کربلا کے حقیقی پیغام کیلئے سب نوحہ خوانوں کو اچھی شاعری، اچھا کلام اور اچھی مسدس کا انتخاب کرنا چاہیئے، علی صفدر رضوی Reviewed by Momizat on . پاکستان کے معروف انقلابی نوحہ خواں کا ''اسلام ٹائمز'' کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جتنے بھی سیدالشہداء علیہ السلام کے عزادار موجود ہیں، ا پاکستان کے معروف انقلابی نوحہ خواں کا ''اسلام ٹائمز'' کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جتنے بھی سیدالشہداء علیہ السلام کے عزادار موجود ہیں، ا Rating:
You Are Here: Home » Urdu - اردو » کربلا کے حقیقی پیغام کیلئے سب نوحہ خوانوں کو اچھی شاعری، اچھا کلام اور اچھی مسدس کا انتخاب کرنا چاہیئے، علی صفدر رضوی

کربلا کے حقیقی پیغام کیلئے سب نوحہ خوانوں کو اچھی شاعری، اچھا کلام اور اچھی مسدس کا انتخاب کرنا چاہیئے، علی صفدر رضوی

کربلا کے حقیقی پیغام کیلئے سب نوحہ خوانوں کو اچھی شاعری، اچھا کلام اور اچھی مسدس کا انتخاب کرنا چاہیئے، علی صفدر رضوی
پاکستان کے معروف انقلابی نوحہ خواں کا ”اسلام ٹائمز” کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جتنے بھی سیدالشہداء علیہ السلام کے عزادار موجود ہیں، ان کے لیے میرا یہی پیغام ہے کہ اس پرآشوب دور میں جتنا ہو سکتا ہے شیعہ سنی کی وحدت کو فروغ دیا جائے۔ ہمیں ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرنا چاہیئے۔ ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیئے کہ جن کی وجہ سے ایک دوسرے کے مقدسات کی بےحرمتی ہوتی ہو۔ ہمارے علمائے کرام نے بھی اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کریں کہ جس کی وجہ سے کسی کی دل آزاری ہو۔ جب علمائے کرام ہمارے لیے راہ ہدایت ہیں تو ہمیں ان کی پیروی کرنی چاہیئے۔ محرم الحرام میں اہل بیت علیہم السلام کو ضرور پرسہ دیں اور تبراء صرف اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں پر کریں۔
کربلا کے حقیقی پیغام کیلئے سب نوحہ خوانوں کو اچھی شاعری، اچھا کلام اور اچھی مسدس کا انتخاب کرنا چاہیئے، علی صفدر رضوی
ممتاز نوحہ خوان علی صفدر رضوی انقلابی اور بامقصد نوحہ خوانی کے حوالے جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ اپنے کیرئیر کے آغاز سے لیکر ابتک انہوں نے ہمیشہ ہی بامقصد عزاداری کے فروغ کیلئے کام کیا ہے اور بہترین کلام پڑھا ہے۔ علی صفدر کا تعلق شہر قائد کراچی سے ہے۔ انہوں نے نواحہ خوانی کا آغاز دستہ امامیہ سے کیا۔ نوحہ خوانی میں شہرت ’’اے کاش اے کاش میں بھی ہوتا میدان کربلا میں‘‘ نوحہ پڑھ کر حاصل کی۔ اس کے بعد آنے والے ہر والیم میں ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہو گیا۔ اسی طرح ان کا نوحہ ’’میں انتقام لوں گا، میں انتقام لوں گا‘‘ بھی بہت مقبول ہوا۔ اسلام ٹائمز نے محرم الحرام کی مناسبت سے علی صفدر سے ایک اہم انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ امید ہے کہ قارئین اسلام ٹائمز کی اس کاوش کو پسند فرمائیں گے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: عزاداری سیدالشہداء (ع) کے فروغ کیلئے آج کے دور میں کیا موثر کردار ادا کرنا چاہیئے۔؟
علی صفدر رضوی: کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک انقلاب برپا کیا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ آج کے دور کے حساب سے کربلا کی نہضت اور تحریک کو آگے بڑھائیں۔ لوگوں کے اندر اپنے
” استاد سبط جعفر کی شہادت کی دیرینہ خواہش تھی۔ (اجلے ملبوس کو مت کفن نام دو، میں چلا ہوں علی (ع) سے ملاقات کو) یہ ان کی دیرینہ خواہش تھی جو کہ انکے ہر کلام میں موجود تھی۔ “
اچھے کلام کے ذریعے کہ جس کے اندر بہتر معرفت بھی ہو اور پیغام کربلا بھی ہو، اس کلام کے اندر آج کی نوجوان نسل کو وقت کے امام (ع) کے لیے تیار کرنے کے لیے اچھا مواد بھی شامل ہو، ایسے کلام اور ایسے شعراء کا ضرور انتخاب کرنا چاہیئے، جس میں سوز بھی ہو، نوحہ خوانی بھی ہو اور اس کے اندر انقلابیت بھی ہو۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ آنے والے جتنے بھی نوحہ خواں حضرات ہیں، انہیں چاہیئے کہ اچھی شاعری، اچھا کلام اور اچھی مسدس کا انتخاب کریں۔ ایسی روایت نہ شامل کریں کہ جس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔ جتنا ہو سکے بہتر انداز میں کلام کو اور اس کلام کو جو حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے نہضت کو آگے بڑھایا، اس کو آگے لے کر چلیں۔

