حملہ کیا تو نابود ہو جاو گے/ ہم بحرین کے انقلاب کی حمایت کرتے ہیں۔ Reviewed by Momizat on . حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری نے صہیونی حکمرانوں کو خبر دار کرتے ہوئے کہا: اگر لبنان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تو تمہارے ایئر پورٹس، بندرگاہوں اور بجلی حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری نے صہیونی حکمرانوں کو خبر دار کرتے ہوئے کہا: اگر لبنان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تو تمہارے ایئر پورٹس، بندرگاہوں اور بجلی Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » حملہ کیا تو نابود ہو جاو گے/ ہم بحرین کے انقلاب کی حمایت کرتے ہیں۔

حملہ کیا تو نابود ہو جاو گے/ ہم بحرین کے انقلاب کی حمایت کرتے ہیں۔

حملہ کیا تو نابود ہو جاو گے/ ہم بحرین کے انقلاب کی حمایت کرتے ہیں۔
حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری نے صہیونی حکمرانوں کو خبر دار کرتے ہوئے کہا: اگر لبنان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تو تمہارے ایئر پورٹس، بندرگاہوں اور بجلی کے کارخانوں کو نشانہ بنا کر پورے اسرائیل کو اندھیرے میں غرق کر دیں گے۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ حزب اللہ کے جنرل
سیکریٹری سید حسن نصراللہ نے آج منگل ۱۶ فروری کو ’’ رہبران شہداء‘‘ کے
حوالے سے منعقدہ ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم ان شہداء سے الہام
حاصل کرتے ہیں، ان کی وصیتوں پر عمل کرتے ہیں اور پائیداری اور استقامت کا
ثبوت دیتے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ ان رہبران شہداء نے ہمیشہ استقامت دکھائی
اور دشمن کے مقابلہ میں مقاومت کرنے کا درس دیا۔
انہوں نے کہا: شہید
راغب حرب، شہید عباس موسوی، شہید عماد مغنیہ وہ رہبران شہداء ہیں جنہوں نے
استقامت، پائیداری اور مقاومت سے کام لیا اور دشمن کے مقابلہ میں پہاڑ بن
کر کھڑے رہے۔
حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری نے کہا: ان رہبران شہداء کے
مدرسہ میں صرف استقامت اور پائیداری کا درس ملتا ہے انہوں نے اپنے دشمن کو
خوب پہچانا اسرائیل اور صہیونیسٹ کے خطرے کو خوب درک کیا۔ اور اس خطرہ کا
مقابلہ صرف مقاومت سے ہے۔ اسی وجہ سے شہید امام موسی صدر جیسے رہبران شہداء
نے ،مقاومت اور استقامت کی بنیاد ڈالی، انہوں نے اپنی جوانی، اپنی ساری
زندگی اسی راہ میں صرف کر دی اور آخر کار اسی راہ میں جان بھی دے دی اور
ہمیں سیکھا دیا کہ اسی راستے پر چلیں اس راستے کی نسبت وفادری کا ثبوت دیں۔
سید
حسن نصر اللہ نے مزید کہا: ۳۰ سال سے ہم ایک پہاڑ کے مانند کھڑے ہیں اور
دشمن کے وار کا بخوبی منہ توڑ جواب دے رہے ہیں یہ کوئی خواب نہیں ہے جو ہم
دیکھ رہے ہیں حقیقت ہے۔ ۳۰ سال سے لبنان کی استقامت پوری دنیا کے سامنے
واضح و آشکار ہے۔ استقامت کے نتیجہ میں مسلسل کامیابیاں ہمارے قدم چوم رہی
ہیں اور یاد رکھیے آخری کامیابی کا راستہ بہت لمبا ہے۔
استقامت فلسطینی قوم کا شعار
حزب
اللہ کے جنرل سیکریٹری نے کہا: اگر آج ہم فلسطین پر نگاہ کرتے ہیں تو ہمیں
معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز نے فلسطین کو آج تک فلسطین بچا کر رکھا ہے وہ
فلسطینوں کے مقاوت ہے اگر اسرائیل کو رسمیت دینے والی امریکہ کی ۱۹۸۲ میں
پلاننگ کامیاب ہو جاتی تو بغیر کسی شک و شبہ کے آج فلسطین کے چپے چپے پر
قبضہ ہو گیا ہوتا اور فلسطین کا نام و نشان مٹ گیا ہوتا۔
استقامت نے ’’اسرائیل بزرگ‘‘ کے منصوبہ کو نابود کیا اور امیدوں کو زندہ کیا۔
سید
حسن نصر اللہ نے تاکید کی: استقامت نے ’’اسرائیل بزرگ‘‘ کے منصوبہ کو خاک
میں ملایا اور امیدوں کو زندہ کیا۔ فلسطین اور لبنان مقاومت کے میدان میں
دل و جان کی طرح آپس میں متحد ہیں لبنان فلسطین کی حمایت کرتا ہے تا کہ وہ
اپنی استقامت سے اپنے حقوق اور اپنی زمین کو واپس لے سکے۔ جب لبنانی
اسرائیل کے مقابلہ میں اٹھے اور اپنے محکم عزم و ارادہ سے شہید ہوئے اور
اپنے عزم و ارادہ سے انہوں نے تاریخ کو رقم کر دیا اور ان کی یہی چیز سبب
بنی کہ غزہ میں بھی مقاومت کی لہر شروع ہو اور وہاں بھی انہیں کامیابی نصیب
ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ ملت فلسطین اپنے راستے کو جاری رکھیں اور ہم بھی
اپنی حمایت کو جاری رکھیں گے۔
بحرین کے پر امن انقلاب کی حمایت کرتے ہیں
حزب
اللہ کے جنرل سیکریٹری نے بحرین کی انقلابی تحریک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
کہا: ہم بحرین کی پرامن انقلابی تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور بحرین کے عوام
