سعودي عرب ميں مقدس اسلامي آثار کي تخريب Reviewed by Momizat on . برطانوي اخبار انڈيپنڈنٹ نے ابھي حال ہي میں ايک ايسے منصوبے تک رسائي حاصل کي ہے جس کے تحت سعودي حکومت مسجد الحرام کے پروجيکٹ کو وسعت دينے کے بہانے پيغمبر اسلام ک برطانوي اخبار انڈيپنڈنٹ نے ابھي حال ہي میں ايک ايسے منصوبے تک رسائي حاصل کي ہے جس کے تحت سعودي حکومت مسجد الحرام کے پروجيکٹ کو وسعت دينے کے بہانے پيغمبر اسلام ک Rating: 0
You Are Here: Home » Urdu - اردو » سعودي عرب ميں مقدس اسلامي آثار کي تخريب

سعودي عرب ميں مقدس اسلامي آثار کي تخريب

سعودي عرب ميں مقدس اسلامي آثار کي تخريب
برطانوي اخبار انڈيپنڈنٹ نے ابھي حال ہي میں ايک ايسے منصوبے تک رسائي حاصل کي ہے جس کے تحت سعودي حکومت مسجد الحرام کے پروجيکٹ کو وسعت دينے کے بہانے پيغمبر اسلام کي جائے پيدائش کي بچي ہوئي عمارت کو بھي پوري طرح مسمار اور اس کي جگہ ايک نئي عمارت تعمير کرانا چاہتي ہے -
برطانوي اخبار اينڈيپنڈنٹ نے لکھا ہے کہ آل سعود حکومت دسيوں ارب ڈالر کے اپنے پروجيکٹوں کے تحت جس کے نتيجے ميں وہ مکہ مکرمہ کو ٹاوروں اورہوٹلوں سے پر کردينا چاہتي ہے تاريخي اور مذہبي مقامات پر توجہ نہيں دے رہي ہے -
معروف تاريخ داں عرفان العلوي کا کہنا ہے کہ صدر اسلام سے جو آخري تاريخي عمارت باقي رہ گئي تھي وہ پيغمبراسلام کي جائے ولادت سے متعلق عمارت تھي جس کو مولدالنبي کہا جاتا ہے -
سعودي عرب کي حکومت مسجد الحرام کو وسعت دينے کے بہانے گذشتہ برسوں کے دوران کئي اہم اور تاريخي مقامات کو مسمار کرچکي ہے اور ان جگہوں پر اس نے نئي عمارتيں بنادي ہيں -
گذشتہ برسوں کے دوران مسجد الحرام کے عثماني دور کے ستونوں کو جن پر پيغمبراسلام کي شان ميں توصيفي کلمات درج درج تھے مسمار کرديا تھا

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top