ورنر بلوچستان اور خورشید شاہ کے کوئٹہ یکجہتی کونسل سے مذاکرات ناکا Reviewed by Momizat on . سیاہ چادروں میں لپٹی آہ و بکا کرتی مائیں، بہنیں اور روتے بچے اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھائے جمعہ کی دوپہر دو بجے سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کسی صورت احتجاج سیاہ چادروں میں لپٹی آہ و بکا کرتی مائیں، بہنیں اور روتے بچے اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھائے جمعہ کی دوپہر دو بجے سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کسی صورت احتجاج Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » ورنر بلوچستان اور خورشید شاہ کے کوئٹہ یکجہتی کونسل سے مذاکرات ناکا

ورنر بلوچستان اور خورشید شاہ کے کوئٹہ یکجہتی کونسل سے مذاکرات ناکا

governer blochistan
سیاہ چادروں میں لپٹی آہ و بکا کرتی مائیں، بہنیں اور روتے بچے اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھائے جمعہ کی دوپہر دو بجے سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کسی صورت احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں۔
اسلام ٹائمز۔ شدید سردی اور بارش کے باوجود کوئٹہ یکجہتی کونسل کا گذشتہ روز سے شہداء کی میتیں رکھ کر دھرنا جاری ہے۔ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی اور وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ نے یکجہتی کونسل کے رہنماوں سے ملاقات کی اور ان سے مذاکرات کئے، تاہم مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ کوئٹہ یکجہتی کونسل کے رہنماوں اور لواحقین نے میتوں کی تدفین سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر ایک صحافی نے گورنر بلوچستان سے سوال کیا کہ اتنے لوگ مارے گئے، وزیراعلٰی بلوچستان کہاں ہیں؟ گورنر بلوچستان نے جواب دیا کہ اگر وزیراعلٰی ہوتے تو مجھے یہاں آنے کی ضرورت نہ پڑتی، میرے اس جواب میں آپ کیلئے بہت سی باتیں پوشیدہ ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم گورنر سے مسلسل رابطے میں ہیں، امن و امان کیلئے ایف سی کو اختیارات دیدیے ہیں۔ واضح رہے کہ جمعرات کو کوئٹہ میں تین دھماکوں میں 105 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے پر ورثاء شدید سرد موسم کے باوجود گذشتہ روز سے شہداء کی میتیں علمدار چوک پر رکھ کر دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ شہر بھر میں سوگ کی کیفیت طاری ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق دھماکوں کے مزید دو زخمی چل بسے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد ایک سو انیس ہوگئی۔ کوئٹہ ملی یکجہتی کونسل کا دھرنا 31 گھنٹے سے جاری ہے، دھرنے کے شرکاء سے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ اور گورنر بلوچستان کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ سیاہ چادروں میں لپٹی آہ و بکا کرتی مائیں، بہنیں اور روتے بچے اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھائے جمعہ کی دوپہر دو بجے سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کسی صورت احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں۔ انتظامیہ نے رات گئے احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات بھی کئے جو بے سود رہے۔ مظاہرین اپنے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ کوئٹہ شہر کا کنٹرول فوج کے حوالے کرنے تک کسی صورت احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

31 گھنٹے گزرنے کے بعد وفاقی وزیر سید خورشید شاہ اور گورنر بلوچستان مظاہرین سے مذاکرات کے لئے پہنچے۔ اس موقع پر دھرنے کے شرکاء نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ پنجابی امام بارگاہ میں خورشید شاہ اور گورنر بلوچستان نے ہزارہ برادری کے معززین سے ملاقات کی۔ خورشید شاہ نے دھرنے کے شرکاء سے ایک دن کی مہلت مانگ لی۔ انکا کہنا تھا کہ میتوں کی تدفین کر دیں، دھرنا بے شک جاری رکھیں۔ خورشید شاہ نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے مطالبات صدر اور وزیراعظم تک پہنچا دیں گے۔ ایچ ڈی پی نے بھی آئی جی آفس کے سامنے تین روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ دھماکوں میں جان کھو دینے والوں کے لواحقین کا کہنا کہ وہ کس سے انصاف طلب کریں۔ کوئٹہ میں اس سے پہلے بھی متعدد واقعات میں ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا چکا ہے لیکن آج تک ان افسوسناک سانحات کا کوئی ملزم پکڑا نہ جا سکا اور نہ ہی ان واقعات کے تدارک کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top