یزیدیت دہشت گردی کا دوسرا نام ہے اور یزیدی فکر سے بے حیائی جنم لیتی ہے جب کہ حسینیت امن اور رواداری کا نام ہے Reviewed by Momizat on . مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ یزیدیت دہشت گردی کا دوسرا نام ہے اور یزیدی فکر سے دہشت گردی، بے حیائی جنم لیتی ہے جب مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ یزیدیت دہشت گردی کا دوسرا نام ہے اور یزیدی فکر سے دہشت گردی، بے حیائی جنم لیتی ہے جب Rating:
You Are Here: Home » Pakistan News » یزیدیت دہشت گردی کا دوسرا نام ہے اور یزیدی فکر سے بے حیائی جنم لیتی ہے جب کہ حسینیت امن اور رواداری کا نام ہے

یزیدیت دہشت گردی کا دوسرا نام ہے اور یزیدی فکر سے بے حیائی جنم لیتی ہے جب کہ حسینیت امن اور رواداری کا نام ہے

allama nasir abbas jafri
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ یزیدیت دہشت گردی کا دوسرا نام ہے اور یزیدی فکر سے دہشت گردی، بے حیائی جنم لیتی ہے جب کہ حسینیت امن اور رواداری کا نام ہے اور حسینیت کی کوکھ سے شرافت اور شریف جنم لیتے ہیں۔انہوں نے یہ بات حسینی چوک سکردو میں اسد عاشورہ کے موقع پر لاکھوں عزاداران حسین علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ علامہ ناصر عباس جعفری جس وقت سٹیج پر مومنین سے خطاب کرنے کے لئے آئے تو لاکھوںکی تعداد میں حسینی چوک میں جمع عزاداران حسین علیہ السلام نے جو یہاں اکسٹھ ہجری روز عاشور کو کربلا میں گرمی اور شہداء کی پیاس کی یاد میں جمع ہیں ،نے ان کااستقبال استغاثہ شبیری ھل من ناصر ینصرنا پر لبیک یا حسین علیہ السلام کہتے ہوئے کیا۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ فرزندان ملت جعفریہ کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے سے ظلم ، ناانصافی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ ہم نے معاشرے کو یزیدی فکر اور ظلم و بربریت سے نجات دلانی ہے اور اپنی مظلومیت کو طاقت میں بدلنا ہے۔ دور حاضر میدان میں حاضر رہنے کا متقاضی ہے اور ہمیں اپنی ملی وحدت اور طاقت کے ساتھ میدان میں حاضر رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہی کربلا کے وارث ہیں اور کربلا ہمیں ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے۔ آج گھروں میں بیٹھنے کا نہیںمیدان میں حاضر رہنے کا وقت ہے۔ اگر ہم گھروں میں بیٹھے رہیں گے اور اپنے حقوق کی آواز بلند نہیں کریں گے تو پھر وہی ہو گا جو آج سے چودہ سو سال پہلے ہوا کہ جب لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں تو حق کی آواز اٹھانے والوں کے گلے میں رسی ڈال دی جاتی ہے اور اہل بیت علیھم السلام کے گھرانے کو بازاروں میں پھرایا جاتا ہے۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top