کراچی میں 25 فعال شیعہ افراد کو قتل کرنے کی سازش Reviewed by Momizat on . ملک بھر میں بڑھتی ہوئی شیعہ بیداری اور ہشیاری سے خوفزدہ ہو کر کراچی کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے اپنے (کے ٹی سی ) ڈیتھ اسکواڈ کو پچیس سے زائد شیعہ نمایاں شخصیات او ملک بھر میں بڑھتی ہوئی شیعہ بیداری اور ہشیاری سے خوفزدہ ہو کر کراچی کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے اپنے (کے ٹی سی ) ڈیتھ اسکواڈ کو پچیس سے زائد شیعہ نمایاں شخصیات او Rating:
You Are Here: Home » Pakistan News » کراچی میں 25 فعال شیعہ افراد کو قتل کرنے کی سازش

کراچی میں 25 فعال شیعہ افراد کو قتل کرنے کی سازش

newsalert
ملک بھر میں بڑھتی ہوئی شیعہ بیداری اور ہشیاری سے خوفزدہ ہو کر کراچی کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے اپنے (کے ٹی سی ) ڈیتھ اسکواڈ کو پچیس سے زائد شیعہ نمایاں شخصیات اور علمائے کرام کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، انتہائی باوثوق اور باخبر ذرائع سے ہمیں یہ معلومات ملی ہیں کہ ڈیتھ اسکواڈ کے انچارچ حماد صدیقی اور عرفان خان کو وہ لسٹ پہنچا دی گئی ہے جس میں تمام ان پچیس افراد کے نام ان کے ایڈریس وغیرہ اور ضروری معلومات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ ابھی چند دن قبل ہی اچانک کراچی میں دو دن کے اندر دس کے قریب شیعہ افراد کو شہید کر دیا گیا جو اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔ کراچی کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے والی یہ جماعت ایک طرف اپنے آپ کو نجات دہندہ سمجھتی ہے تو دوسری جانب ہر وہ شخص یا جماعت جو کراچی میں کسی بھی حوالے سے فعال ہو اسے برداشت نہیں کر سکتی یہاں تک کہ ان صحافیوں تک کو یہ برداشت نہیں کر سکتے جو ان کے خلاف کچھ لکھے یا تنقید کرے جس کی ایک بڑی مثال ایک معروف نجی چینل کے رپورٹر ولی خان بابر کا قتل ہے۔ اس جماعت کی عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ ان کے خلاف ایک بیان کراچی میں دسیوں بے گناہوں کی لاشیں گرا دیتا ہے، درجنوں بسیں جلائی جاتی ہیں اور کراچی ہفتہ بھر کے لئے مفلوج ہو جاتا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شیعہ ہمدردانہ بیانات اور مسلسل شیعہ حمایتی ٹی وی شو کے پس پردہ مقاصد اب کھل کر سامنے آرہے ہیں ایک طرف تو یہ جماعت اہل تشیع کے قتل عام میں ہمدردی دکھا رہی ہے تو دوسری جانب اہل تشیع کو منظم نہیں دیکھ سکتی اور اسی ہمدردی کی آڑ میں اپنے ڈیتھ اسکواڈ کو ایسے تمام افراد کو راستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیتی ہے جو ان کی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں،اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے حالات میں شیعہ رہنما کیا اقدامات کرتے ہیں۔
بشکریہ اسلام ٹائم ذرائع

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top