قائداعظم بھی زندہ ہوکر آجائیں تو موجودہ کرپٹ سسٹم میں الیکشن نہیں جیت سکتے، علامہ عباس کمیلی Reviewed by Momizat on . سابق سینیٹر نے ''اسلام ٹائمز'' کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ موجودہ کرپٹ نظام ایک ایسا ناسور بن چکا ہے کہ جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم ہوچکی ہے اور ایک آمر ک سابق سینیٹر نے ''اسلام ٹائمز'' کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ موجودہ کرپٹ نظام ایک ایسا ناسور بن چکا ہے کہ جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم ہوچکی ہے اور ایک آمر ک Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » قائداعظم بھی زندہ ہوکر آجائیں تو موجودہ کرپٹ سسٹم میں الیکشن نہیں جیت سکتے، علامہ عباس کمیلی

قائداعظم بھی زندہ ہوکر آجائیں تو موجودہ کرپٹ سسٹم میں الیکشن نہیں جیت سکتے، علامہ عباس کمیلی

قائداعظم بھی زندہ ہوکر آجائیں تو موجودہ کرپٹ سسٹم میں الیکشن نہیں جیت سکتے، علامہ عباس کمیلی
سابق سینیٹر نے ”اسلام ٹائمز” کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ موجودہ کرپٹ نظام ایک ایسا ناسور بن چکا ہے کہ جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم ہوچکی ہے اور ایک آمر کے بجائے چار پانچ آمر مسلط ہیں۔ دراصل چار پانچ خاندان پاکستان پر مسلط ہیں اور اٹھارویں ترمیم نے تو ان کو مکمل آمروں والا اختیار دے دیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے، چہ جائیکہ گورنر راج کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ یہ صرف اور صرف اپنے مفادات کے لئے تحریک چلانا چاہتے ہیں۔
جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ اور سابق سینیٹر علامہ عباس کمیلی کا شمار پاکستان کے نامور علماء کرام میں ہوتا ہے۔ آپ متحدہ قومی موومنٹ کے ٹکٹ سے سینیٹ کے ممبر بنے اور تشیع پاکستان کی آواز کو ایوان بالا میں انتہائی موثر انداز میں بلند کیا۔ شیعہ حج کوٹے کے لئے سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے علامہ عباس کمیلی سے حالات حاضرہ پر بات چیت کی ہے، جس کا احوال قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔

اسلام ٹائمز: سانحہ کوئٹہ کے بعد قوم کی استقامت کو کس انداز میں دیکھتے ہیں۔؟
علامہ عباس کمیلی: اس ظلم و بربریت کے خلاف پرامن احتجاج شروع کیا گیا اور مسلسل چار پانچ دن تک لگاتار لواحقین بیٹھے رہے، ان کیساتھ یکجہتی بہت ضروری تھی، جس کا پورے ملک میں مظاہرہ ہوا اور حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔ برسوں سے شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک کے بعد دوسرا واقعہ ہو جاتا اور معاملہ سرد خانے میں چلا جاتا۔ لیکن جب معاملہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو تنگ آمد بجنگ آمد والی بات ہوگی۔

اسلام ٹائمز: ایک اخباری بیان میں حکومت نے کہا تھا کہ دونوں شیعہ دھڑوں کو نگران سیٹ اپ کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، جبکہ علامہ طاہر القادری سے اس سلسلے میں مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔؟
علامہ عباس کمیلی: دو دھڑے کہنا عجیب بات ہے۔ دو دھڑے کونسے ہیں، دو دھڑے کب ہیں۔ یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔ حکومت کہتی کچھ ہے کرتی کچھ ہے۔ آئین کے مطابق تو لیڈر آف ایوزیشن اور لیڈر آف ہاؤس کو نگران سیٹ اپ کے بارے میں طے کرنا ہے، لیکن پھر طاہر القادری کا فیکٹر آگیا اور پھر حکومت مشاورتی عمل کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اس میں تو پھر اتفاق کی بجائے انتشار نظر آئے گا، ہر پارٹی اور ہر دھڑا اپنا آدمی چاہے گی۔

