سانحہ عباس ٹاون کیخلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کیا جائیگا، علامہ ناصر عباس جعفری Reviewed by Momizat on . اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے دہشتگردی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، لٰہذا اب ح اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے دہشتگردی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، لٰہذا اب ح Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » سانحہ عباس ٹاون کیخلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کیا جائیگا، علامہ ناصر عباس جعفری

سانحہ عباس ٹاون کیخلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کیا جائیگا، علامہ ناصر عباس جعفری

سانحہ عباس ٹاون کیخلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کیا جائیگا، علامہ ناصر عباس جعفری
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے دہشتگردی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، لٰہذا اب حکومت اور ان اداروں کے افسران اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے فی الفور مستعفی ہوجائیں۔
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کیا جائے گا اور پوری قوم اس روز کو یوم وحدت کے طور پر منائے گی۔ انہوں نے ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت اقلیتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ملک گیر احتجاج میں شریک ہوکر ثابت کریں کہ پوری قوم دہشتگردی کیخلاف ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان گذشتہ تین دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ہے اور ریاستی اداروں کی سرپرستی میں دہشتگردوں کی جانب سے ایک تسلسل کے ساتھ شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ ضیاءالحق کے دور آمریت میں پروان چڑھائے گئے ملک دشمن گانگریسی و امریکی دہشتگردوں کے ہاتھوں ابتک 20 ہزار سے زائد علمائے کرام، ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیسرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شیعہ مرد و خواتین کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا یہ عفریت آج پورے ملک کو اپنی لپیٹ لے چکا ہے، لیکن ارباب اختیار و اقتدار اس پر ابتک بےحسی اختیار کئے ہوئے ہیں، آج ان ریاستی اداروں کے بنائے ہوئے دہشتگردوں کے ہاتھوں نہ ہی افواج پاکستان کے ٹھکانے، نیوی اور ائیر بیسز حتٰی کہ معصوم بچوں کے اسکولز، مزارات، مساجد، امام بارگاہیں، میلاد النبی کے جلوسوں سمیت کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہماری افواج، حکومت، سیاسی و مذہبی جماعتیں اور سول سوسائٹی ان دہشتگردوں کی سرپرستی کرنے والے عناصر کا مکمل بائیکاٹ کریں، کیونکہ یہ دہشتگردی پاکستان کی سلامتی اور پاکستان کے عوام کے لئے اب ایک کھلا چیلنج بن چکی ہے۔ صرف رواں سال کے اندر سانحہ علمدار روڈ دس جنوری کو 89 افراد، سولہ فروری کو ہزارہ ٹاؤن کے اندر ہونے والے بم دھماکے میں 116 اور اب سانحہ کراچی میں 58 سے زائد افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے دہشتگردی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، لٰہذا اب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اور ان اداروں کے افسران اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے فی الفور مستعفی ہو جائیں۔ سانحہ کراچی جہاں ان اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، وہیں اس سانحہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے پاس دہشتگردی کو روکنے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں ہے، ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انسانیت کے دشمنوں سے مذاکرات کی بات کی جائے۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ جمعہ کے روز دہشتگردی کیخلاف ملک گیر احتجاج کیا جائیگا، اس احتجاج میں ملک بھر کی تمام شیعہ سنی تنظیمیں شرکت کریں گے اور دہشتگردی سے اظہار برائت کریں گے۔

ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ ہم تمام شیعہ سنی علماء سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس احتجاج میں شریک ہوکر مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں، ہم یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ اگر حکومت کی طرف سے جمعہ تک دہشتگردوں کیخلاف ملک بھر میں ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز نہ کیا گیا اور وہ جماعتیں جو نام بدل بدل کر کام کر رہی ہیں، ان کو بین نہ کیا گیا تو جمعہ سے ہی دہشتگردی کیخلاف ملک گیر تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا، جو ملک میں دہشتگردی کے خاتمے تک جا رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ملک میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے، لیکن اسے ایک سازش کے تحت مسئلہ بنانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top