سید حسن نصراللہ: شام میں ایک عظیم تاریخی فتح کی عنقریب Reviewed by Momizat on . سید حسن نصر اللہ محرم الحرام کی مجالس و جلوس ہائے عزاداری منعقد کرنے والی انجمنوں کے اراکین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک عظیم تاریخی و اس سید حسن نصر اللہ محرم الحرام کی مجالس و جلوس ہائے عزاداری منعقد کرنے والی انجمنوں کے اراکین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک عظیم تاریخی و اس Rating: 0
You Are Here: Home » Urdu - اردو » سید حسن نصراللہ: شام میں ایک عظیم تاریخی فتح کی عنقریب

سید حسن نصراللہ: شام میں ایک عظیم تاریخی فتح کی عنقریب

سید حسن نصراللہ: شام میں ایک عظیم تاریخی فتح کی عنقریب
سید حسن نصر اللہ محرم الحرام کی مجالس و جلوس ہائے عزاداری منعقد کرنے والی انجمنوں کے اراکین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک عظیم تاریخی و اسٹراٹجک فتح و کامیابی کے آغاز تک صرف 15 منٹ باقی ہیں۔

سید حسن نصراللہ: شام میں ایک عظیم تاریخی فتح کی عنقریب

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی مزآحمت محاذ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ شام کے خلاف بیشتر سازشیں ناکام ہوچکی ہیں اور عنقریب ایک تاریخی اور عظیم اسٹراٹجک فتح حاصل کرنے والے ہیں۔
لبنانی اخبار “السفیر” نے سید حسن نصراللہ کے حوالے سے لکھا: میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم شام کے خلاف بننے والی اکثر سازشوں کو ـ سیاسی حل کی راہ میں علاقے کے بعض ممالک کی طرف سے سنجیدہ رکاوٹوں کے باوجود ـ ناکام بنا چکے ہیں۔
انھوں نے کہا: شام اپنی سلامتی دوبارہ حاصل کرلے گا اور سیاسی راہ حل تک پہنچے گا؛ جبکہ دوسری طرف سے جنگ پسند محاذ ناکام ہو چکا ہے۔
السفیر کے مطابق، سید حسن نصر اللہ محرم الحرام کی مجالس و جلوس ہائے عزاداری منعقد کرنے والی انجمنوں کے اراکین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: اب ہم کہہ سکتے ہیں اب ایک عظیم تاریخی و اسٹراٹجک فتح و کامیابی کے آغاز تک صرف 15 منٹ کا وقت باقی ہے۔
سیدحسن نصر اللہ نے کہا: لبنان میں اسلامی مزاحمت کو نقصان پہنچانے اور ایران پر حملہ کرنے کے سلسلے میں دشمنان اسلام کی سازشوں کی ناکامی کے بعد انھوں نے شام کے خلاف اپنی سازشوں کا آغاز کیا؛ ہمارے خیال میں شام کے خلاف ہونے والی سازش، 2006 میں حزب اللہ کے خلاف ہونے والی سازش سے کسی طور بھی کم نہ تھی؛ یہ سازش شام کے نظام حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے تھی؛ وہ بھی اس لئے کہ یہ ملک عراق، فلسطین، اور لبنان میں اسلامی مزآحمت کی حمایت کررہا تھا اور دشمنوں نے فیصلہ کیا کہ اب شام اپنی اس پالیسی کی قیمت ادا کرے اسی بنا پر ہم اس نظام کے دوش بدوش کھڑے ہیں۔
انھوں نے کہا: شام میں حزب اللہ کی موجودگی ایک فرض پر عمل کرنے سے زیادہ کچھ نہ تھا؛ ہم اگر شام نہ جاتے تو لبنان دوسرا عراق بن جاتا؛ عراق میں صرف گذشتہ ایک مہینے کے دوران 300 کار بم دھماکے یا خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں 900 افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
سید حسن نصر اللہ نے علاقے کے عوام اور قوموں کو دعوت دی کہ اسلامی مزاحمت کو نقصان پہنچانے کے لئے کار بم دھماکوں کے خطرے کا سد باب کریں۔
انھوں نے کہا: ہمارے خطے اور لبنان میں یہودی ریاست کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی مزاحمت مستعد اور پہلے سے کہیں زيادہ طاقتور ہے۔
انھوں نے کہا” امت مسلمہ اور مملکت لبنان کی سربلندی کی راہ میں ہماری جانفشانیوں کا سلسلہ ہرگز نہیں رکے گا۔
سید حسن نے کہا: بعض تکفیریوں نے محالس عزاداری پر حملوں کی دھمکی دی ہے لیکن اس دھمکی کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں کی زيادہ بڑی تعداد نظم و انضباط کے ساتھ مجالس اور جلوسوں میں شرکت کرے گی بلکہ ان کی یہ دھمکیاں مسلمانوں کے تمام مکاتب کے درمیان اتحاد اور یکجہتی اور تمام فرقہ وارانہ سازشوں کی ناکامی کا بعث ہونگی۔
سید حسن نصر اللہ نے “هیهات منا الذله” کے نعرے کی طرف اشارہ کرتے ہوغے کہا کہ ان لوگوں سے شرانگیزی کا موقع چھین لینا چاہئے جو ضاحیۂ جنوبی اور اس کے مکینوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: 2006 میں دنیا اسلامی مزاحمت تحریک کے خلاف متحد ہوئی اور بعض ہماری شکست کے منتظر ہوئے جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ بحری جہاز آجائیں اور ہمیں مطلوب افراد کی طرح پکڑ کر گوانتانامو بے منتقل کریں لیکن دنیا نے دیکھا کہ کامیاب حزب اللہ تھی اور حزب اللہ آج تمام فریقوں کے اعتراف کے مطابق ایک علاقائی طاقت میں تبدیل ہوچکی ہے۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top