پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کی تشویشناک لہر Reviewed by Momizat on . صوبائی حکومت کی جانب سے شیعہ رہنماوں کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام اور اس حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے شیعہ، سنی اکابرین کی ایک میٹنگ کرا صوبائی حکومت کی جانب سے شیعہ رہنماوں کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام اور اس حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے شیعہ، سنی اکابرین کی ایک میٹنگ کرا Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کی تشویشناک لہر

پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کی تشویشناک لہر

پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کی تشویشناک لہر
صوبائی حکومت کی جانب سے شیعہ رہنماوں کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام اور اس حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے شیعہ، سنی اکابرین کی ایک میٹنگ کرا دی جاتی ہے، جس پر شیعہ رہنماوں نے ردعمل ظاہر کیا ہے کہ جب پشاور میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ ہے ہی نہیں تو اس حوالے سے میٹنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ ”اسلام ٹائمز” کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے بعض شیعہ تنظیموں کے رہنماوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت دہشتگردوں پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے اس معاملہ کو شیعہ سنی ہم آہنگی کے فروغ تک محدود رکھنا چاہتی ہے، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پشاور میں آج تک کبھی کوئی شیعہ سنی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، اور تمام مکاتب فکر کے مابین مثالی تعلقات حتیٰ کہ رشتہ داریاں تک قائم ہیں۔
کراچی اور کوئٹہ کے بعد اب قتل و غارت گری کا سلسلہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور پہنچ چکا ہے، اور گذشتہ 25 روز کے دوران اب تک 5 اہم شیعہ شخصیات کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا۔ جس میں ایڈیشنل سیشن جج احتشام علی اور پارا چنار سے تعلق رکھنے والے عاشق حسین زخمی ہوئے تاہم طوری بنگش سپریم کونسل کے رہنماء ابرار حسین، پیپلزپارٹی کرم ایجنسی کے صدر ڈاکٹر سید ریاض حسین شاہ اور ڈاکٹر شاہنواز علی اخونزادہ جام شہادت نوش کر گئے۔ ٹارگٹ کلنگ کی ان پے در پے وارداتوں نے پشاور کی ملت تشیع کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سرزمین پشاور میں 60 سے زائد مکتب اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کا خون شامل ہے۔ جو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا نشانہ بنے۔ موجودہ قتل و غارت گری کے سلسلے سے قبل 2007ء سے 2009ء تک پشاور میں شیعہ افراد کو دہشتگردوں نے انتہائی منظم انداز میں نشانہ بنایا۔

پشاور کے مقامی افراد کے علاوہ پارا چنار سے تعلق رکھنے والی 8 اہم شخصیات کو بھی سرزمین پشاور پر ہی شہید کیا گیا۔ انجمن تنظیم المومنین کے صدر حاجی گلاب حسین کو 2009ء میں پشاور کے قصہ خوانی بازار میں شہید کیا گیا۔ اس کے علاوہ محکمہ سوشل ویلفیئر کے آفیسر ریحان علی بنگش کو پشاور میں کوہاٹ روڈ پر 2008ء میں نشانہ بنایا گیا۔ انجمن تنظیم المومنین کے رہنماء محمد اکبر کو 2011ء میں اکبر پورہ پشاور میں شہید کیا گیا۔ علااوہ ازیں پروفیسر سید رضی شاہ کاظمی کو 2010ء میں ایلیمینٹری کالج جمرود سے اغواء اور پھر شہید کر دیا گیا۔ ڈاکٹر سید محمد جمال کو 31 اکتوبر 2011ء کو حیات آباد سے اغواء کیا گیا اور بعد ازاں 7 جنوری2012ء کو جمرود میں شہید کیا گیا۔ طوری بنگش سپریم کونسل کے رہنماء حاجی ابرار حسین کو 2 جنوری 2013ء کو لیڈی ریڈنگ اسپتال کے قریب دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔

پی پی کرم ایجنسی کے صدر ڈاکٹر سید ریاض حسین شاہ 9 جنوری 2013ء کو دہشتگردی کا نشانہ بنے جبکہ 26جنوری 2013ء کو پارا چنار ہی سے تعلق رکھنے والے عاشق حسین جو کہ کوہاٹ لاری اڈہ میں منشی ہیں کو دہشتگردوں نے فائرنگ کا نشانہ بنایا، تاہم خوش قسمتی سے وہ بچ گئے۔ واضح رہے کہ پشاور کے بعض اخبارات میں 24 دسمبر کو ایک خبر رساں ادارے ”آئی این پی” کی جانب سے ایک خبر جاری کی گئی تھی کہ دہشتگردوں کی جانب سے بعض اہم شیعہ شخصیات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جن میں وکلاء، ڈاکٹرز، سیاستدانوں اور صحافیوں پر حملے ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ خبر میں شدت پسند رہنماء منگل باغ کے بیٹے اسرافیل گروپ کی جانب سے اس منصوبہ بندی کا انکشاف کیا گیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ منگل باغ کے بارے میں یہ باتیں اکثر منظر عام پر آتی رہی ہیں کہ وہ ”حکومتی” آلہ کار ہے اور اسے ماضی میں بعض ”خفیہ ہاتھ” اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔

