اسلام آباد: شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، لشکر جھنگوی کا ہیڈ کوارٹرز پنجاب میں ہے، رحمان ملک Reviewed by Momizat on . پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے لئے پیسہ باہر سے آتا ہے لیکن کارروائی کرنے والے عناصر پاکستانی ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے لئے پیسہ باہر سے آتا ہے لیکن کارروائی کرنے والے عناصر پاکستانی ہیں۔ Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » اسلام آباد: شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، لشکر جھنگوی کا ہیڈ کوارٹرز پنجاب میں ہے، رحمان ملک

اسلام آباد: شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، لشکر جھنگوی کا ہیڈ کوارٹرز پنجاب میں ہے، رحمان ملک

اسلام آباد: شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، لشکر جھنگوی کا ہیڈ کوارٹرز پنجاب میں ہے، رحمان ملک
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے لئے پیسہ باہر سے آتا ہے لیکن کارروائی کرنے والے عناصر پاکستانی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم لشکری جھنگوی کے خلاف پنجاب حکومت کو ایکشن لینا ہوگا جبکہ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت میں شامل بعض افراد دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ لشکر جھنگوی کا ہیڈ کوارٹرز پنجاب میں ہے۔ بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی میں کوئی لڑائی نہیں۔ دہشت گردی کے لئے پیسہ باہر سے آتا ہے لیکن کارروائی کرنے والے عناصر پاکستانی ہیں۔ ادھر سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پنجاب کے حکمران دہشت گردوں سے پنجاب میں دھماکے نہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو پروٹوکول فراہم کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ملک کے لئے ناسور بن چکا ہے جس کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششیں نہ ہوئیں تو مثبت نتائج نہیں نکلیں گے۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top