قائد ملت جعفریہ پاکستان : اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم اس ملک کو جام کرینگے اور تا دم مرگ جام رکھیں گے Reviewed by Momizat on . جعفریہ پریس - قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے آج کوئٹہ میں کوئٹہ یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام شہدائے علمدار روڈ کے چہلم کے پروگرا جعفریہ پریس - قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے آج کوئٹہ میں کوئٹہ یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام شہدائے علمدار روڈ کے چہلم کے پروگرا Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » قائد ملت جعفریہ پاکستان : اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم اس ملک کو جام کرینگے اور تا دم مرگ جام رکھیں گے

قائد ملت جعفریہ پاکستان : اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم اس ملک کو جام کرینگے اور تا دم مرگ جام رکھیں گے

قائد ملت جعفریہ پاکستان : اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم اس ملک کو جام کرینگے اور تا دم مرگ جام رکھیں گے
جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے آج کوئٹہ میں کوئٹہ یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام شہدائے علمدار روڈ کے چہلم کے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے خطاب کیا ۔ جو کہ جعفریہ پریس کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عزیزان گرامی سب سے پہلے جن شہدا کی یاد میںان کے اربعین کیلئے ہم جمع ہوئے ہیں ان کے ایصال ثواب کیلئے سورہ فاتحہ پڑھیں۔
میں ایک بار پھر تعزیت پیش کرتا ہوں شہدا کے خانوادوں کو تمام مومنین کو تمام امت مسلمہ کو انکے لواحقین کو اور اس کے ساتھ ساتھ اور جو لوگ دوسرے شہید ہوئے اور دوسرے میڈیا کے افراد یا دوسرے حضرات اور دوسرے مکاتب فکریا اداروں کے شہید ہوئے ہیں سب کے خانوادوں کو اور پسماندگان کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور سلام پیش کرتا ہوں۔
ایک مدت سے تشیع کے خلاف اس ملک کے اندر دو نوعیت کی سازشیں ہوتی رہیں ۔
پہلی سازش فرقہ واریت کے حوالے سے ہوئی کچھ گروہ پالے گئے جن کے ذریعہ تشیع کے خلاف غلیظ مہم جلائی گئیں ملک کے اندر آپ نے بھی دیکھا ملک کے اندر لیٹرز چپوایا گیا جوشاید کوئی حکومت نہ چاپ سکتی ہو۔ دیوار نویسی ہوئی ، وال چاکینگ ہوئی ، مظاہرے ہوئے، تقسیم ہوئیں غلیظ نارائے ،غلیظ فتوئے مسجدیں استعمال ہوئیں سپ کچھ ہوا لیکن آپ نے دیکھا اسی ملک کے اندر نہ اس پر مقدمہ قائم ہوا نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اس لئے کہ یہ پلاننگ کے تحت تھا منصوبہ بندی سے یہ کا م لیا جارہا تھا اور پھر اس کو آگے بڑا کر پارلمینٹ سیاسی قوانین پاس کروانے کی کوشش کی گئی جس سے تشیع کی شہری حیثیت کو کم کیا جائے شاید زبان تک یہ باتیں نہیں پہنچ سکیں بڑے تسلسل سے یہ جو صورت حال موجود رہی اس کے روشنی میں میں عرض کر رہا ہوں ایک طویل جد و جہد اور تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں میںعرض کر رہاہوں کہ کوششیں ہوئیں تشیع کی حیثیت اور انکی شہری حیثیت کو کم کیا جائے تا کہ تشیع کا راستہ تشیع کی حرکت کو روکنے کیلئے اقدامات کیا جائے اور انکو موقع مل سکے میں مختصر عرض کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کے اندر جتنے بھی اقدامات ہیں یا جو بھی دینی جماعتوں دینی قوتوں کے ساتھ اپنے راستے میں آئے تشیع کا مقام ہے پاکستان کے اندر تشیع کی حیثیت ہے ہم ایک گروہ کی حیثیت سے نھیں ہیں ہم ایک مکتب کی حیثیت سے ہیں اور ہمارا ایک مقام ہے اس لئے آپ جانتے ہیںکہ ہمارے تمام مکاتب فکر کے ساتھ تعلقات ہیں ہم نے اس فتنہ کو جس کو عوام تک لے جانا چاہتے تھے تا کہ نفرتیں پیدا ہوں سنی عوام کے اندر اس کا راستہ روکا اس کے باوجود بہت بڑی یلغار تھی بہت بڑی کوششیں تھیں اسکا مقابلہ کیا اس کے نتیجے میں جو کوششیں تھیں پارلیمنٹ کے اندر انکو ناکام بنایا اور وحدت و اتحاد کی کوششوں کو آگے بڑھایا اور میں کہہ چکا ہوں تشیع اس ملک کے اندر اتحاد و وحدت کے بانیوں میں سے ہیں مین مقام میں تشیع موجود ہے وحدت کے اندر ملی یکجہتی کونسل، متحدہ مجلس عمل اس میں بھی ہمارا رول رہاہے جو اب غیر فعال ہے ملی یکجھتی کونسل جواب دوبارہ فعال ہوئی اس میں بھی ہمارا مین رول ہے۔ اس وقت میں اس کا قائمقام صدر ہوں آئندہ صدر کے انتخاب کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے قاضی حسین احمد کے بعد، ہمارے سب سے رابطے ہیں کوئی ایسا اقدام کوئی ایسی بات جس سے مسلمان مکاتب فکر میں نفرتیں بڑهیں پہلے جو ہم نے اسکی مخالفت کی اسکی نفی کی ہے۔ جب اس میں ناکام ہوئے عوام تک اس سازش کو نه پہنچا سکے اور جو کوششیں تھیں پارلمنٹ کے اندر وه بھی ناکام ہوئیں تو اس کو کنورڈ کیا گیا مذہبی دہشتگردی میں نام مذہب کا تھا وہ پالے ہوئے لوگ تھے وہ تیار شدہ لوگ تھے انکے ٹریننگ کیمپ تھے ملک کے اندر اور ملک سے باہر بھی انکی ذمہ داری لگائی گئی کہ تشیع کے خلاف اس مہم کو دھشتگردی کو قتل عام کو آگے بڑھائیں مذہب کے نام پر، مذہب کا اس میں نام تھا ورنہ یہ مذہبی بات نہیں تھی وہ بھی دہشتگردی تھی قتل عام تھا نسل کشی تھی اور یہ اسی کا تسلسل ہے جو آج جار ی ہے دوسرے طبقات بھی اس سے متاثر ہیں لیکن یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اس کا تسلسل ہے کون ہیں یہ لوگ؟ انکی پشت پر کون ہے؟ اتنے طاقتور کیسے ہوئے ؟ انکا نیٹ ورک آج تک جاری ہے کس طریقہ سے ؟ میں معذرت کے ساتھ عرض کرونگا میرا اپنا موقف ہے میں دیکھ چکا صدر سے لیکر وزیر اعظم تک میں نے موقف پیش کیا ، لوگ جانتے ہیں جو حضرات مربوط ہیں . کوئٹہ کے حوالے سے ایک مستقل پیراگراف اور مستقل بات چیت ہوتی رہی صدر سے بھی اور وزیر اعظم سے بھی ، وزیر اعظم کی کانفرنس میں بھی ہم نے بات کی ، زائرین کے خلاف جو اقدامات ہوئے مستونگ میں یا اس سے پہلے 26 زائرین جن کو دیوار سے لگا کر گولیاں ماریں گئیں ان کا تذکرہ بھی ہم نے وزیر اعظم کی محفل میں کیا، جہاں اداروں کے لوگ بھی موجود تھے لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا اس لیئے کہ یہ بے بسی کا عالم ہے انکے اختیار میں کچھ نہیں ہے جو قوتیں پیچھے ہیں انکے وہ زیادہ طاقتور ہیں بدتر واقعہ تھا جن کا ہم چہلم منارہے ہیں بدترین واقعہ ہے پاکستان کی تاریخ کا جو کل رونما ہوا، کوئی ذمہ داری نہیں ہے کوئی اس کیلئے کچھ بتانے والا نہیں ہے ہم نے سارے حربے آزمائے۔ تاریخ بر صغیر کی سب سے بڑی علماء کانفرنس اسلام آباد کے اندر ہم نے منعقد کی یہاں سے حجة الاسلام و المسلمین حضرت علامہ جمعہ اسدی صاحب اور دوسرے علماء بھی اس میں شریک تھے اور اس موقف کو ہم نے حکمرانوں تک پہنچایا۔
