علماء کونشانہ بنا کرامریکی سامراج کوخوش کیاجارہاہے:حافظ حسین احمد

hafiz hussain ahmed
جعفریہ پریس – بلوچستان ،لیاری ،کراچی ،بلتستان بلکہ پورے پاکستان میں حالات اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے خراب ہیں ، کہیں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اور کہیں قومی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء اور ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل حافظ حسین احمد نے کوئٹہ کے مدارس اشرفیہ، جامعہ تجوید القرآن اور جامعہ مفتاح العلوم میں دستار بندی کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا -
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی و قتل و غارت گری کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے، اس وقت صوبے کے وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کی ذرا برابر بھی رٹ نہیں جس کا اعتراف وزیراعلیٰ کئی بار کر چکے ہیں لیکن پھر بھی صوبائی حکومت بلوچستان کے مظلوم عوام پر مسلط ہے انہوں نے مزید کہا کہ اب امریکہ اور نیٹو کے 47 ممالک افغانستان میں بری طرح شکست کھا چکے ہیں اور اب شکست کا ماتم کرتے ہوئے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ اس لئے امریکہ نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ کو 156 ایکڑ قیمتی اراضی فراہم کر چکے ہیں تاکہ وہ یہاں ایک منی پینٹاگون تعمیر کرے۔ اور ہزاروں بلیک واٹر کارندے پاکستان میں تخریب کاری کرسکیں۔
ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل نےکہاکہ عالمی سطح پر اسلام تیزی سے پھیل رہاہےاورکفری طاقتیں اس سے پریشان ہے انہوں نے کہا کہ علماء حق امن پسند اور صبر کرنے والے لوگ ہیں صبر اورتقویٰ کے ذریعہ ہم دشمن اور طاغوت کے ہر مکر وفریب کو ناکام بناسکتے ہیں ۔ حافظ حسین احمد نےکہاکہ علماء کونشانہ بنا کرامریکی سامراج کوخوش کیاجارہاہےاور اس میں بلیک واٹر کے کارندے ملوث ہیں ۔ انشاء اللہ پاکستان کے عوام اس سازش کو ناکام بنادینگے۔
جلسہ سے جامعہ علوم اسلامیہ کے استاد الحدیث مولانا فضل محمد،مولاناسید عبدالستار شاہ، قاری مہراللہ، مولاناعبدالوحد،خطیب جامع مسجدقندہاری قاری عمر حیات ، مولانامحمدابراہیم مینگل اورمولانا محمد قاسم شابوی سمیت جے یوآئی کے دیگررہنماؤں نے بھی خطاب کیا

 

About the author

More posts by