شہید ڈاکٹر شاہنواز علی سپرد خاک، ڈاکٹروں کی ہڑتال اور احتجاج Reviewed by Momizat on . جس روز شاہنواز علی کی شہادت ہوئی اسی شام اللہ تعالیٰ نے انہیں دو جڑواں بچوں سے نوازا، تاہم شہید اپنے بچوں کا دیدار کرنے سے پہلے ہی جام شہادت نوش کرگئے۔ اہل البی جس روز شاہنواز علی کی شہادت ہوئی اسی شام اللہ تعالیٰ نے انہیں دو جڑواں بچوں سے نوازا، تاہم شہید اپنے بچوں کا دیدار کرنے سے پہلے ہی جام شہادت نوش کرگئے۔ اہل البی Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » شہید ڈاکٹر شاہنواز علی سپرد خاک، ڈاکٹروں کی ہڑتال اور احتجاج

شہید ڈاکٹر شاہنواز علی سپرد خاک، ڈاکٹروں کی ہڑتال اور احتجاج

شہید ڈاکٹر شاہنواز علی سپرد خاک، ڈاکٹروں کی ہڑتال اور احتجاج
جس روز شاہنواز علی کی شہادت ہوئی اسی شام اللہ تعالیٰ نے انہیں دو جڑواں بچوں سے نوازا، تاہم شہید اپنے بچوں کا دیدار کرنے سے پہلے ہی جام شہادت نوش کرگئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ڈاکٹر شاہنواز علی آخوندزادہ کو سپرد خاک کردیا گیا جبکہ قتل کیخلاف پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے پشاور کے سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال اور احتجاج کیا۔
شہید کا جنازہ 11 بجے امام بارگاہ اخوند آباد سے اٹھایا گیا اور نماز جنازہ علامہ ارشاد حسین خلیلی کی اقتداء میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
علاوہ ازیں پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے پشاور کے تینوں سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال کی۔
اس موقع پر لیڈی ریڈنگ اسپتال، خیبر ٹیچنگ اسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے او پی ڈیز میں ڈاکٹروں نے کام نہیں کیا، تاہم آپریشن تھیٹرز کھلے رہے۔
ڈاکٹروں نے شاہنواز علی اخوندزادہ کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور حکومت کو قاتلوں کی گرفتاری کیلئے تین دن کی ڈیڈلائن دی۔
واضح رہے کہ جس روز شاہنواز علی کی شہادت ہوئی اسی شام اللہ تعالیٰ نے انہیں دو جڑواں بچوں سے نوازا، تاہم شہید اپنے بچوں کا دیدار کرنے سے پہلے ہی جام شہادت نوش کرگئے تھے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہنواز ماہر امراض چشم تھے جن کو کالعدم (مگر سرگرم) تکفیری ٹولوں کے دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔
انہیں پشاور کے مصروف ترین تجارتی مرکز لیاقت بازار میں دن دھاڑے گولی مارکر شہید کردیا گیا جبکہ وہ اپنے اپنے کلینک میں موجود تھے جب موٹر سائیکل سوار مسلّح دہشتگرد کلینک میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور ڈاکٹر شاہنواز موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے۔
ڈاکٹر صاحب تحریک جعفریہ پاکستان کے سابق مرکزی سیکریٹری جنرل شہید انور علی اخوند زادہ کے بھتیجے تھے۔
کراچی اور کوئٹہ کے بعد اب امریکی و سعودی ملازمین اور صہیونیت کے خدمت گذار کالعدم مگر سرگرم دہشت گرد ٹولوں کے مسلّح دہشتگردوں نے پشاور میں بھی چن چن کر شیعہ ڈاکٹرز اور عمائدین کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
چند روز قبل ڈاکٹر اور سیاستدان ڈاکٹر سید ریاض حسین شاہ کو بھی پشاور میں شہید کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ صوبائی حکومت اس ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لئے کوئی ٹھوس اور واضح حکمتِ عملی مرتب نہیں کر رہی ہے حالانکہ برسراقتدار پارٹی کے سینئر راہنما اور سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور کو بھی کچھ ہی دن قبل پشاور کے قصہ خوانی بازار میں قتل کیا گیا ہے۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top