خدانے ہمیں پاکستان میں ایسی قیادت نصیب فرمائی ہے جس کاحلم اس کے علم پر حاوی دکھائی دے رہاہے۔علامہ سید امیر حسین نقوی Reviewed by Momizat on . جعفریہ پریس - دفتر نمائندہ ولی فقیہ وقائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی (دام ظلہ) میں قم المقدسہ میں زیارات کی غرض سے انگلیڈ سے تشریف لائے ہوئے معز جعفریہ پریس - دفتر نمائندہ ولی فقیہ وقائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی (دام ظلہ) میں قم المقدسہ میں زیارات کی غرض سے انگلیڈ سے تشریف لائے ہوئے معز Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » خدانے ہمیں پاکستان میں ایسی قیادت نصیب فرمائی ہے جس کاحلم اس کے علم پر حاوی دکھائی دے رہاہے۔علامہ سید امیر حسین نقوی

خدانے ہمیں پاکستان میں ایسی قیادت نصیب فرمائی ہے جس کاحلم اس کے علم پر حاوی دکھائی دے رہاہے۔علامہ سید امیر حسین نقوی

allama ameer hussain naqvi
جعفریہ پریس – دفتر نمائندہ ولی فقیہ وقائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی (دام ظلہ) میں قم المقدسہ میں زیارات کی غرض سے انگلیڈ سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان گرامی اور جید عالم دین حجة الاسلام والمسلمین علامه امیر حسین نقوی (دام عزہ) کے اعزاز میں ایک اہم نشست کااہتمام کیا گیا جس میں دفتر قم کے لئے قائد ملت جعفریہ کے نمائندے اور مدیر جناب حجة الاسلام والمسلمین جناب محمد شبیر صابری (دام عزہ ) سمیت دفترکی مجلس نظارت کے بعض معزز اراکین ،کابینہ اور دفتر سے وابستہ دیگر بزرگ علماء نے اپنے مہمان گرامی سے ملاقات کی ۔ابتدا میںمدیر دفتر جناب محمد شبیر صابری (دام عزہ ) نے دفتر کے شعبہ جات کی طرف سے انجام پانے والی مختلف خدمات کے متعلق خصوصی بریفنگ دی جس کے بعد جناب علامہ سید امیر حسین نقوی نے اپنے خطاب کے دوران دفتر کی طرف سے انجام پانے والی خدمات کو سراہنے کے ساتھ ساتھ حضرت امام خمینی (قدس سرہ) کی تئسویں برسی کے موقعہ پر امام خمینی کی بلند مرتبہ شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت امام خمینی نے دنیا بھر کے مظلوموں کو امید کی کرن دکھائی ہے اور ولایت فقیہ جیسے پیشرفتہ نظریہ کے تحت ایران میں عملی طورپر اسلامی نظام نافذ کر کے عالمی سطح پر دنیاوالوںپر یہ ثابت کردکھلایاہے کہ اسلام ہی وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں انسانی زندگی سے متعلق تمام تر ما د ی اور معنوی مسائل کاحل موجود ہے۔ جبکہ اس سے پہلے اپنے مقام پر عموما ً یہ سوال اٹھایا جاتاتھاکہ آیا اسلام نے بھی انسانی زندگی کے متعلق کوئی نظریہ پیش کیاہے؟ اسی طرح امام خمینی نے عالم اسلام میں اتحاد بین المسلمین کا شعور دے دے کر عالمی استعمار اور اس کے ایجنٹوں کو سخت شکست سے دچار کردیاہے۔علامہ نقوی نے مزید فرمایاکہ امام خمینی کی طرف سے پیش کردہ اتحاد بین المسلمین کے نظریے کو سب سے بڑھ کر پاکستان میںقائد شہید علامہ عارف حسین حسینی (طاب ثراہ) نے عملی جامہ پہنانے کی کوششوں کا آغاز کیا اور موجودہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسے یوں مکمل کیا کہ ہرمنصف مزاج انسان جس کا اعتراف کرتے دکھائی دے رہاہے ،آ ج پاکستان میں جانے پہچانے دہشتگرد اورتکفیری گروپ کو قومی دھارے سے باہرنکال پھینکنے کے ساتھ ساتھ تمام اسلامی مکاتب فکر پرمشتمل ملی یکجہتی کونسل اور ایم ایم اے جیسے متحدہ پلیٹ فارموں کاوجود ا س کی بین دلیل ہیں۔ہم نے بھی انگلینڈ میں اسی طرز پر اتحاد امت کے پیش نظر دیوبندی، بریلوی او ر دیگر اسلامی مکاتب فکرکے علماء سے رابطہ بڑھایا جس کے بہت سے مثبت نتائج حاصل ہورہے ہیں۔اسی طرح علامہ امیرحسین نقوی نے اپنے خطاب میں رہبر معظم حضرت آیة اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دامت برکاتہ) کی بصیرت اور دور اند یشی پرمبنی عالمی رہبریت کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ رہبر معظم عالم اسلام کے ایسے مدبر رہنما ہیں جو عالمی حالات کی تمام تر باریکیوں کوجانتے ہیں اور تمام تر مشکل مسائل کو بصیرت کے ساتھ حل فرماتے ہیں ۔ انہوں نے مزید فرمایاکہ رہبر معظم اور عالم اور حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل جناب سید حسن نصراللہ کی تقاریر ہم سب کے لئے یقینا مشعل راہ ہیں اس لئے کہ ان بزرگواروں کی تقاریر میں ہمیں صحیح اسلامی مؤقف ملتاہے۔ علامہ امیر حسین نقوی نے مزید فرمایاکہ جس طرح حضرت امام خمینی کی رحلت کے بعد رہبر معظم نے رہبریت کونسل کے جید علماء کے بے حد اصرار کے بعد رہبریت جیسی سنگین ذمہ داری کو قبول فرمایاتھا اسی طرح پاکستان میں قائد شہید علامہ عارف حسین حسینی کی مظلومانہ شہادت کے بعد علامہ سید ساجد نقوی نے بھی تحریک جعفریہ کے آئین کے مطابق تحریک جعفریہ کی سپریم کونسل کے بزرگ علماء کے انتہائی اصرار پر ہی اس پُرآشوب دور میں قیادت جیسی سنگین مسئولیت کو قبول کیاتھا لہٰذاہم سب کا وظیفہ بنتاہے کہ ہم سپریم کونسل کے بزرگ علما ء کرام کے فیصلے کااحترام کرتے ہوئے اپنے اپنے اختلاف نظر کو اپنی جگہ محفوظ رکھتے ہوئے اپنی ڈیڑھ انچ کی الگ مسجد بنانے کے بجائے تحریک جعفریہ کے آئین اور دستور کی بالادستی کے پیش نظر قومی دھارے میں باقی رہناچاہیے اسی میں ملت جعفریہ کی سربلندی کاراز مضمرہے۔ علامہ امیر حسین نقوی نے اس حوالے سے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ملت جعفریہ پاکستان کو علامہ سید ساجد علی نقوی جیسی عالمی سوچ رکھنے والی بابصیرت اورحلیم قیادت نصیب فرمائی ہے جس کا حلم اس کے علم اورجذبات پرحاوی ہے۔ واقعاً اگر پاکستان کے موجودہ پیچیدہ پُرآشوب حالات میں ان کے بجائے کوئی اور ہوتا تونہ جانے ملت کس آگ میں جھونک دیتا۔ علامہ امیر حسین نقوی نے مزید فرمایاکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جناب علامہ سید ساجد علی نقوی دستوری طور قائد ملت جعفریہ پاکستان ہونے کے ساتھ ساتھ ولی فقیہ اور رہبر معظم کے نمائندے بھی ہیںاس بناپر ہروہ فرد جو ولی فقیہ جیسے اہمیت کے حامل نظریے پر کامل ایمان رکھتاہے اسے بلاکسی چون وچراکے ولی فقیہ کے نمائندے جناب علامہ سید ساجد نقوی کی اتباع کرنی چاہیے۔یقینا ایساکرنے کی صورت میں ہی ہم ولی فقیہ کے پیروکہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ اسی طرح تمام مشکل مسائل میں ہماری امید ملت، قیادت اور ذمہ دار علماء کرام سے وابستہ رہنی چاہیے ۔ حال حاضر میں قائد محترم کی کال پر منعقدہ شیعہ علماء کانفرنس میں شریک بزرگ علماء کرام کے اعتماد نے تمام تر نوجوان علماء اور دیگرذمہ افرد پر حجت تمام کردی ہے کہ سب مل کر قائد ملت جعفریہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں ۔ اس لئے کہ پاکستان میں ہمارامقابلہ ایسے پست اور گھٹیا دشمن سے ہے جس کی نگاہ میں انسانیت کوئی قدرو قیمت نہیں رکھتی۔ لہٰذا ان مشکل حالات میں ہمیں لوگوں کی فکری ذہنی تربیت کرناچاہیے کیونکہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر دشمن ہمارے خلاف اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کے ذریعہ زہر اگل رہاہے۔ ظاہری حالات کچھ اس طرح کے ہیں کہ انسان لاشعوری طور پر کبھی ظالم کاساتھی اور کبھی مظلوم کاحامی نظرآتاہے ۔اس بناپر انتہائی دقت کی ضرورت ہے ہمیشہ ہماری حمایت یامخالفت کامعیار ایک الٰہی دستو راور نظریہ ہوناچاہیے نہ ذاتی گروہی وابستگیاں ۔ ہمیں چاہیے کہ اس پُرآشوب دور میں انفرادیت کے بجائے بزرگان کی چھوڑی ہوئی میراث اجتماعیت اور قومی دھارے کومضبوط کریں اسی طرح ہمیں چاہیے کہ اس مشکل اور کٹھن دور میں اپنے نت نئے سلیقوں کوآزمانے کے بجائے بزرگ علماء کی حمایت یافتہ دستوری قیادت کے ہاتھوں کو مضبوط کریں ۔ کیونکہ واضح ہے کہ مشکل وقت میں کسی الٰہی نظریے تحت کسی کا ساتھ دینا انتہائی مشکل ہوتاہے اس لئے کہ مشکل حالات میں تو الٰہی نظریے سے عاری لوگ خدا اور اس کے رسول کی نسبت بھی بدگمانیاں پیدا کر تے ہوئے دکھائی دیتے ہیںجبکہ واضح سی بات ہے یہ ایمان نہیں بلکہ نفاق کی علامت ہے جس واضح مثالیں قرآن میں موجود ہیں۔خداوند عالم ہمیں اس پُرآشوب دور میں اپنی ذمہ داریوں کوسمجھنے اورانہیں اداکرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

About The Author

Number of Entries : 6115

© 2013

Scroll to top