اسلام ٹائمز: جس طرح علامہ طاہرالقادری نے کہا کہ وہ نگران سیٹ اپ کے سلسلے میں دو پارٹیوں کا مک مکا نہیں چاہتے بلکہ عوامی امنگوں کے مطابق نگران حکومت کا قیام چاہتے ہیں، کیا واقعاً علامہ طاہرالقادری عوام امنگوں کی ترجمانی کر رہے ہیں۔؟
علامہ عباس کمیلی: دیکھئے اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے، کیونکہ ایسا تیس چالیس ہزار آدمی لیکر کوئی بھی کرسکتا ہے۔ تیس چالیس ہزار آدمی پوری عوام کے نمائندہ کیسے ہوسکتے ہیں۔ بہرحال انہوں نے ایک پریشر گروپ تو ضرور ثابت کیا۔ انہوں نے اپنی بات منوائی ہے اور دھرنا کافی حد تک کامیاب بھی رہا ہے۔ لیکن نگران حکومت بھی تو دو تین ماہ تک آئے گی۔ لیکن میرے نزدیک انتخابی اصلاحات کا ایجنڈا ادھورا رہ گیا ہے۔ اصلاحات تو پوری طرح سے ہونی چاہییں۔ پورا انتخابی سسٹم تبدیل ہونا چاہیے۔ موجودہ جمہوریت میں تو بڑے سے بڑے حتیٰ کہ قائد اعظم بھی زندہ ہوکر آجائیں تو وہ بھی الیکشن نہیں جیت سکتے۔ یہ ایسا نظام بن چکا ہے کہ جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم ہوچکی ہے اور ایک آمر کے بجائے چار پانچ آمر ہیں۔ چار پانچ خاندان پاکستان پر مسلط ہیں اور اٹھارویں ترمیم نے تو ان کو مکمل آمروں والا اختیار دے دیا ہے۔

اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ پورا نظام انتخاب ہی تبدیل ہونا چاہیے۔ جاگیردار کو اس کے حلقے میں کوئی نہیں ہرا سکتا، جس کی وجہ سے حقیقی لیڈرشپ ابھر کر سامنے نہیں آسکتی۔ سینیٹ میں اپنی تقریر کے دوران بھی میں نے کہا کہ تھا کہ سینیٹ کے انتخابات کم از کم ڈائریکٹ ہونے چاہییں۔ ہر شخص ووٹ دے اور ایوان بالا میں وہ سو شخص آئیں جو ملک گیر شہرت رکھتے ہوں۔ اسی طرح صدر کا انتخاب بھی ڈائریکٹ ہونا چاہیے۔ مروجہ طریقے کے مطابق اکثریتی پارٹی کا لیڈر جو بھی ہوگا، جیسا بھی ہوگا، صدر بن بیٹھے گا، یا اپنے خاندان میں سے کسی کو بنوا دے گا۔ اس طرح جمہوریت کا پھل عوام کو کبھی نہیں مل سکتا۔ پاکستان میں ہر صوبے کے مسائل الگ ہیں، کوئی بڑا صوبہ ہے تو کوئی چھوٹا صوبہ۔ اس لئے موجودہ نظام کو مکمل طور پر تبدیل ہونا چاہیے۔ طاہرالقادری کا امیدوار کی اہلیت والا مطالبہ صحیح تھا۔ پہلے سے بھی اگرچہ یہ شقیں موجود تھیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان شقوں پر کس حد تک عمل ہوتا ہے۔ شقیں موجود ہوں اور ان پر عمل ہی نہ ہو تو فائدہ نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: گورنر راج کے خلاف اور وزارتوں کے حصول لئے جے یو آئی (ف) کی تحریک کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ عباس کمیلی: جی ہاں یہ تو بڑی عجیب و غریب بات سامنے آئی، کیا انہیں نہیں معلوم کہ بلوچستان میں چلنے والی حکومت کس حد تک ناکام تھی۔ اس حکومت کو سپریم کورٹ نے بھی نااہل کہہ دیا تھا۔ اس حکومت بلکہ مشرف دور میں جب سے ایم ایم اے برسر اقتدار آئی، بڑے پیمانے پہ قتل و غارت گری ہوئی، جو مسلسل جاری تھی۔ آج جو لوگ گورنر راج کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، ان کی تو وہاں حکومت تھی اور یہ تو بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ اس قدر جو صوبائی حکومت نااہل اور ناکام ثابت ہو، اسے تو صدر مملکت کو خود ہی ہٹا دینا چاہیے تھا۔ اس حکومت کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے، چہ جائیکہ گورنر راج کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ یہ صرف اور صرف اپنے مفادات کے لئے تحریک چلانا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: جعفریہ الائنس آئندہ الیکشن میں کیا کردار ادا کرے گی، آیا کسی بڑی پارٹی کے ساتھ الحاق کیا جائے گا۔؟
علامہ عباس کمیلی: جعفریہ الائنس شروع دن سے ہی غیر سیاسی اتحاد ہے اور صرف قومی مسائل کو دیکھ رہی ہے۔ جعفریہ الائنس میں جو تنظیمیں اور افراد شامل ہیں وہ سیاسی طور پر آزاد ہیں۔ جو جس طرف جانا چاہے جاسکتا ہے۔ اسی لئے اس الائنس میں مختلف پارٹیوں کے لوگ شامل ہیں، جو اپنے حقوق اور قومی مسائل کے لئے مل کر آواز بلند کرتے ہیں۔ پاکستان میں ملت جعفریہ کے سیاسی الائنس نے کوئی خاطر خواہ رول پلے نہیں کیا ہے۔ جعفریہ الائنس پاکستان اب تک غیر سیاسی الائنس ہے، لیکن آئندہ کے لئے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ غیر سیاسی رہنے میں اس کی کامیابی رہی ہے، کیونکہ مختلف الخیال لوگ قومی حقوق کی جدوجہد کے لئے شامل ہوتے رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ملت جعفریہ کی کسی تنظیم کی طرف سے اس طرح کا بیان اور اعتراف کہ ہمیں نگران حکومت کے لئے کسی مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا، کیا ہماری کمزوریوں کو عیاں نہیں کر رہا۔؟
علامہ عباس کمیلی: اب اس کے لئے میں کیا کہوں، حالانکہ یہ لوگ تو فضل الرحمان کی ایم ایم اے میں شامل ہیں۔ اگر فضل الرحمان کے ساتھ مشورہ ہوگا تو ظاہر ہے وہ بھی ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: آنے والے انتخابات میں ملت جعفریہ کے لئے کیا اسٹریٹیجی اور لائحہ عمل تجویز کریں گے۔؟
علامہ عباس کمیلی: اسٹریٹیجی تو بن سکتی ہے بشرطیکہ یہ دھڑے الگ الگ رول پلے کرنے کی بجائے انتخابات اور سیاست کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم پر آئیں۔ پھر تو بہت کچھ ہوسکتا ہے، لیکن اگر ایک کا رخ مشرق کی جانب اور ایک کا رخ مغرب کی جانب ہوگا تو پھر بڑا مشکل ہوگا، کیونکہ اس طرح سے سیاسی پارٹیز آپ کو کوئی اہمیت نہیں دیں گی۔ اگر اہمیت دیں گی بھی تو اپنی مرضی کا آدمی لائیں گی، جو ان کے اشاروں پر عمل کرے۔ آزاد آدمی جو اپنے قومی مفادات کی نگرانی کرے اور قومی آواز کو بلند کرے، اس کا آنا تو ناممکن ہے۔ مختلف پارٹیوں سے بیس پچیس لوگ اسمبلیوں میں پہنچ سکتے ہیں، لیکن وہ شیعیت کے نمائندے نہیں ہوں گے، وہ اپنی پارٹی کے تابع ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: دھرنے بھی دئیے گئے، گورنر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں، لیکن کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی، اس قتل و غارتگری کا سدباب کیسے ممکن ہے۔؟
علامہ عباس کمیلی: بھائی بات یہ ہے کہ کراچی کے مسائل بڑے گھمبیر ہیں۔ ادھر کے حالات پورے ملک سے مختلف ہیں، یہاں یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ کراچی میں کہیں لسانی مفادات ہیں، کہیں پارٹیوں کے مفادات ہوتے ہیں۔ بھتہ خوری بھی ہے، ذاتی دشمنیاں ہیں۔ کراچی میں اسلحہ وافر ہے، صرف اور صرف حکومت ہی یہاں کے مسائل پر قابو پاسکتی ہے۔ لیکن حکومت مفاہمت کی پالیسی پر عمل کرتی ہے، کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی، سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتی ہے۔ اوپر سے عسکریت پسند لوگ بھی میدان میں آگئے ہیں، ان کے علاوہ بھی کئی مسلح گروپس بن گئے ہیں۔ اس کا حل یہی ہے کہ کوئی بڑی پارٹی برسراقتدار آئے، جس کے پاس absolute majority ہو اور وہ سختی سے امن قائم کرے۔

اسلام ٹائمز: جس طرح قوم نے سانحہ کوئٹہ کے بعد استقامت، اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کیا، کیا آنے والے الیکشن میں شیعہ تنظیموں کی طرف سے ایسا اتحاد ممکن ہے۔؟
علامہ عباس کمیلی: یہ ایک قومی مسئلہ تھا اور ایک بڑا حساس معاملہ تھا اور ہر شخص کو اس سے دلچسپی بھی تھی، غم بھی تھا، غصہ بھی تھا۔ الیکشن کی بات دوسری ہوتی ہے، ہر علاقے اور ہر صوبے کے مسائل مختلف ہوتے ہیں۔ ہر صوبے میں الگ الگ پارٹیاں مقبول ہوتی ہیں۔ لہذا ایسا ہونا بظاہر بڑا مشکل نظر آرہا ہے۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top