالی سے بسر تو کرتے مگر اس کا شکر بجا نہ لاتے اور ایسے ہوتے تو انسانیت بی حدوں سے نکل کر چوپالوں کی حد میں آ جاتے ، اور اس توصیف کے مصداق ہوتے جو اس نے اپنی محکم کتاب میں کی ہے کہ وہ تو بس چوپائیوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ راہ راست سے بھٹکتے ہو‎ۓ ۔ تمام تعریف اللہ کے لۓ ہے کہ اس نے اپنی ذات کو ہمیں پہچنوایا اور حمد و شکر کا طریقہ سمجھایا اور اپنی پروردگاری پر علم و اطلاع کے دروازے ہمارے لۓ کھول دیۓ اور توحید میں تنزیہ و اخلاص کی طرف رہنمائی کی اور اپنے معاملہ شرک و کجروی سے ہمیں بچایا ۔ ایسی حمد جس کے ذریعے ہم اس کی مخلوقات میں سے حمد گزاروں میں زندگی بسر کریں اور اس کی خوشنودی و بخشش کی طرف بڑھنے والوں سے سبقت لے جائیں ۔ ایسی حمد جس کی بدولت ہمارے لۓ برزخ کی تاریکیاں چھٹ جائیں اور جو ہمارے لۓ قیامت کی راہوں کو آسان کر دے اور حشر کے مجمع عام میں ہماری قدرومنزلت کو بلند کر دے جس دن ہر ایک کو اس کے کۓ کا بدلہ دیا جاۓ گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہو گا ۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کےکچھ کام نہ آۓ گا اور نہ ان کی مدد کی جاۓ گی ۔ ایسی حمد جو ایک لکھی ہوئی کتاب میں ہے جس کی مقرب فرشتے نگہداشت کرتے ہیں ہماری طرف سے بہشت بریں کے بلند ترین درجات تک بلند ہو ، ایسی حمد جس سے ہماری آنکھوں میں ٹھنڈک آ‎ۓ جبکہ تمام آنکھیں حیرت و دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ اور ہمارے چہرے روشن و درخشان ہوں جبکہ تمام چہرے سیاہ ہوں گے ۔ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اللہ کی بھڑکاتی ہوئی اذیت دہ آگ سے آزادی پا کر اس کے جوار رحمت میں آ جائیں ۔ ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کے مقرب فرشتوں کے ساتھہ شانہ بشانہ بڑھتے ہو‎ۓ ٹکرائیں اور اس منزل جاوید و مقام عزت و رفعت میں جسے تغیر و زوال نہیں اس کے فرستادہ پیغمبروں کے ساتھ یکجا ہوں ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے خلقت و آفرینش کی تمام ہمارے لۓ منتخب کیں اور پاک وپاکیزہ رزق کا سلسلہ ہمارے لۓ جاری کیا اور ہمیں غلبہ اور تسلط دے کر تمام مخلوقات پر برتری عطا کی ۔ چنانچہ تمام کائنات اس کی قدرت سے ہمارے زیر فرمان اور اس کی قوت اور سربلندی کی بدولت ہماری اطاعت پر امادہ ہے ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے اپنے سواء طلب و حاجت کا ہر دروازہ ہمارے لۓ بند کر دیا تو ہم ( اس حاجت و احتیاج کے ہوتے ہو‌ۓ ) کیسے اس کی حمد سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں اور کب اس کا شکر ادا کر سکتے ہیں ۔ نہیں! کسی وقت بھی اس کا شکر ادا نہیں ہو سکتا ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے ہمارے (جسموں میں) پھیلنے والے اعصاب اور سمٹنے والے عضلات ترتیب دیۓ اور زندگی کی آسائشوں سے بہرہ مند کیا اور کار و کسب کے اعضاء ہمارے اندر ودیعت فرماۓ اور پاک و پاکیزہ روزی سے ہماری پرورش کی اور اپنے فضل وکرم کے ذریعہ ہمیں بےنیاز کر دیا اور اپنے لطف و احسان سے ہمیں (نعمتوں کا ) سرمایہ بخشا۔ پھر اس نے اپنے اوامر کی پیروی کا حکم دیا تاکہ فرمانبرداری میں ہم کو آزما‎ۓ اور نواہی کے ارتکاب سے منع کیا تاکہ ہمارے شکر کو جانچے مگر ہم نے اس کے حکم کی راہ سے انحراف کیا اور نواحی کے مرکب پر سوار ہو لۓ ۔ پھر بھی اس نے عذاب میں جلدی نہیں کی ، اور سزا دینے میں تعجیل سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے کرم و رحمت سے ہمارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا اور حلم و رافت سے ہمارے باز آ جانے کا منتظر رہا ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے ہمیں توبہ کی راہ بتائی کہ جسے ہم نے صرف اس کے فضل و کرم کی بدولت حاصل کیا ہے ۔ تو اگر ہم اس کی بخششوں میں سے اس توبہ کے سواء اور کوئی نعمت شمار میں نہ لائیں تو یہی توبہ ہمارے حق میں اس کا عمدہ انعام ، بڑا احسان اور عظیم فضل ہے اس لۓ کہ ہم سے پہلے لوگوں کے لۓ توبہ کے بارے میں اس کا یہ رویّہ نہ تھا ۔ اس نے تو جس چیز کے برداشت کرنے کی ہمیں طاقت نہیں ہے وہ ہم سے ہٹا لی اور ہماری طاقت سے بڑھ کر ہم پر ذمہ داری عائد نہیں کی اور صرف سہل و آسان چیزوں کی ہمیں تکلیف دی ہے اور ہم میں سے کسی ایک کے لۓ حیل و حجت کی گنجائش نہیں رہنے دی ۔ لہذا وہی تباہ ہونے والا ہے جو اس کی منشا کے خلاف اپنی تباہی کا سامان کرے ، اور وہی خوش نصیب ہے جو اس کی طرف توجہ و رغبت کرے۔ اللہ کے لۓ حمد و ستائش ہے ہر وہ حمد جو اس کے مقرب فرشتے بزرگ ترین مخلوقات اور پسندیدہ حمد کرنے والے بجالاتے ہیں ۔ ایسی ستائش جو دوسری ستائشوں سے بڑھی چڑھی ہوئی ہو جس طرح ہمارا پروردگار تمام مخلوقات سے بڑھا ہوا ہے ۔ پھر اسی کے لۓ حمد و ثناہ ہے ۔ اس کی ہر ہر نعمت کے بدلے میں جو اس نے ہمیں اور تمام گزشتہ وباقی ماندہ بندوں کو بخشی ہے ان تمام چیزوں کے شمار کے برابر جن پر اس کا علم حاوی ہے اور ہر نعمت کے مقابلہ میں دوگنی چوگنی جو قیامت کے دن تک دائمی و ابدی ہو ۔ ایسی حمد جس کا کوئی آخری کنار اور جس کی گنتی کا کوئی شمار نہ ہو ۔ جس کی حد ونہایت دسترس سے باہر اور جس کی مدّت غیر مختتم ہو ۔ ایسی حمد جو اس کی اطاعت و بخشش کا وسیلہ ، اس کی رضامندی کا سبب ، اس کی مغفرت کا ذریعہ ، جنّت کا راستہ ، اس کے عذاب سے پناہ ،اس کے غضب سے امان ، اس کی اطاعت میں معیّن ، اس کی معصیت سے مانع اور اس کے حقوق و واجبات کی ادائیگی میں مددگار ہو ۔ ایسی حمد جس کے ذریعے اس کے خوش نصیب دوستوں میں شامل ہو کر خوش نصیب قرار پائیں اور شہیدوں کے زمرہ میں شمار ہوں جو اس کے دشمنوں کی تلواروں سے شہید ہو‎ۓ ۔ بے شک وہی مالک مختار اور قابل ستائش ہے ۔

****************************************************************************************
1- When he began to supplicate , he would begin praise and laudation of God saying : Praise belongs to God , the First , without a first before Him , the Last , without a last behind Him . Beholders’ eyes fall short of seeing Him , describers’ imaginations are not able to depict Him . He originated the creatures through His power with an origination , He devised them in accordance with His will with a devising . Then he made them walk on the path of His desire , He sent them out on the way of His love . They cannot keep back from that to which He has sent them forward , nor can they go forward to that from which He has kept them back . He assigned from His provision to each of their spirits a nourishment known and apportioned . No decreaser decreases those of them whom He increases , no increaser increases those of them whom He decreases . Then for each spirit He strikes a fixed term in life , for each He sets up a determined end ; he walks toward it through the days of his span , he overtakes it through the years of his time . Then , when he takes his final step and embraces the reckoning of his span , God seizes him to the abundant reward or the feared punishment to which He has called him , ‘That He may repay those who do evil for what they have done and repay those who do good with goodness’ , as justice from Him ( holy are His names , and manifest His boons ) . ‘He shall not be questioned as to what He does , but they shall be questioned’ . Praise belongs to God , for , had He withheld from His servants the knowledge to praise Him for the uninterrupted kindnesses with which He has tried them and the manifest favours which He has lavished upon them , they would have moved about in His kindnesses without praising Him , and spread themselves out in His provision without thanking Him . Had such been the case , they would have left the bounds of humanity for that of beastliness and become as He has described in the firm text of His Book : ‘They are but as the cattle-nay , but they are further astray from the way !’ . Praise belongs to God , for the true knowledge of Himself He has given to us , the thanksgiving He has inspired us to offer Him , the doors to knowing His Lordship He has opened for us , the sincerity toward Him in professing His Unity to which He has led us , and the deviation and doubt in His Command from which He has turned us aside ; a praise through which we may be given long life among those of His creatures who praise Him , and overtake those who have gone ahead toward His good pleasure and pardon ; a praise through which He will illuminate for us the shadows of the interworld , ease for us the path of the Resurrection , and raise up our stations at the standing places of the Witnesses