انقلاب امام (رح) کے فعال ساتھی حجت الاسلام حاج سید جواد حسینی کا انتقال پرملال Reviewed by Momizat on . حجت الاسلام والمسلمین جناب سید جواد حسینی امام خمینی(رح) کے شاگردوں اور اسلامی انقلاب کے فعال راہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دین مبین کی تبل حجت الاسلام والمسلمین جناب سید جواد حسینی امام خمینی(رح) کے شاگردوں اور اسلامی انقلاب کے فعال راہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دین مبین کی تبل Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » انقلاب امام (رح) کے فعال ساتھی حجت الاسلام حاج سید جواد حسینی کا انتقال پرملال

انقلاب امام (رح) کے فعال ساتھی حجت الاسلام حاج سید جواد حسینی کا انتقال پرملال

انقلاب امام (رح) کے فعال ساتھی حجت الاسلام حاج سید جواد حسینی کا انتقال پرملال
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید جواد حسینی امام خمینی(رح) کے شاگردوں اور اسلامی انقلاب کے فعال راہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دین مبین کی تبلیغ میں گذارا۔ انھوں نے انقلاب اسلامی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اور انقلاب اسلامی کے بعد متعدد سیاسی اور ثقافتی مناصب پر خدمات انجام دیں اور ان کا کردار مقدس اسلامی نظام کے استحکام میں بہت اہم تھا۔

انقلاب امام (رح) کے فعال ساتھی حجت الاسلام حاج سید جواد حسینی کا انتقال پرملال

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم کی عالم و فاضل شخصیت جناب حجت الاسلام حاج سید جواد حسینی ـ جو دوسری اور چوتھی مجلس شوریٰ میں ’’علی آباد کتول‘‘ کے نمائندے (ایم پی) تھے طویل علالت کے بعد آج صبح دعوت حق کو لبیک کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
جناب حجت الاسلام والمسلمین سید جواد حسینی کئی سال سے دماغی حملے اور اس کے عوارض کو برداشت کرتے آئے تھے آخر کار آج صبح شہر قم مقدسہ کے ایک مقامی شفاخانے میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
وہ امام خمینی(رح) کے شاگردوں اور اسلامی تحریک کے فعال اور بزرگ کارکنوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تبلیغ دین اور انقلاب امام خمینی(رح) کی کامیابی کے لئے کوششوں میں گذارا اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی مختلف سیاسی اور ثقافتی مناصب پر فائز رہے اور اہم خدمات سرانجام دیں اور مقدس اسلامی نظام کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔
حالات زندگی:
حجت الاسلام والمسلمین حاج سید جواد حسینی سنہ 1318 ہجری شمسی (1939) کو ایرانی صوبے گلستان کے شہر علی آباد کتول کے ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے اور بچپن کو اپنے والد کے زیر تربیت گذارا۔ ان کے والد اور دادا دینی علماء میں سے تھے چنانچہ انھوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد گرگان کے حوزہ علمیہ میں دینی علوم کے حصول کا آغاز کیا اور اس کے بعد حوزہ علمیہ مشہد مقدس چلے گئے اور امام رؤوف حضرت علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) کی مجاورت میں حوزوی علوم کے حصول کا اہتمام کیا۔
حجت الاسلام والمسلمین حاج سید جواد حسینی اس کے بعد صوبہ سمنان کے حوزہ علمیہ شاہرود چلے گئے اور آخر کار حوزہ علمیہ قم اور حوزہ علمیہ نجف کے بزرگ اساتذہ سے فیضیابی کی غرض سے ان شہروں کی طرف عزیمت کی۔
اساتذہ:
حجت الاسلام والمسلمین حاج سید جواد حسینی نے قم اور نجف میں جن بزرگ اساتذہ سے فیض حاصل کیا ان میں حضرات آیات امام خمینی، گلپایگانی، مرعشی نجفی، سید محمود شاهرودی، میلانی، شهید مطهری، فاضل لنکرانی (رحمۃاللہ علیہم اجمعین) نیز حضرات آیات خامنہ ای اور وحید خراسانی شامل ہیں۔
سیاسی سرگرمیاں:
وہ امام خمینی(رح) کے ان قریبی ساتھیوں سے تھے جنہوں نے انقلاب اسلامی کے دوران اسلامی تحریک کو نتیجے تک پہنچانے کے لئے بہت صعوبتیں جھیلیں اور کئی بار اپنی جان خطرے میں ڈال کر نجف اشرف سے ایران کا سفر اختیار کرکے امام خمینی(ع) کی ریکارڈ شدہ تقاریر انقلابیوں تک پہنچائیں۔
نیز حجت الاسلام والمسلمین حاج سید جواد حسینی نے امام خمینی(رح) اور امام موسی صدر کے درمیان قاصد اور رابط کے عنوان سے کئی بار لبنان کا دورہ کیا۔
حجت الاسلام والمسلمین حسینی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد گیلان کے شہر رودبار کے امام جمعہ، صوبہ فارس کے شہر صفا شہر کے امام جمعہ کے عنوان سے خدمت کی اور سنہ 1984 سے 1996 تک مجلس شورائے اسلامی کے دوسرے اور چوتھے دور میں علی آباد کتول کے نمائندے کی حیثیت خدمات انجام دیں۔ وہ ایک مدت تک ایئر فورس کے مہرآباد زون کے سیاسی و اعتقادی ادارے کے سربراہ بھی رہے۔
سماجی خدمات:
فقید سعید جناب حاج سید جواد حسینی اپنی زندگی کے دوران یتیموں کے لئے مہربان پاپ اور محتاجوں کے غمخوار و مددگار تھے اور متعدد خیراتی کام انجام دیئے جن میں مساجد کی تعمیر، بیماروں کے علاج معالجے کا اہتمام اور یتیموں کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی شام تھی۔
علالت اور انتقال:
حجت الاسلام والمسلمین سید جواد حسینی کئی سال سے دماغی حملے اور اس کے عوارض کو برداشت کرتے آرہے تھے، چنانچہ حالیہ سال ماہ مبارک رمضان کے آخری ایام میں ان کی حالت نازک ہوئی اور انہیں قم کے مقامی اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا اور آخر کار آج مورخہ 5 اگست سنہ 2013 کو صبح کے وقت دنیائے فانی سے رخصت ہوکر دار باقی کو سدھار گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
تعزیت:
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل، مدیران و کارکنان نیز اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی کے نامہ نگاران و کارکنان اس عالم ربانی اور نہ تھکنے والے مجاہد کے انتقال پر محترم حسینی خاندان، بالخصوص ان کے فرزند ارجمند ـ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے اطلاع رسانی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل اور ابنا کے چیف ایڈیٹر ـ جناب حجت الاسلام و المسلمین سید علی رضا حسینی عارف کو تعزیت و تسلیت عرض کرتے ہیں اور مرحوم و مغفور کے لئے اللہ تعالی کی بارگاہ سے درجات کی بلندی اور ان کے پسماندگان کے لئے صبر جمیل اور اجر جزیل کی التجا کرتے ہیں۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top