سفارتکاری میں بہادرانہ لچک پر یقین رکھتا ہوں/ اسلامی بیداری اپنا کام کرکے دکھائے گی Reviewed by Momizat on . رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: سپاہ پاسداران مختلف شعبوں میں مختلف قسم کے حالات کی مکمل پہچان رکھتی ہے / آپ نے بعض لوگوں کے تشخص کھو دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: سپاہ پاسداران مختلف شعبوں میں مختلف قسم کے حالات کی مکمل پہچان رکھتی ہے / آپ نے بعض لوگوں کے تشخص کھو دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » سفارتکاری میں بہادرانہ لچک پر یقین رکھتا ہوں/ اسلامی بیداری اپنا کام کرکے دکھائے گی

سفارتکاری میں بہادرانہ لچک پر یقین رکھتا ہوں/ اسلامی بیداری اپنا کام کرکے دکھائے گی

سفارتکاری میں بہادرانہ لچک پر یقین رکھتا ہوں/ اسلامی بیداری اپنا کام کرکے دکھائے گی
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: سپاہ پاسداران مختلف شعبوں میں مختلف قسم کے حالات کی مکمل پہچان رکھتی ہے / آپ نے بعض لوگوں کے تشخص کھو دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ ـ کہ دنیا بدل گئی ہے ـ ہرگز اصولی اہداف کی تبدیلی کا بہانہ نہیں ہونا چاہئے اور اس صحیح راستے کو بدل دے جو اپنایا اور طے کیا گیا ہے۔

سفارتکاری میں بہادرانہ لچک پر یقین رکھتا ہوں/ اسلامی بیداری اپنا کام کرکے دکھائے گی
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ـ دامت برکاتہ ـ نے آج (منگل 17 ستمبر 203 کی) صبح کو سپاہ پاسداران کے کمانڈروں، سابق کمانڈروں اور افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: سپاہ پاسداران کا پس منظر ایک قوم کے تشخص اور شخصیت کی گہرائی اور کامیاب تجربے کی نشاندہی کرتا ہے۔
آپ نے اسلامی انقلاب کا بنیادی اور جاذب قلب و نظر پیغام ظلم کرنے اور ظلم سہنے سے دوری ہے اور عالمی تسلط پسندوں کے کردار اور عمل کو چیلنج کرنے کے تفکر سمیت تمام مسائل کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے۔
رہبر انقلاب نے عالم آل محمد حضرت علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) کی عید میلاد کی مناسبت سے حاضرین کو ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتے ہوئے فرمایا: ائمہ(ع) کی عظمت کے مراتب عقلی ادراک اور زبانی توصیف سے بالاتر ہے لیکن ان بزرگواروں کی زندگی اور عملی درس ہے۔
رہبر انقلاب نے امام رضا(ع) کی 55 سالہ عمر مبارک اور تقریبا 20 سالہ امامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حضرت علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) نے اسی ـ نسبتا مختصر عرصے میں اور شدید گھٹن کے ہارونی دور میں بلند نظری کے ساتھ ـ اسلام کی حقیقت، ولایت کے تفکر اور اہل بیت رسول(ص) کے مکتب کو کچھ اس انداز سے فروغ دیا اور گہرائی بخشی کہ خونخوار استبدادی مشینری اس کا سامنا کرنے سے عاجز اگئی اور اپنے ابتدائی منصوبوں کے برعکس آپ(ع) کو شہید کرنے پر آمادہ ہوئی۔
رہبر انقلاب نے مشہد مقدس میں امام ہشتم(ع) کی شہادت اور تدفین کو الہی منصوبہ قرار دیا اور فرمایا: امام رؤوف(ع) کی مانند دور اندیشی کے ساتھ طویل المدت نگاہ رکھنی چاہئے اور طویل المدت منصوبہ سازی کرنی چاہئے۔
مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے سپاہ پاسداران کے تابناک ماضی اور پس منظر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا: سپاہ پاسداران ایمان اور اعتقاد کی اتہاہ گہرائیوں سے مجاہدت اور مزاحمت و استقامت کے میدان میں اتری اور اس نے زیرک ترین کمانڈروں اور عسکری تزویری ماہرین کی تربیت کے ساتھ ساتھ غیر فوجی شعبوں میں بھی مدبر ترین منتظمین کی تربیت کی اور ملکی انتظامی اور حاکمیتی اداروں کے سپرد کیا۔