on the day ‘when every soul will be repaid for what it has earned – they shall not be wronged’ ; ‘the day a master shall avail nothing a client , and they shall not be helped’ ; a praise which will rise up from us to the highest of the Illiyun in ‘a book inscribed , witnessed by those brought nigh’ , a praise whereby our eyes may be at rest when sight is dazzled , our faces whitened when skins are blackened , a praise through which we may be released from God’s painful Fire and enter God’s generous neighbourhood , a praise by which we may jostle the angels brought nigh and join the prophets , the envoys , in a House of Permanence that does not remove , the Place of His Generosity that does not change . Praise belongs to God , who chose for us the good qualities of creation , granted us the agreeable things of provision , and appointed for us excellence through domination over all creation ; every one of His creatures submits to us through His power and comes to obey us through His might . Praise belongs to God , who locked for us the gate of need except toward Him . So how can we praise Him ? When can we thank Him ? Indeed , when ? Praise belongs to God , who placed within us the organs of expansion , assigned for us the agents of contraction , gave us to enjoy the spirits of life , fixed within us the limbs of works , nourished us with the agreeable things of provision , freed us from need through His bounty , and gave us possessions through His kindness . Then He commanded us that He might test our obedience and prohibited us that He might try our thanksgiving . So we turned against the path of His commandments and mounted the backs of His warnings . Yet He hurried us not to His punishment , nor hastened us on to His vengeance . No , He went slowly with us through His mercy , in generosity , and awaited our return through His clemency , in mildness . Praise belongs to God , who showed us the way to repentance , which we would not have won save through His bounty . Had we nothing to count as His bounty but this , His trial of us would have been good , His beneficence toward us great , His bounty upon us immense . For such was not His wont in repentance with those who went before us . He has lifted up from us ‘what we have not the strength to bear’ , charged us only to our capacity , imposed upon us nothing but ease , and left none of us with an argument or excuse . So the perisher among us is he who perishes in spite of Him and the felicitous among us he who beseeches Him . And praise belongs to God with all the praises of His angels closest to Him , His creatures most noble in His eyes , and His praisers most pleasing to Him ; a praise that may surpass other praises as our Lord surpasses all His creatures . Then to Him belongs praise , in place of His every favour upon us and upon all His servants , past and still remaining , to the number of all things His knowledge encompasses , and in place of each of His favours , their number doubling and redoubling always and forever , to the Day of Resurrection ; a praise whose bound has no utmost end , whose number has no reckoning , whose limit cannot be reached , whose period cannot be cut off ; a praise which will become a link to His obedience and pardon , a tie to His good pleasure , a means to His forgiveness , a path to His Garden , a protector against His vengeance , a security against His wrath , an aid to obeying Him , a barrier against disobeying Him , a help in fulfilling His right and His duties ; a praise that will make us felicitous among His felicitous friends , and bring us into the ranks of those martyred by the swords of His enemies . He is a Friend , Praiseworthy !

Comments

There are currently no comments on this post, be the first by filling out the form below.

Speak Your Mind