مذکورہ خبر کے جاری ہونے کے ایک ہفتے بعد ہی پشاور میں شیعہ شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کا شروع ہونا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں و صوبائی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی نوٹس نہ لیا جانا پشاور کے شہریوں بلخصوص ملت تشیع کیلئے انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بعض شیعہ اکابرین کی صوبائی حکومت کے عہدیداروں کیساتھ بات چیت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ شیعہ رہنماوں کا ایک وفد جلد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا میر حیدر ہوتی سے ملاقات کرے گا۔ جبکہ ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ پشاور میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ پر مختلف تنظیموں کی جانب سے مذمتی بیانات سامنے آئے ہیں اور بعض مواقع پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے لیکن پولیس انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی جانب سے قتل و غارت گری کے اس سلسلے پر قابو پانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

پشاور عرصہ دراز سے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے تاہم ٹارگٹ کلنگ کا یہ حالیہ سلسلہ حکومت کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں کالعدم تنظیموں کے ملوث ہونے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ پشاور میں کالعدم فرقہ پرست تنظیمیں بھی آئے روز منظم اور فعال ہو رہی ہیں اور اکثر چوک و چوراہوں پر جلسہ جلوس کئے جاتے ہیں۔ دہشتگردی سے بری طرح متاثرہ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے دور میں ایسی تنظیموں کی فعالیت یقیناً بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کی اس حالیہ لہر کے تدارک کیلئے بعض شیعہ شخصیات کی جانب سے اہم حکومتی عہدیداروں، چیف جسٹس اور دیگر اہم شخصیات کو خطوط بھی لکھے گئے ہیں لیکن نہ تو ان خطوط کے کوئی جوابات موصول ہوئے اور نہ ہی اس حوالے سے ریاست کی جانب سے کوئی اقدامات دیکھنے کو ملے۔ جو بلخصوص شہداء کے خانوادوں کیلئے انتہائی تشویشناک ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے شیعہ رہنماوں کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام اور اس حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے شیعہ، سنی اکابرین کی ایک میٹنگ کرا دی جاتی ہے، جس پر شیعہ رہنماوں نے ردعمل ظاہر کیا ہے کہ جب پشاور میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ ہے ہی نہیں تو اس حوالے سے میٹنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ ”اسلام ٹائمز” کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے بعض شیعہ تنظیموں کے رہنماوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت دہشتگردوں پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے اس معاملہ کو شیعہ سنی ہم آہنگی کے فروغ تک محدود رکھنا چاہتی ہے، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پشاور میں آج تک کبھی کوئی شیعہ سنی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، اور تمام مکاتب فکر کے مابین مثالی تعلقات حتیٰ کہ رشتہ داریاں تک قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت قاتل گروہ کا سراغ لگائے اور اس پشاور میں جاری اس خوفناک ٹارگٹ کلنگ پر فوری قابو پائے بصورت دیگر اس مسئلہ کو ملک گیر سطح پر اٹھایا جائے گا اور جلد احتجاجی لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔

ٹارگٹ کلنگ کے اس ناسور پر جلد از جلد قابو نہ پایا گیا تو شہر کا امن مزید خراب ہو سکتا ہے، اور عوام دہشتگردی سے متاثرہ جماعت اے این پی سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 24 دسمبر کو پشاور کے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر کو بھی شامل تفتیش کرنا ہو گا جس میں اس قتل و غارت گری کے شروع ہونے کی ممکنہ اطلاع دی گئی تھی۔ صوبائی اسمبلی میں موجود اراکین کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس حساس مسئلہ کو ایوان میں اٹھائیں، جبکہ دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں جو اب تک اس مسئلہ پر لب کشائی نہیں کر سکیں انہیں بھی اس انسانی حقوق کے معاملہ پر بولنا ہو گا۔ اور سب سے اہم شیعہ تنظیموں کا یہ فرض ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلہ پر ایکشن لیں اور مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیکر ملت تشیع میں بڑھنے والی مایوسی اور عدم تحفظ کے احساس کو دور کریں۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top