امام خامنہ ای نے فرمایا: “انقلابی جینا اور انقلابی باقی رہنا” اور “ثابت قدمی” سپاہ پاسداران کے خوبصورت جلوے ہیں؛ اور مضبوط بنیادوں پر استوار یہ ادارہ کبھی بھی دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور اندرونی تبدیلیوں کی ضرورت، جیسے بہانوں سے اپنی اصل اور صحیح راستے سے منحرف نہیں ہوا۔
رہبر انقلاب نے ان لوگوں کی بہانہ جوئیوں کی طرف اشارہ کیا جو اپنا تشخص کھو دینے اور تابناک ماضی سے ندامت کا جواز فراہم کرنے کے لئے عالمی تبدیلیوں کے بہانے اندرونی سطح پر تبدیلیوں اور اقدار کو ترک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور فرمایا: یہ، کہ دنیا بدل گئی ہے، اہداف اور مقاصد کی تبدیلی کی تبدیلی کا بہانہ نہیں ہوسکتا اور یہ بہانہ اس راستے کی تبدیلی کی بنیاد نہیں بن سکتا جو منتخب کیا گیا اور طے کیا گیا ہے۔
امام خامنہ ای نے فرمایا: سپاہ پاسداران کو انقلاب کے تحفظ کے لئے قطعی طور پر مختلف شعبوں میں واقع ہونے والی تبدیلیوں اور تفکرات سے مکمل واقفیت اور پہچان حاصل کرنی چاہئے۔
آپ(ع) نے اس بےجا بحث کی طرف اشارہ کیا کہ “کیا سپاہ پاسداران کو سیاست میں فعال رہنا چاہئے یا نہیں رہنا چاہئے؟” اور فرمایا: سپاہ پاسداران سیاست کے شعبے میں مصروف عمل رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تاہم انقلاب کا تحفظ حقائق کی گہری شناخت کا متقاضی ہے چنانچہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مجموعہ جو انقلاب کا نگہبان بازو ہے، مختلف وابستہ اور انحرافی تفکرات یا دوسرے سیاسی تفکرات کی نسبت آنکھیں بند کرلے۔
رہبر انقلاب نے انقلاب کی پاسداری کے مفہوم کی تشریح کرتے ہوئے انقلاب کو درپیش اہم اور بنیادی چیلنجوں کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا: بنیادی چیلنجوں کو سیاسی رجحانات اور سیاسی دھڑوں یا حتی افراد کے درمیان تقابل کی حد تک نہیں گرانا چاہئے۔۔۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ عالمی تسلط پسند نظام انقلاب اسلامی کے پیغام کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے اور اسلامی انقلاب کا پیغام “ظلم سے اجتناب اور ظلم سہنے سے دوری” ہے۔
امام خامنہ ای نے اس جدید عالمی نظام کی طرف اشارہ کیا جو اسلامی انقلاب دنیا والوں کے سامنے پیش کررہا ہے اور فرمایا: تسلط پسند نظام نے دنیا کو دو حصوں ـ یعنی ظالم اور مظلوم ـ میں تقسیم کیا ہے، جبکہ انقلاب اسلامی ظلم کے خلاف جہاد اور مظلوم بننے سے پرہیز کا پیغام ساتھ لایا ہے، اور یہی منطق سب ہوئی کہ انقلاب اسلامی کا پیغام ایران کی سرحدوں کے اندر محدود نہ رہا اور اقوام عالم نے اس کا استقبال کیا۔
آپ نے فرمایا: جابر حکومتیں، تسلط پسند نظام سے وابستہ حکومتوں اور لوٹ مار کرنے والے بین الاقومی نیٹ ورکس اسلامی انقلاب کے پیغام کے دشمن ہیں۔۔۔ تسلط پسند نظام اور اس سے وابستہ لوگ تین بنیادی پالیسیوں پر کاربند ہیں: 1۔ لڑائی جھگڑے کرنا اور کرانا؛ 2۔ غربت کو فروغ دینا اور 3۔ برائیاں پھیلانا؛ اور اسلام ان تمام پالیسیوں کے خلاف ہے اور یہی مخالفت اسلامی انقلاب کے ساتھ ان کے نزاع کی اصل بنیاد ہے۔
آپ نے مزید فرمایا: گذشتہ 34 سال کے عرصے میں دشمتوں کے تمام تر اقدامات اور سازشوں کو اسی بنیادی تقابل میں ہی دیکھنا چاہئے اور ایران کی جوہری توانائی کے مسئلے کا تجزیہ بھی اسی تناظر میں ہونا چآہئے۔
