ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں لیکن مذاکرات کا آغاز کرنے سے قبل مضبوط ضمانتیں لی جائیں Reviewed by Momizat on . جعفریہ پریس - جمعیت علماءاسلام (ف) کے زیر اہتمام کنونشن سینٹر اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں کی قیادت نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ قیام امن ک جعفریہ پریس - جمعیت علماءاسلام (ف) کے زیر اہتمام کنونشن سینٹر اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں کی قیادت نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ قیام امن ک Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں لیکن مذاکرات کا آغاز کرنے سے قبل مضبوط ضمانتیں لی جائیں

ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں لیکن مذاکرات کا آغاز کرنے سے قبل مضبوط ضمانتیں لی جائیں

ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں لیکن مذاکرات کا آغاز کرنے سے قبل مضبوط ضمانتیں لی جائیں
جعفریہ پریس – جمعیت علماءاسلام (ف) کے زیر اہتمام کنونشن سینٹر اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں کی قیادت نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ قیام امن کا موثر ذریعہ مذاکرات ہیں، حکومت طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دے۔ تمام جماعتوں نے فاٹا میں امن کیلئے گرینڈ جرگہ کی حمایت کردی۔ اے پی سی کے اختتام پر 5 نکاتی اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ گرینڈ قبائلی جرگہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام فریقین سے بات چیت کے لئے بااختیار ہو گا، طالبان سے مذاکرات آئین پاکستان کے دائرہ کار کے اندر رہ کر کئے جائیں گے اور متعلقہ قوانین و حکومتی رٹ کو یقینی بنایا جائیگا، اعلامیہ میں کہا گیا موجودہ عبوری اور آئندہ حکومت طے شدہ سفارشات پر عملدر آمد کی پابند ہوں گی، اے پی سی نے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین کے لئے ٹرسٹ قائم کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ اے پی سی میں قومی قیادت نے قرار دیا ہے کہ قیام امن کا موثر ذریعہ مذاکرات ہیں، امن کا دروازہ فاٹا میں ہے۔ قائدین نے فاٹا کے سیاسی مستقبل اور قیام امن کے لیے گرینڈ قبائلی جرگہ کے مشترکہ اعلامیے کی توثیق بھی کردی ۔قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے شورش زدہ علاقوں میں قیام امن کے لیے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنے اور خارجہ تعلقات کے لیے پارلیمنٹ کی سفارشات کے مطابق نئی خارجہ پالیسی مرتب کرنے کا بهی مطالبہ کیا گیا۔ جبکہ حکومت سے قبائلیوں پر ڈرون حملے بند کرانے اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر افغانستان میں بیرونی مداخلت بند کرنے، امریکی و نیٹو افواج کی انخلا اور افغانستان میں جامع سیاسی حل کی مکمل حمایت کی گئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام اے پی سی میں مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف ، محسن پاکستان ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، چیف آف وزیرستان او ر قبائلی جرگہ کے سربراہ ملک قادر خان ،قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان ،جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن ، پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم ، اسلامی تحریک کے صدر اور قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت الله علامہ سید ساجد علی نقوی، مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین ، عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر سینیٹر حاجی عدیل ، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر ، جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینیٹر ساجد میر، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی ، نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر میر حاصل بزنجو ، عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد ، لیاقت بلوچ ،سراج الحق ،مشاہد حسین سید ، شبیر احمد خان پیر عبدالرحیم نقشبندی ،سینیٹر افراسیاب خٹک ،اتحاد تنظیمات مدارس و دینیہ کے قائدین اور دیگر 30 سے زائد دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم ہاﺅس میں کچھ سال قبل اے پی سی ہوئی تھی ۔ معاملے کو افہام وتفہیم کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اصلاح و احوال کے لیے پارلیمنٹ نے بھی متفقہ قرار داد منظور کی مگر حکومت اس حوالے سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھی ۔ اگر عمل کرلیا جاتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ۔ سب مطالبہ کرتے رہے کہ ڈرون حملے بند کیے جائیں بعد میں پتہ چلا کہ ڈرونز طیارے پاکستان کی سرزمین ہی سے اڑتے ہیں اوریہی لینڈ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند ہفتے قبل طالبان کی طرف سے مذاکرات کی بات کی گئی تھی ۔ ہمیں پیشکش کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور امن مذاکرات کا آغاز ہونا چاہئے امن مذاکرات سے ہوتا ہے جنگ یا مار دھاڑ سے نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امن کی بات صرف فاٹا نہیں ، بلوچستان ، کراچی ، لاہور ، پشاور ، افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے کررہے ہیں ۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ قیام امن کے لیے ہرکوشش کا ساتھ دیں گے۔ مذاکرات کے لیے پاکستان کے آئین، قوانین اور حکومتی رٹ کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں امن کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ قبائلیوں کی حب الوطنی پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ قبائلی جرگے کے سربراہ ملک قادر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ قبائلی عوام کو دہشت گرد نہ کہا جائے۔ ان پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے، ان حالات سے نکالا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کانفرنس سے امن کے عظیم مقصد کو رہنمائی ملے گی، امن کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل نہ ہو سکا ، امن وامان کی صورتحال مایوس کن ہے، لیکن اس سے گھبرا کر گھر نہیں بیٹھ سکتے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہئے، تاہم حکومت کی جانب سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا، قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن امریکی ایما پر شروع نہیں کیا گیا تو خاتمے کا اختیار ہمارے پاس ہونا چاہئے۔ منور حسن نے کہا کہنے سننے کی بجائے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ آفتاب شیر پاﺅ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان ہتھیار ڈال دیں تو پھر مذاکرات کی ضرورت کیا ہے، جب تک خیبر پختوانخوا کی تمام قیادت کسی ایک بات پر متفق نہیں ہوگی، امن کا قیام نہیں ہو سکتا۔
آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک کے صدر اور قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت الله علامہ سید ساجد علی نقوی کہا کہ ہماری ہمدردیاں قبائل کے ساتھ ہیں، قبائل کی بربادی کو روکنا ہوگا۔ دہشت گردی نت نئے انداز سے جاری ہے، ملک میں جاری دہشت گردی کا حوالہ مذہبی ہے لیکن درحقیقت پاکستان میں مختلف مسالک کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے اور شیعہ سنی جنگ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ موجودہ حالات کا بہترین حل مذاکرات ہے ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں لیکن مذاکرات کا آغاز کرنے سے قبل مضبوط ضمانتیں لی جائیں کیونکہ آزاد ڈائیلاگ سے دہشت گردوں کے حوصلے مزید بلند ہو جائیں گے۔ کنونشن سنٹر میں منعقدہ اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہا کہ ریاست کے ذمہ داران حقائق لوگوں سے چھپاتے ہیں اور انہیں موجودہ دگرگوں صورتحال کے اصل اسباب و علل نہیں بتائے جاتے۔ دہشت گردی کے مرتکب افراد کو سزائیں نہیں دی جاتیں، گمراہ کن صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک میں مختلف دہشت گرد گروہوں کے نام منظر عام پر آ رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو کس نے تیار کیا ؟ اسلامی تحریک کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ ہم نے حکومتی ادنٰی ملازم سے لیکر اعلٰی ترین فرد صدر پاکستان تک سب پر حجت تمام کر دی ہے، لیکن حکومت اس صورتحال میں بے بس ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی خودکش حملہ ہوتا ہے کہا جاتا ہے علماء خود کش بمبار کے خلاف فتویٰ دیں۔ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان خودکش حملہ آوروں کو پالتا کون ہے، کہاں سے آتے ہیں۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے سانحہ علمدار روڈ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آج تک دہشت گردی کے کسی واقعہ میں کسی مسلک کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ مذکورہ سانحہ کے بعد گورنر راج لگا دیا گیا، لیکن ذمہ داران کو کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔
کانفرنس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان، شیخ رشید احمد، فاروق ستار، محموداچکزئی، پروفیسر ساجد میر، افراسیاب خٹک اور دوسرے رہنماﺅں نے بهی خطاب کیا ۔ قائدین نے کہا کہ قوم کو خون آلود مستقبل دینا ہے یا امن کی جنت عطا کرنی ہے ، فیصلہ جلد کرنا ہوگا صورتحال سے نہیں ڈرتے ، مسئلے کے حل کے لیے باجوڑ اور وزیرستان جانے کیلئے تیار ہیں۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top