تاریخ پاکستان کی (تاریخ تشیع پاکستان) سب سے بڑی ریلی عین قلب پاکستان کے اندر ہم نے ریلی منعقد کی اور اسکا موقف پہنچایا حکمرانوں تک لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا ۔ ہمدردی کرنا، بہت شکریہ بہت اچھی بات ہے لیکن اقدام کرنا یہ بتانا کہ یہ اقدامات ہوسکتے ہیں یا نہیں ہوسکتے ۔ مدت گذر گئی وہ نسلیں جوان ہوگئیں لیکن کوئی اقدام نہیں ہوا اب تک کسی قاتل کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ میں تو عینی شاہد ہوں ان باتوں کا ، سن 86 کے واقعات کے بعد کیس کا خاتمہ بھی ، مجھے یہ شرف حاصل ہوا کہ اس کے خاتمہ میں کردار تھا۔ میری اس وقت کے وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی قائد شہید کے حکم پر اور اس کیس کا خاتمہ ہوا، اس کا کوئی پرسانہ حال نہیں ہے ۔ کچھ نہیں آج تک بتایا گیا کوئی ایک قاتل بھی تختہ دار پر نہیں لٹکا ۔ قاتلوں کو مجرموں کو سزانہیں دی گئی۔
آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے آئین شہریوں کو جان مال عزت آبرو کی حفاظت کرتاہے ۔ مجھے اور میرے آباؤ اجداد کو وعدہ دیا تھا پاکستان نے پاکستان کی ریاست نے کہاتھا کہ تمھارے جان مال عزت و آبرو کی حفاظت کرونگی مجھے حکومتوں سے کوئی سوال نہیں کرنا ہے میں جانتاہوں ، جتنا میں جانتا ہوں شاید آپ میں سے کوئی بھی نہ جانتا ہو، حکمرانوں کے بس کی بات نہیں ہے ۔ ریاست پر میں سوالیہ نشان لگاتا ہوں . پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی عزت آبرو و جان و مال کا تحفظ کرے پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ حقایق کو لوگوں تک پہنچائے ۔ یہ بھی آئین کے اندر ہے کون لوگ ہیں یہ؟ پلتے کہاں ہیں؟ کون انکی پشت پرہے؟ اتنے منظم اور جدید اسلحہ کے ساتھ جدید ٹیکنیک کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں یہ بغیر کسی منظم ادارے کے ممکن نہیں ہے ۔ آرائیں آئیں ۔ جذبات آئے میں سب کا احترام کرتاہوں ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں ہم نے پہلے طے کیا پچھلے دفعہ بھی یکجہتی کونسل بلوچستان کے حالات کو دیکھ کر یہاں آپنے رہنا ہے۔ آپ یہاں کے شہری ہیں اور باسی ہیں اور مدت کو رہنا ہے یہاں کے قبائل کے ساتھ ، یہاں کے لوگوں کے ساتھ یہاں کے مسالک کے ساتھ آپ کے تعلقات ہونے ہیںجس کا اظہار کیا اس کو دیکھ کر پاکستان کے معروضی حالات کو دیکھ کر یکجہتی کونسل فیصلہ کرے ہم اس کے ساتھ بھرپور تعاون کرینگے ، پہلے بھی کیا آپ نے دیکھا ملک کی مین شاہراہیں جام ہوئیں کراچی کا ائیر پوٹ جام ہوا ریلوے جام ہوا اور میں سمجھتا ہوں کہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم اس ملک کو جام کرینگے اور تا دم مرگ جام رکھیں گے جب اس ملک کا جب کوئی مسئول نہیں ہے کوئی ذمہ دار نہی ہیں ۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top