امام خامنہ ای نے واضح کرکے فرمایا: ہم امریکہ اور امریکہ کے سوا کسی اور کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے عقائد کی بنیاد پر جوہری ہتھیاروں کو مسترد کرتے ہیں اور جب ہم کہتے ہیں کہ کسی کو بھی جوہری ہتھیار اپنے پس نہیں رکھنے چاہئے، قطعی طور پر ہم خود بھی جوہری ہتھیاروں کے درپے نہیں ہیں، تاہم اس سلسلے میں مخالفین کی مخالفت کا مقصد کچھ اور ہے۔
یہ چند ممالک ہرگز نہيں چاہتے کہ جوہری توانائی پر ان کا انحصار ٹوٹ جائے؛ لیکن وہ دنیا میں اس موضوع کے بار میں شور کرتے ہیں۔ پس جوہری مسئلے میں امریکہ، مغرب اور ان سے وابستہ لوگوں کا شور شرابہ، تسلط پسند نظام اور انقلاب اسلامی کے درمیان گہرے تقابل کے تناظر میں ہی قابل ادراک و تجزیہ، ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب کے ساتھ مستکبرین کی دیرینہ اور گہری دشمنی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی عظمت اس قدر تھی کہ دشمن بھی آپ کے لئے احترام کے قائل تھے تاہم دشمن کی نگاہوں کی اتہاہ گہرائیوں میں اس آفتاب فروزان سے زیادہ کوئی بھی مبغوض نہ تھا کیونکہ امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) نے مکمل بصیرت کے ساتھ ان کے معاندانہ اہداف کا ادراک کیا اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند فیصلہ کن انداز سے ان کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ آج بھی ایسا ہی ہے اور جو بھی اسلامی انقلاب کے اصل پیغام کا زيادہ پابند ہو اور دشمنوں کی سازشوں اور رویوں کا تجزیہ تسلط پسند نظام اور انقلاب اسلامی کے درمیان تقابل اور نزاع کے تناظر میں، کرے، وہ مستکبرین کی نظر میں دوسروں کی نسبت زیادہ، مغضوب اور منفور ہوتا ہے۔
امام خامنہ ای نے سفارتی دنیا کی پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سفارتکاری کا میدان، مسکراہٹوں، مذاکرات کی درخواستوں اور مذاکرات کا میدان ہے لیکن ان تمام رویوں کو اسی بنیادی تقابل کے تناظر میں سمجھنا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کے شعبوں میں صحیح اور منطقی اقدامات کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: میں اس مسئلے سے متفق ہوں جس کو میں نےبرسوں قبل بہادرانہ لچک کا نام دیا تھا۔ کیونکہ یہ اقدام بعض مواقع پر بہت اچھا اور ضروری ہے لیکن اس صورت میں کہ ایک بنیادی شرط کی پابندی کی جائے۔
آپ نے فرمایا: سفارتکاری میں بہادراہ لچک سے استفادہ کرنے کی شرط یہ ہے کہ فریق مقابل کی حقیقت کو پہچانا جائے اور اس کی منصوبہ بندی اور اس کی طرف سے اہداف اور ان کے تعین کی روش کو صحیح طریقے سے سمجھا جائے۔۔۔ ایک فن شناس پہلوان فنی وجوہات کی بنا پر کشتی میں نرمی دکھاتا ہے لیکن وہ کبھی یہ نہیں بھولتا کہ اس کا حریف کون ہے اور اس کا اصل ہدف و مقصد کیا ہے؟
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے فرائض کے سلسلے میں سپاہ کے کمانڈر انچیف جنرل جعفری کے موقف کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: ان فرائض کو ـ موضوع کے صحیح ادراک کے ساتھ ـ ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھیں جس کی آپ پاسداری کررہے ہیں۔
رہبر انقلاب نے سپاہ پاسداران کے اہلکاروں سے معنویات پر زيادہ توجہ دینے کی ضرورت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: بے شک معنویات اور کام کے مادی پہلو کا اہتمام کرنے اور اپنے کاموں کو منظم کرنے، کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔
رہبر انقلاب امام خامنہ ای کے خطاب کا آخری حصہ اسلامی انقلاب کے تابناک مستقبل پر تاکید پر مشتمل تھا:
رہبر انقلاب نے فرمایا: انقلاب اسلامی کا تابناک مستقبل دل خوش کرنے کے لئے ایک رکھنے کے لئے ایک بے بنیاد دعوی نہیں ہے۔