اسلام ٹائمز: آج استاد سبط جعفر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں اور ان کی شہادت کے بعد یہ پہلا محرم ہے۔ ان کی کمی کو کیسے محسوس کر رہے ہیں۔؟
علی صفدر رضوی: استاد سبط جعفر ایک ایسے شہید ہیں کہ جنہوں نے اپنا کام پورا کیا ہے اور کام مکمل کرکے اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور اس دنیا سے مطمئن ہو کر گئے ہیں۔ شہادت عام آدمی کو نہیں ملتی۔ استاد سبط جعفر کی شہادت کی دیرینہ خواہش تھی۔ (اجلے ملبوس کو مت کفن نام دو، میں چلا ہوں علی (ع) سے ملاقات کو) یہ ان کی دیرینہ خواہش تھی جو کہ انکے ہر کلام میں موجود تھی۔ اس لیے وہ شہید اپنا کام پورا کرکے گیا ہے۔ اس دنیا میں انہوں نے اپنے اتنے شاگرد چھوڑے ہیں کہ جو اپنے استاد کے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور انشاءاللہ یہ کام رکے گا نہیں۔

اسلام ٹائمز: عزاداری سیدالشہداء علیہ السلام کے حوالے سے کیا
” کچھ لوگوں نے کربلا کو اس طرح لیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نماز تو کربلا والوں نے پڑھی، ہم کیا نماز پڑھیں گے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی دعا ہیں اور ہمارا کام صرف رونا ہے۔ اسکے باوجود جن لوگوں کے پاس معرفت ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے باجماعت نماز پڑھ کر کیا ثابت کیا۔ “
پیغام دیں گے۔؟
علی صفدر رضوی: پوری دنیا میں جتنے بھی سیدالشہداء علیہ السلام کے عزادار موجود ہیں، ان کے لیے میرا یہی پیغام ہے کہ اس پرآشوب دور میں جتنا ہو سکتا ہے شیعہ سنی وحدت کو فروغ دیا جائے۔ ہمیں ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرنا چاہیئے۔ ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیئے کہ جن کی وجہ سے ایک دوسرے کے مقدسات کی بےحرمتی ہوتی ہو۔ ہمارے علمائے کرام نے بھی اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کریں کہ جس کی وجہ سے کسی کی دل آزاری ہو۔ جب علمائے کرام ہمارے لیے راہ ہدایت ہیں تو ہمیں ان کی پیروی کرنی چاہیئے۔ محرم الحرام میں اہل بیت علیہم السلام کو ضرور پرسہ دیں اور تبراء صرف اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں پر کریں۔

اسلام ٹائمز: اس دفعہ عزاداری میں نماز کے قیام کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علی صفدر رضوی: ہر آدمی کی اپنی اپنی معرفت ہے۔ کچھ لوگوں نے کربلا کو اس طرح لیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نماز تو کربلا والوں نے پڑھی، ہم کیا نماز پڑھیں گے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی دعا ہیں اور ہمارا کام صرف رونا ہے۔ اس کے باوجود جن لوگوں کے پاس معرفت ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے باجماعت نماز پڑھ کر کیا ثابت کیا، یعنی اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ امام مظلوم علیہ السلام نے جو کچھ بھی کیا ہے، وہ دین خدا کے لیے ساری قربانیاں دیں۔
درحقیقت کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اللہ کی طرف سے دیئے ہوئے دین کو متعارف کرایا اور وہی دین جو حضرت محمد (ص) کا دین اسلام تھا، اسی دین کو متعارف بھی کرایا اور اس کی حفاظت کے لیے اپنی تمام تر قربانیاں دیں۔ نماز پڑھنے والے تو اس وقت بھی موجود تھے، لیکن ان میں فرق یہی تھا کہ وہ رسول خدا (ص) کا حلال کیا ہوا حرام سمجھتے تھے اور دین میں بدعت ڈالی۔ امام علی علیہ السلام کی طرح امام حسین علیہ السلام نے بھی سجدے کی حالت میں اپنا سر کٹایا، جس سے نماز کی اہمیت
” امام علی علیہ السلام کی طرح امام حسین علیہ السلام نے بھی سجدے کی حالت میں اپنا سر کٹایا، جس سے نماز کی اہمیت بہت ہی واضح ہو جاتی ہے۔ “
بہت ہی واضح ہو جاتی ہے۔ اس لیے سچا عزادار، سچا مولائی، سچا عاشق حسین (ع) وہی ہوگا جو نماز بھی ادا کرے۔ میرے بھائیوں سے میری یہ التجا ہے کہ عزاداری کے دوران وہ ہاتھ جو اپنے سینوں پر مارتے ہیں، انہی ہاتھوں کو خدا کی بارگاہ میں اٹھا کر بتائیں کہ اے خدا تو بزرگ و برتر ہے اور ہم تیرے سامنے سجدہ کر رہے ہیں، جس طرح امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں سجدہ ادا کیا تھا۔

