تحریک انصاف کے رہنماوں کی مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی آفس آمد پر انتخابی اتحاد کے پیشکش Reviewed by Momizat on . پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم کے درمیان بہت سارے معاملات میں یکسوئی پائی جاتی ہے، مخدوم جاوید ہاشمی اگر رئیسانی حکومت بحال کی گئی تو اسلام آباد اور کوئٹہ کی جانب پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم کے درمیان بہت سارے معاملات میں یکسوئی پائی جاتی ہے، مخدوم جاوید ہاشمی اگر رئیسانی حکومت بحال کی گئی تو اسلام آباد اور کوئٹہ کی جانب Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » تحریک انصاف کے رہنماوں کی مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی آفس آمد پر انتخابی اتحاد کے پیشکش

تحریک انصاف کے رہنماوں کی مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی آفس آمد پر انتخابی اتحاد کے پیشکش

تحریک انصاف کے رہنماوں کی مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی آفس آمد پر انتخابی اتحاد کے پیشکش
پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم کے درمیان بہت سارے معاملات میں یکسوئی پائی جاتی ہے، مخدوم جاوید ہاشمی
اگر رئیسانی حکومت بحال کی گئی تو اسلام آباد اور کوئٹہ کی جانب الگ الگ لانگ مارچ کرینگے، علامہ امین شہیدی
بلوچستان سمیت چاروں صوبوں میں حکومت اپنی رٹ کھو چکی ہے، شاہ محمود قریشی
پاکستان تحریک انصاف کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ میں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی، وفد میں تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری عارف علوی سمیت دیگر رہنماء شریک تھے۔ وفد نے سانحہ علمدار روڈ کے خلاف مؤثر انداز میں صدائے احتجاج بلند کرنے پر ایم ڈبلیو ایم کے قائدین و کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا اور مجلس وحدت مسلمین کی سیاسی فعالیت کو سرزمین وطن پر ایک بڑی تبدیلی قرار دیا۔ ملاقات کے دوران ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ عالی کے رکن علامہ محمد اقبال بہشتی، مرکزی سیکرٹری امور جوانان علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی، سیکرٹری روابط ملک اقرار حسین، سیکرٹری فلاح و بہبود نثار علی فیضی اور ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری بھی موجود تھے۔
ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ملک میں اسٹیٹس کو کیخلاف لڑ رہی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ ان طاقتوں کے ساتھ مل آگے بڑھا جائے جو اسٹیٹس کو کیخلاف میدان عمل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا رہے، ہر طرف بربریت کی انتہا ہوگئی ہے، سانحہ علمدار روڈ ہو یا سانحہ چلاس، ملک میں حکومتی رٹ کا بھرم کھل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ایم ڈبلیو ایم کی لیڈر شپ سے ملاقات کا مقصد یہی تھا کہ وہ اسٹیٹس کیخلاف پی ٹی آئی کا ساتھ دے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ مل کر اس جدوجہد کا آغا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ڈبلیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے ملاقات میں ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جو آگے ان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے اور مشترکات پر بات چیت کو آگے بڑھانے میں کام کریگی۔
پی ٹی آئی کے صدر کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم کی لیڈر شپ سے پہلے بھی عمران خان ملاقات کر چکے ہیں اور یہ ملاقات انہی ملاقاتوں کا تسلسل ہے۔ ہم نے ملاقات میں ہم آہنگی اور پاکستان کے ایشوز پر دونوں جماعتوں کے اندر یکسوئی پائی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس ہم آہنگی کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ ملاقاتیں آئندہ بھی جاری رہنی چاہیئں۔ مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا۔ سانحہ علمدار روڈ پر ہمارا وفد عمران خان کی سربراہی میں کوئٹہ گیا اور ہزارہ شیعہ برادری سے اظہار یکجہتی کیا۔ آج کی ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کی لیڈر شپ نے ہماری باتیں اپنے اداروں میں ڈسکس کرنے اور کسی نتیجے پر پہنچنے کا یقین دلایا، امید ہے کہ آئندہ ملاقاتوں میں ہم کسی نتیجیے پر پہنچ جائیں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنی مشاورت کمیٹی میں فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان طاقتوں کو ساتھ لیکر چلیں گے جو ملک کو بیرونی طاقتوں کے چنگل سے آزاد اور وطن عزیز کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں، وہ قوتیں جو ملک کو بحرانوں سے نکالنا چاہتی ہیں۔ الحمد اللہ ہم نے ایم ڈبلیو ایم کی لیڈر شپ کے مؤقف کو اپنے قریب پایا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ان کے ساتھ مل کر آگے بڑھا جائے، کچھ نکات ایم ڈبلیو ایم کی قیادت نے بیان کیے ہیں اور کچھ ہم نے بیان کیے ہیں جو آگے تنظیمی اداروں میں ڈسکس ہونگے۔ ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بہت سارے لوگ جو گذشتہ پانچ برسوں میں اس حکومت کا حصہ رہے اور اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ان سے اتحاد ممکن نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں بدترین دہشتگردی کے بعد حکومت نے تسلیم کرلیا تھا کہ اس کی رٹ مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے، اب عوام کو بتایا جائے کہ ابتک اس سانحہ میں ملوث افراد کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ گورنر راج کے بعد سے لیکر اب تک وہاں کے حالات میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے جتنے بھی واقعات رونما ہیں ان میں ملوث کسی ایک شخص کو بھی گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت نے جہاں کوئٹہ میں سانحہ علمدار روڈ پر شہداء کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں اور اپنی حمایت کا یقین دلایا وہیں وہ خود ملتان میں جاری دھرنا میں شریک ہوئے۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کے وفد کو خوہش آمدید کہتے ہیں، ایم ڈبلیو ایم ایسی قوتوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہتی ہے اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتی ہے جو اس ملک کو مسائل سے نکالنے میں سنجیدہ ہیں اور اسٹیٹس کو کا خاتمہ چاہتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جماعتیں جو تکفیری سوچ کی حامل ہیں یا ان کی صفوں میں ایسے عناصر موجود ہیں ان سے ایم ڈبلیو ایم کا اتحاد ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جس انداز میں حکمرانی کی ہے اس کی مثال شاید ہی ماضی میں ملتی ہو۔ ہم ملک کو بیرونی قوتوں کے چنگل سے نکالنا چاہتے ہیں۔ جو بھی اس حوالے سے ہمارے ایجنڈے سے مطابقت رکھتا ہے ہم اس کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ آج کی ملاقات میں مذکورہ تمام چیزوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مشاورت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
گورنر راج کے خاتمے سے متعلق سوال کے جواب میں علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہم جمہوی لوگ ہیں اور جمہوریت کے حامی ہیں، تاہم اگر جمہوری لوگ دہشتگردوں کو پناہ دیتے ہوں اور انہیں جیلوں سے چھڑا کر فرار کراتے ہوں اور مظلوموں کا ساتھ نہ دیتے ہوں تو ایسی جمہوریت ہم نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رئیسانی حکومت کو بحال کیا گیا تو دو لانگ مارچ ہونگے ایک اسلام آباد کی طرف جائیگا اور دوسرا کوئٹہ کی طرف۔ ہم اس جمہوری حکومت کے حامی ہیں جو عوام کو ڈیلیور کرے، جو عوام کو تحفظ فراہم کرے اگر ایک جمہوری حکومت یہ چیزیں فراہم نہیں سکتی تو اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top