حزب اللہ ہر طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار Reviewed by Momizat on . حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے منگل کی شب المنار ٹی وی چینل سے براہ راست نشر ہوئے اپنے خطاب میں شام کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات پر تاکید کی کہ اس ملک حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے منگل کی شب المنار ٹی وی چینل سے براہ راست نشر ہوئے اپنے خطاب میں شام کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات پر تاکید کی کہ اس ملک Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » حزب اللہ ہر طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار

حزب اللہ ہر طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار

حزب اللہ ہر طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے منگل کی شب المنار ٹی وی چینل سے براہ راست نشر ہوئے اپنے خطاب میں شام کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات پر تاکید کی کہ اس ملک کے موجودہ بحران کا حل صرف ڈپلومیٹک گفتگو کے ذریعے ممکن ہے۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے منگل کی شب المنار ٹی وی چینل سے براہ راست نشر ہوئے اپنے خطاب میں شام کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات پر تاکید کی کہ اس ملک کے موجودہ بحران کا حل صرف ڈپلومیٹک گفتگو کے ذریعے ممکن ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے شام کے بحران کو نہایت حساس اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کا بحران نہ صرف شام کے لیے بلکہ پورے علاقے منجملہ لبنان اور فلسطین کے خطرناک ہے۔
سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ بحران شام ميں دشمنوں کي سازشوں کا مقصد اس ملک کو کمزور مرکزي حکومت والے تصادم کے شکار ملک ميں تبديل کر دينا ہےـ
سيد حسن نصر اللہ نے منگل کے روز بيروت ميں اپنے خطاب ميں کہا کہ شام ميں جوکچھ ہو رہا ہے اس کا مقصد صرف شام کو اسرائيل مخالف مزاحمتي محاذ سے ہٹانا نہيں بلکہ اصلي ہدف يہ ہے کہ شام کي قوم، معاشرے اور فوج کو تہس نہس کر ديا جائے اور شام اپنے تيل و گيس کے ذخائر اور اثاثوں کے بارے ميں کوئي فيصلہ کرنے پر قادر نہ رہےـ
انہوں نے کہا کہ کچھ عرب اور مغربي ممالک شام کو تباہ کر دينے کي کوشش کر رہے ہيں تا کہ اس کے ذخائر پر قبضہ کر ليں اور علاقائي امور ميں شام کے کليدي کردار کو ختم کر ديں ـ
سيد حسن نصر اللہ نے کہا کہ يہ ممالک پہلے بھي کہہ چکے ہيں کہ شام اپنے وجود سے بڑھ کر علاقائي ممالک ميں کردار ادا کر رہا ہےـ
حزب اللہ لبنان کے سکريٹري جنرل سيد حسن نصر اللہ نے شام کي حکومت، حکومتي اہلکاروں، فوجيوں اور حکومت کے حامي بے گناہ عوام کے قتل کا فتوے دينے والے مفتيوں پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے تشدد ميں اور بھي اضافہ ہوگاـ
سيد حسن نصر اللہ نے کہا کہ دو سال کي جنگ سے ثابت ہو گيا کہ شامي حکومت کو عسکري اقدامات ميں گرايا نہيں جا سکتاـ
انہوں نے شام کي سرحد کے قريب آباد قصير جيسے لبناني قريوں اور قصبوں کے عوام پر شام ميں سرگرم دہشت گرد تنظيموں کے حملوں کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ حکومت لبنان سرحدي علاقوں کے عوام کي مدد سے قاصر ہے تاہم حزب اللہ ان حملوں پر خاموش نہيں رہ سکتي بلکہ جب ان علاقوں کے عوام مدد مانگيں گے تو ان کي مدد کي جائے گي۔
انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ جو لوگ یہ تصور کر رہے ہیں کہ حزب اللہ کمزور پڑ گئی ہے اس کی مزاحمتي قوت کمزور پڑگئي ہے وہ سخت غلطي پر ہیں۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ ہم ملک کے اندر اور باہر سے لبنان کے خلاف ہونے والي ہر طرح کي جارحيت کا مقابلہ کرنے کے لئے پوري طرح تيار ہيں۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top