کو داد دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس ملک میں حکومتی عہدہ دار آپسی
گفتگو سے کسی مثبت نتیجے تک پہنچیں۔
لبنان کی مقاومت میں ایران اور شام کے کردار کو سراہا
انہوں
نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصہ میں ’’ لبنان کی تعمیر نو ادارہ کے سربراہ‘‘
حسن شاطری کی شہادت کی مناسبت سے ان کے لواحقین کو تسلیت عرض کرتے ہوئے
کہا: ہم ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو لبنان اور فلسطین کی ترقی
میں سہیم رہے ہیں خاص کر کے اسلامی جمہوریہ ایران اور شام کا شکریہ ادا
کرتے ہیں، اور حسن شاطری کی شہادت کی مناسبت سے تسلیت عرض کرتے ہیں۔
حزب
اللہ پر بعض تہمتوں کہ حزب اللہ کے افراد نے بلغارستان میں صہیونی کشتی پر
حملہ کیا کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ پر تہمت لگا کر بعض عربی
چینل یہ شوشہ پھیلا رہے ہیں کہ اب اسرائیل کا لبنان پر حملہ قطعی ہے اور
انہوں نے ایک بڑی جنگ کی پیشن گوئی کی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ یہ
عربی چینل خود ہی اس خبر کے مخترع ہیں اسرائیل نے ابھی تک ایسا کچھ کہا
نہیں۔ یہ خود عربی میڈیا ہے جو اسرائیل کو لبنان پر حملہ کے لیے اکسا رہا
ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مجھے ان اتہامات کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا
ہے اس لیے کہ ہم مسئلہ کو پرامن طریقہ سے حل کر رہے ہیں۔ بعض نے بہت جلدی
اس تہمت کو قبول کر لیا اور ہمارے خلاف فتوے صادر کرنے لگے اور ہمیں
ٹروریسٹوں کی لیسٹ میں شامل کرنے لگے۔
انہوں نے مزید واضح کیا: ان کا
بدترین اقدام تو یہ ہے کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ اسرائیل اس تہمت کے
نتیجے میں لبنان پر حملہ کرے گا۔ ہمیں اس بات پر افسوس ہے کہ یہ لوگ خود
لبنان میں رہ کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ میں یہاں واضح کر دوں کہ پہلی بات تو
یہ ہے کہ اسرائیل کو حملہ کے لیے کسی بہانے کی ضرورت نہیں ہے وہ تحقیق کا
منتظر نہیں رہتا۔ ۱۹۸۲ میں اسرائیل نے لندن میں اسرائیلی سفیر کے ٹرور ہونے
پر ایک فلسطینی گروہ کو متہم کیا تھا اور اس کے بعد وہ کسی تحقیقات کا
منتظر نہیں رہا۔
لبنان کے ساتھ جنگ اسرائیل کے لیے مزاق نہیں ہے
حسن
نصر اللہ نے کہا: اسرائیل جب بھی چاہے کوئی سا بہانہ بھی بنا سکتا ہے لیکن
آج حالات بدل گئے ہیں اب کئی بار اسرائیل نے حزب اللہ کو متہم کیا ہے لیکن
جنگ کرنے کی جرئت نہ کر سکا۔
انہوں نے تاکید کی: اسرائیل بہت دقیق حساب
و کتاب رکھتا ہے وہ ہر ٹکراو میں اپنی یقینی کامیابی کی فکر کرتا ہے وہ
معمولی تہمتوں پر جنگ نہیں کرے گا۔ ہمیں اسرائیل کو اتنا ہلکا نہیں سمجھنا
چاہیے۔
انہوں نے کہا: دوسری بات جو مجھے عرض کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہم
لبنانیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ سن ۲۰۰۰ کے بعد جو پوزیشن پیدا ہوئی ہے
وہ یہ ہے کہ اسرائیل جب لبنان پر حملہ کی سوچتا ہے تو اسے ہزاروں باتوں کو
مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔ گزشتہ تجربہ کو، اسرائیل کے سابقہ فوجی سرداروں کے
مشورے، فضائی، دریائی اور زمینی ٹارگٹوں کو اس طرح کے کئی موضوعات کو۔
ہر گز اسرائیل کے ظلم کے سامنے خاموش نہیں ہوں گے
نصر
اللہ نے کہا: جو باتیں میں نے اسرائیل کے بارے میں کہی ہیں وہ سب صحیح ہیں
لیکن میں پورے اطمینان سے اسرائیل کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر اسرائیل ایک
بار پھر لبنان کی سرزمین پر قدم رکھنے کی کوشش کرے تو ہم ہر گز خاموش نہیں
بیٹھیں گے۔
اسرائیل کی تنصیبات کو نابود کرنے کے لیے چند توپوں کی ضرورت ہے۔
جناب
حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو دھمکاتے ہوئے کہا: اسرائیل کے ایئر پورٹس،
بندرگاہیں، اور بجلی کے پروجیکٹس سارے ہماری دسترس میں ہیں۔ انہیں صرف چند
توپوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم اسرائیل کو اندھیرے میں غرق کر دیں۔ بجلی کے
پروجیکٹ جنہیں دوبارہ بحال کرنے میں ۶ مہینے ہوں گے۔ کیا اسے برداشت کریں
گے؟۔ وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ میں اس سے پہلے کہتا رہا ہوں وہ کر کے دکھاتا
رہا ہوں اسی وجہ سے وہ دن رات لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا: ہم اپنے
عزیز شہدا کے پاک خون سے کہتے ہیں کہ آپ کے فرزند اور شاگرد قوی عزم اور
محکم ارادہ کے ساتھ آپ کی وصیتوں پر عمل پیرا ہیں۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top