آپ نے انقلاب اسلامی کے تابناک مستقبل کی حقیقت کے بارے میں دو دلیلیں پیش کیں جن میں سے ایک دلیل “تجربہ” سے عبارت تھی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے سائنسی، عسکری، انتظامی اور معاشی اور دیگر شعبوں میں ملک کی موجودہ صورت حال اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی برسوں کی صورت حال کے درمیان حیرت انگیز فرق، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ تمام تر ترقی اور پیشرفت دشمنوں کے شدید دباؤ اور سازشوں کے طوفانوں کے بیچ حاصل ہوئی اور یہ قیمتی تجربہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی بھی رکاوٹ اپنی راہ و روش سے واقف مؤمن، متحد اور پر عزم قوم کا راستہ نہیں روک سکتی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو نقصانات خطے کے حالیہ واقعات و حوادث میں عالم اسلام کو پہنچے ہیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ بعض لوگ راستے سے ناواقف تھے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ حالات اسی طرح باقی نہیں رہیں گے اور تاریخ کی بےمثل اسلامی بیداری اپنا کام کرکے دکھا کر رہے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کے تابناک مستقبل کے اثبات کے لئے اپنی دوسری دلیل کو منطق اور علمی تجزيئے کی بنیاد پر استوار کیا ااور فرمایا: ملت ایران منطق اور علمی تجزیئے اور محاسبے کی بنیاد ہر آگے بڑھ رہی ہے لیکن دشمن اپنی متضاد و متناقض اندرونی ساخت کی بنا پر ـ گوکہ وہ شاید زبانی اعتراف نہ کرے ـ پسپائی اور ضعف کی حالت میں ہے اور اس تقابل میں فطرتاً مستقبل کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو منصوبہ بندی اور حساب و کتاب کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔
نظام کی اندرونی کو مستحکم بنانا، سائنسی پیشرفت کو جاری رکھنا، اندرونی پیداوار کی نشوونما اور اندرونی صلاحیتوں کا سہارا لینا، رہبر انقلاب کے خطاب کے آخری نکات تھے۔ آپ نے فرمایا: انقلاب کا تابناک مستقبل یقینی ہے لیکن اس کے جلدی یا بہ دیر متحقق ہونے کا دارومدار قوم اور ذمہ دار افراد کی کارکردگی پر ہوگا، اگر ہم متحد، مستحکم اور مصمم ہوں یہ تابناک مستقبل جلد از جلد متحقق ہوگا اور اگر سستی، غرور و خودغرضی اور دوسرے مسائل سے دوچار ہوجائیں تو مستقبل بھی تاخیر سے ہماری طرف آئے گا۔
اس ملاقات کے آغاز پر سپاہ پاسداران میں ولی فقیہ کے نمائندے حجت الاسلام و المسلمین سعیدی نے سپاہ میں ولی فقیہ کے نمائندہ دفتر کی کارکردگی رپورٹ پیش کی جس کے بعد سپاہ کے کمانڈر انچیف میجر جنرل محمد علی جعفری نے اپنی کارکردگی رپورٹ میں، عسکری اور ثقافتی و سائنسی و علمی شعبوں میں سپاہ کی شاندار حصول یابیوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: آج سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، انقلاب کے تجربے سے بہرہ مند ہوکر اس پوزیشن میں ہے کہ پوری قوت سے انقلاب کو درپیش تمام چیلنجوں کو پیچھے چھوڑ کر انقلاب اسلامی کے مطلوبہ اہداف کو مدنظر رکھ کر ترقی کا راستہ عزتمندانہ طریقے سے طے کرے۔
جنرل جعفری نے کہا: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اسلامی نظام، امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) اور شہداء کے اہداف و مقاصد کا ہمہ جہت دفاع و تحفظ کرنے کی پابند ہے اور سپاہ نے اپنی تسدیدی صلاحیت (Capability of Deterrence) اور ہمہ جہت عسکری قوت کے ذریعے تمام شعبوں میں اپنی قوت حملہ (Power of assault) کی تعمیر نو کا کام مکمل کرلیا ہے اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top