اسلام ٹائمز: ہر انسان کی کامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی کا ہاتھ ہوتا ہے، آپ کے کردار اور آپ کی شخصیت میں کس کا ہاتھ پوشیدہ ہے۔؟
علی صفدر رضوی: میں اس طرح نہیں کہوں کہ کسی ایک بندے کا ہاتھ ہے بلکہ یہ ایک ٹیم ورک ہے اور مرحلہ وار کام ہوا ہے۔ بچپن سے جس گھر میں ہماری تربیت ہوئی، وہاں پر نماز، روزہ، دین شریعت کو بہت ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا۔ اس کے بعد ہم نے ایسے علمائے کرام سے مجالس اور دروس سنے کہ جو علمائے کرام کسی ایسی یونیورسٹیز اور ادارے و حوزے سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد حقیقی دین اسلام کو دنیا میں پھیلا رہے ہیں، میں نے ایسے علمائے کرام سے دین اسلام سیکھا۔ کربلا کے اصل مقصد کو جانا اور اس کو سمجھا۔ اس کے بعد جس طرح کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح مجھے بھی ایک ایسی نیک اہلیہ ملی جس نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا۔ ان کی ماشاءاللہ سے بہت ساری خدمات ہیں۔ اس کے علاوہ شعرائے کرام ہیں، جن میں پروفیسر حسن کمال، عقیل الغروی، مولانا شہنشاہ نقوی، مولانا
” اس بار ہم نے اپنے کلام میں یہ کہا کہ ”شبیر (ع) کی خاطر جینا ہے شبیر (ع) کی خاطر مرنا ہے”، اس کے علاوہ امام زمانہ علیہ السلام کے حوالے سے کلام فوکس ہوتا ہے، تاکہ ہماری نوجوان نسل امام (ع) کے ظہور کی تیاری کرسکے۔ “
حسن ظفر نقوی، قمر حسین، آصف عابدی یعنی یہ ساری ایک ٹیم ہے جس نے مل کر کام کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: اس سال کے والیم میں کس چیز پر فوکس کیا گیا ہے۔؟
علی صفدر رضوی: اس والیم میں شہادت کے حوالے سے لوگوں کا مورال بلند کرنے کے لیے فوکس کیا گیا ہے۔ کربلا کے اندر امام حسین علیہ السلام نے اپنے شیر خوار بچے کو خود شہادت کے لیے پیش کیا، لہٰذا ہمیں ہر وقت کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔ کیا پتہ آئندہ وقت میں ہمارے لیے کیا سے کیا دشواری پیش آئے۔ اس بار ہم نے اپنے کلام میں یہ کہا کہ ”شبیر (ع) کی خاطر جینا ہے شبیر (ع) کی خاطر مرنا ہے”، اس کے علاوہ امام زمانہ علیہ السلام کے حوالے سے کلام فوکس ہوتا ہے، تاکہ ہماری نوجوان نسل امام (ع) کے ظہور کی تیاری کرسکے۔ اس کے علاوہ انقلابی کلام حیدر حیدر جس کی شاعرہ امریکہ کی حنا ہیں وہ بھی شامل ہے۔ بہرحال ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ ایک اچھا کلام اور ایک اچھا پیغام مومنین تک پہنچا دیں۔

اسلام ٹائمز: آپ نے مختلف ممالک میں سفر کیا، عزاداری کے حوالے سے کیا فرق دیکھتے ہیں۔؟
علی صفدر رضوی: ہر جگہ پر عزاداری کا اپنا اپنا ایک طریقہ ہے۔ جیسا کہ دبئی میں دیکھیں تو ہندو اور پاکستانی زیادہ ملیں گے۔ اسی طرح افریقہ میں جب جاتے ہیں تو وہاں پر دیکھیں گے کہ خوجہ کمیونٹی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ باہر ممالک میں ٹائم کی بہت پابندی کی جاتی ہے، وقت پر عزاداری شروع کرتے ہیں اور مقررہ وقت پر ہی اس کا اختتام کرتے ہیں۔ اسی طرح ان ممالک میں مائیک وغیرہ کا بھی خیال کرتے ہیں۔ وہ لوگ عزاداری سے دوسروں کی تنگی کا باعث نہیں بنتے اور ایسا کام نہیں کرتے کہ جس سے کسی دوسرے کے آرام میں خلل آتا ہو۔ پاکستان تو جیسا آزاد ملک ہے بالکل اسی طرح عزاداری بھی آزاد ہی ہوتی ہے

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top