راولپنڈی میں چہلم کے جلوس پر کسی قسم کی محدودیت یا قدغن برداشت نہیں کرینگے، علامہ عارف واحدی Reviewed by Momizat on . شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے قائداعظم کالونی راولپنڈی میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ راولپنڈی شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے قائداعظم کالونی راولپنڈی میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ راولپنڈی Rating: 0
You Are Here: Home » Urdu - اردو » راولپنڈی میں چہلم کے جلوس پر کسی قسم کی محدودیت یا قدغن برداشت نہیں کرینگے، علامہ عارف واحدی

راولپنڈی میں چہلم کے جلوس پر کسی قسم کی محدودیت یا قدغن برداشت نہیں کرینگے، علامہ عارف واحدی

راولپنڈی میں چہلم کے جلوس پر کسی قسم کی محدودیت یا قدغن برداشت نہیں کرینگے، علامہ عارف واحدی
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے قائداعظم کالونی راولپنڈی میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ راولپنڈی اتحاد و وحدت کی فضا کو خراب کرنے اور فرقہ واریت کو پھیلانے کی بہت بڑی سازش تھی، جسے تمام مسالک کے جید علماء کرام نے بڑی بیداری اور ہوشیاری کے ساتھ ناکام بنا دیا۔ اس مشکل گھڑی میں پوری امت مسلمہ کو پیغام ہے کہ دشمن ہماری صفوں میں دراڑ ڈالنا چاہتا ہے، اس لئے اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھتے ہوئے محبت، اخوت اور بھائی چارے کی فضا کو آگے بڑھاتے ہوئے دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔

علامہ عارف حسین واحدی نے مزید کہا کہ راولپنڈی میں نواسہ رسول ؐامام عالی مقام سیدالشہداء حضرت امام حسین (ع) کے چہلم کے جلوس پر کسی قسم کی محدودیت یا قدغن برداشت نہیں کریں گے، اور تمام عزاداران چہلم کے موقع پر بھرپور طریقے سے عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام سابقہ روایات کے مطابق نہایت مذہبی عقیدت و احترام سے منائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برادران اسلام محبت اور بھائی چارہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیدالشہداء کربلا کے چہلم کے جلوسوں میں شرکت کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں۔

علامہ عارف حسین واحدی نے مزید کہا کہ سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے انتظامیہ کی یک طرفہ کارروائی قابل قبول نہیں ہوگی۔ ہمارا انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ سانحہ کے اصل محرکات سامنے لائے جائیں، جن کی وجہ سے تاجر برادری سمیت مذہبی عبادت گاہوں کا نقصان ہوا ہے، ان چہروں کو بے نقاب کرکے عدالت کے کٹہرے میں لائیں۔ اس ملک میں فرقہ واریت نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، جو اس ملک کے لئے ناسور ہے، جس کے خاتمہ کے لئے تمام اُمت مسلمہ کو متحد ہونا پڑے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کو بھی فرقہ وارانہ تعصب سے پاک ہوکر اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا، اگر اس دہشت گردی کو فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا تو اس سے ملک کی سالمیت خطرہ میں پڑ جائے گی، جس کا تدارک وقت کی اہم ضرورت ہے

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top