روفیسر سبط جعفر زیدی سمیت 8 افراد کے قتل میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کا امیر گرفتار Reviewed by Momizat on . اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے پروفیسر سبط جعفر زیدی اور ڈاکٹر حسن عالم سمیت فرقہ ورانہ بنیاد پر 8 افراد کے قتل میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کے امیر کو اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے پروفیسر سبط جعفر زیدی اور ڈاکٹر حسن عالم سمیت فرقہ ورانہ بنیاد پر 8 افراد کے قتل میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کے امیر کو Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » روفیسر سبط جعفر زیدی سمیت 8 افراد کے قتل میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کا امیر گرفتار

روفیسر سبط جعفر زیدی سمیت 8 افراد کے قتل میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کا امیر گرفتار


اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے پروفیسر سبط جعفر زیدی اور ڈاکٹر حسن عالم سمیت فرقہ ورانہ بنیاد پر 8 افراد کے قتل میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کے امیر کو حب ریور روڈ سے گرفتار کرکے اسلحہ اور دستی بم برآمد کرلئے، ملزم پولیس کا برطرف اہلکار ہے اور اس سے قبل بھی گرفتار ہوچکا ہے جبکہ سی آئی ڈی پولیس نے بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان کے رکن کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی ایس آئی یو فاروق اعوان نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر ایس آئی یو پولیس نے لنک روڈ لکی پہاڑی حب ریور روڈ پر چھاپہ مار کر کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کے امیر طارق شفیع انصاری عرف ڈاکٹر عرف حاجی صاحب عرف بڑے میاں کو فائرنگ کے تبادلے کے بعد گرفتار کرلیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے 2 دستی بم، ایک 44 بور رائفل، ایک 8 ایم ایم پستول، ایک پستول اور متعدد گولیاں برآمد کرلیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی 7 وارداتوں میں ملوث ہے اور ان وارداتوں میں ملزم نے 8 افراد کو قتل کیا ہے۔ ملزم طارق شفیع کو لشکر جھنگوی کے امیر حافظ قاسم رشید کی گرفتاری کے بعد لشکر جھنگوی کراچی کا امیر بنایا گیا تھا۔ ملزم کے گروہ میں وسیم بارودی، ذیشان اور نسیم فرعون شامل ہیں۔ ملزم اس سے قبل 2001ء میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ہوا تھا اور 2008ء میں عدالت سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جس کے بعد سے وہ دوبارہ اپنی کارروائیوں میں مصروف ہوگیا۔ ایس ایس پی ایس آئی یو کا کہنا تھا کہ ملزم کے قبضے سے ایک ہٹ لسٹ بھی برآمد ہوئی ہے، جس میں اس کے آئندہ کے ٹارگٹ درج ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ملزم طارق شفیع محکمہ پولیس میں وائرلیس آپریٹر تھا اور پہلی مرتبہ گرفتاری کے بعد اسے محکمہ پولیس کی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اسے کراچی سینٹرل جیل سے گرفتار دہشت گرد حافظ قاسم رشید موبائل فون کے ذریعے ہدایات دیتا ہے، جس پر وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم نے 18 مارچ کو لیاقت آباد کے علاقے میں سندھی ہوٹل کے قریب سوزخواں، شاعر اور گورنمنٹ کالج کے پرنسپل پروفیسر سبط جعفر زیدی کو قتل کیا جبکہ 2012ء اور رواں سال کے دوران کریم آباد پل پر فائرنگ کرکے سید احسن نقوی اور ضیاء مہدی کو قتل کیا۔ نیو کراچی کے علاقے میں کار پر فائرنگ کرکے ڈاکٹر حسن عالم زیدی کو قتل کیا۔ میکرو مال کے قریب فائرنگ کرکے مشتاق حسین کو قتل کیا۔ محفوظ شیر مال والی گلی میں فائرنگ کرکے سید قمر رضا نقوی کو قتل کیا۔ پاپوش نگر میں فائرنگ کرکے حسن صفدر نقوی اور بزنس ریکارڈر روڈ پر فائرنگ کرکے اکمل محسن رضوی قتل کیا ہے۔ پولیس ملزم سے مزید تفتیش کر رہی ہے جبکہ سی آئی ڈی پولیس نے کورنگی صنعتی ایریا سے کالعدم تحریک طالبان کے رکن کامران عرف کامی کو گرفتار کرکے ایک ٹی ٹی پستول برآمد کر لیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم بینک ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا اور بینک ڈکیتی سے حاصل ہونے والی رقم کالعدم تحریک طالبان کو فراہم کرتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے 2011ء میں نیول کالونی میں یو بی ایل کی برانچ سے 68 لاکھ روپے، سولجر بازار میں سونیری بینک سے 52 لاکھ روپے، 2012ء میں جمشید کوارٹر میں بینک اسلامی سے 18 لاکھ روپے کی ڈکیتی کی وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔ سی آئی ڈی پولیس کے مطابق ملزم جیل پولیس کا برطرف سپاہی تھا۔
اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے پروفیسر سبط جعفر زیدی اور ڈاکٹر حسن عالم سمیت فرقہ ورانہ بنیاد پر 8 افراد کے قتل میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کے امیر کو حب ریور روڈ سے گرفتار کرکے اسلحہ اور دستی بم برآمد کرلئے، ملزم پولیس کا برطرف اہلکار ہے اور اس سے قبل بھی گرفتار ہوچکا ہے جبکہ سی آئی ڈی پولیس نے بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان کے رکن کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی ایس آئی یو فاروق اعوان نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر ایس آئی یو پولیس نے لنک روڈ لکی پہاڑی حب ریور روڈ پر چھاپہ مار کر کالعدم لشکر جھنگوی کراچی کے امیر طارق شفیع انصاری عرف ڈاکٹر عرف حاجی صاحب عرف بڑے میاں کو فائرنگ کے تبادلے کے بعد گرفتار کرلیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے 2 دستی بم، ایک 44 بور رائفل، ایک 8 ایم ایم پستول، ایک پستول اور متعدد گولیاں برآمد کرلیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی 7 وارداتوں میں ملوث ہے اور ان وارداتوں میں ملزم نے 8 افراد کو قتل کیا ہے۔ ملزم طارق شفیع کو لشکر جھنگوی کے امیر حافظ قاسم رشید کی گرفتاری کے بعد لشکر جھنگوی کراچی کا امیر بنایا گیا تھا۔ ملزم کے گروہ میں وسیم بارودی، ذیشان اور نسیم فرعون شامل ہیں۔ ملزم اس سے قبل 2001ء میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ہوا تھا اور 2008ء میں عدالت سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جس کے بعد سے وہ دوبارہ اپنی کارروائیوں میں مصروف ہوگیا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو کا کہنا تھا کہ ملزم کے قبضے سے ایک ہٹ لسٹ بھی برآمد ہوئی ہے، جس میں اس کے آئندہ کے ٹارگٹ درج ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ملزم طارق شفیع محکمہ پولیس میں وائرلیس آپریٹر تھا اور پہلی مرتبہ گرفتاری کے بعد اسے محکمہ پولیس کی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اسے کراچی سینٹرل جیل سے گرفتار دہشت گرد حافظ قاسم رشید موبائل فون کے ذریعے ہدایات دیتا ہے، جس پر وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم نے 18 مارچ کو لیاقت آباد کے علاقے میں سندھی ہوٹل کے قریب سوزخواں، شاعر اور گورنمنٹ کالج کے پرنسپل پروفیسر سبط جعفر زیدی کو قتل کیا جبکہ 2012ء اور رواں سال کے دوران کریم آباد پل پر فائرنگ کرکے سید احسن نقوی اور ضیاء مہدی کو قتل کیا۔ نیو کراچی کے علاقے میں کار پر فائرنگ کرکے ڈاکٹر حسن عالم زیدی کو قتل کیا۔ میکرو مال کے قریب فائرنگ کرکے مشتاق حسین کو قتل کیا۔ محفوظ شیر مال والی گلی میں فائرنگ کرکے سید قمر رضا نقوی کو قتل کیا۔ پاپوش نگر میں فائرنگ کرکے حسن صفدر نقوی اور بزنس ریکارڈر روڈ پر فائرنگ کرکے اکمل محسن رضوی قتل کیا ہے۔
پولیس ملزم سے مزید تفتیش کر رہی ہے جبکہ سی آئی ڈی پولیس نے کورنگی صنعتی ایریا سے کالعدم تحریک طالبان کے رکن کامران عرف کامی کو گرفتار کرکے ایک ٹی ٹی پستول برآمد کر لیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم بینک ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا اور بینک ڈکیتی سے حاصل ہونے والی رقم کالعدم تحریک طالبان کو فراہم کرتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے 2011ء میں نیول کالونی میں یو بی ایل کی برانچ سے 68 لاکھ روپے، سولجر بازار میں سونیری بینک سے 52 لاکھ روپے، 2012ء میں جمشید کوارٹر میں بینک اسلامی سے 18 لاکھ روپے کی ڈکیتی کی وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔ سی آئی ڈی پولیس کے مطابق ملزم جیل پولیس کا برطرف سپاہی تھا۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top