رہبر معظم کا آبادان کا محاصرہ توڑنے والی فوجی کارروائیوں کے علاقہ میں راہیان نور قافلوں سے خطاب Reviewed by Momizat on . رہبر معظم انقلاب امام خامنہ ای نے آج صبح (بروز بدھ) ایران کے علاقے کارون کے مشرق میں آبادان کا محاصرہ توڑنے والی فوجی کاروائیوں کے علاقہ میں راہیان نور کے ہزارو رہبر معظم انقلاب امام خامنہ ای نے آج صبح (بروز بدھ) ایران کے علاقے کارون کے مشرق میں آبادان کا محاصرہ توڑنے والی فوجی کاروائیوں کے علاقہ میں راہیان نور کے ہزارو Rating: 0
You Are Here: Home » Urdu - اردو » رہبر معظم کا آبادان کا محاصرہ توڑنے والی فوجی کارروائیوں کے علاقہ میں راہیان نور قافلوں سے خطاب

رہبر معظم کا آبادان کا محاصرہ توڑنے والی فوجی کارروائیوں کے علاقہ میں راہیان نور قافلوں سے خطاب

رہبر معظم کا آبادان کا محاصرہ توڑنے والی فوجی کارروائیوں کے علاقہ میں راہیان نور قافلوں سے خطاب
رہبر معظم انقلاب امام خامنہ ای نے آج صبح (بروز بدھ) ایران کے علاقے کارون کے مشرق میں آبادان کا محاصرہ توڑنے والی فوجی کاروائیوں کے علاقہ میں راہیان نور کے ہزاروں زائرین کے اجتماع سے خطاب میں راہیان نور قافلوں کے مثبت و مفید اثرات اور دفاع مقدس کی مختلف کاروائيوں کے دوران ممتاز شخصیات، اعلی کمانڈروں اور دلیر سپاہیوں کی قربانیوں اور جانفشانیوں کی یاد ہمیشہ زندہ رکھنے پر دوبارہ تاکید کرتے ہوئے فرمایا: دفاع مقدس کا سب سے بڑا درس یہ تھا کہ ایک قوم اتحاد، ایمان،اللہ تعالی پر حسن ظن اور اللہ تعالی کے سچے وعدوں پر اعتقاد کے سائے میں تمام مشکل گھاٹیوں سے عبور اور دشمن کے مد مقابل استقامت کے جوہر دکھا کر دشمن کو پیچھے ہٹنے اور شکست دینے پر مجبور کرسکتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نوروز کی چھٹیوں اور سال کے دیگر ایام میں دفاع مقدس کے جنگی علاقوں اور فوجی کارروائيوں کے علاقوں میں عوام کے مختلف طبقات کے حضور کو پسندیدہ ، صحیح اور عقلمندانہ اقدام قراردیتے ہوئے فرمایا: دفاع مقدس کے تمام علاقہ منجملہ خوزستان، مجاہدت، فداکاری اور ایثار کےممتاز میدانوں میں سے ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آبادان کے محاصرے کو توڑنے کے لئے حضرت امام (رہ) کے فرمان اور کارون کے مشرق میں مارد علاقہ میں سن1360 ہجری شمسی مہر ماہ میں ثامن الآئمہ فوجی کارروائیوں کے پروگرام اور منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلام کے بہادر سپاہیوں کا یہ کامیاب آپریشن ، طریق القدس، فتح المبین اور الی بیت المقدس آپریشنز کا آغاز اور پیش خیمہ ثابت ہوا جو اسی سال مسلط کردہ جنگ کے خاتمہ کا سبب بن سکتا تھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی نظام کے مخالف اور دشمن محاذ یعنی یہی یورپی ممالک اور امریکہ ، صدام کی بعثی حکومت کو پیشرفتہ ہتھیار اور جنگی وسائل فراہم کرکے اسے جنگ جاری رکھنے کی تشویق کرتےتھے اور یہی مسئلہ جنگ کے 8 سال تک طولانی ہونے کا باعث بن گیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی جانب سے صدام کی بعثی حکومت کی مکمل حمایت اور اس کو کامیاب بنانے اور ایرانی قوم اور اسلامی نظام کو ضعیف اور کمزور کرنے کے سلسلے میں دشمن کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی نے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھایا، اور الہی سنت نے اپنی آہنی مشت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کے منہ توڑ دیئے اور ان کی ناک کو زمین پر رگڑ دیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: کیونکہ اسلامی نظام عوام کے احساسات ، جذبات اور ایمان پر استوار ہے اور آٹھ سالہ دفاع مقدس میں ایرانی قوم نے ثابت کردیا کہ دنیا کی مادی طاقتوں کے مقابلے میں اپنا دفاع کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح انھیں عجز و ناتوانی کا اظہار کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلط کردہ جنگ میں دشمن کے ایک ہدف کو دنیا کی مادی طاقتوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی عدم استقامت ظاہر کرنے کی کوشش قراردیتے ہوئے فرمایا: کسی قوم کی شکست اس وقت ہے جب اسے یقین ہوجائے کہ وہ کوئی کام انجام نہیں دےسکتی لیکن ایرانی قوم نے مسلط کردہ جنگ کے دوران اس برخلاف عالمی سطح پر یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنا مکمل طور پر دفاع کرسکتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: تاریخ میں اور اسی طرح قوموں کے درمیان کسی قوم کی سربلندی و عزت کا اصلی راز مختلف سماجی، علمی اور اقتصادی میدانوں میں تلاش و کوشش اور سب سے بڑھ کر قربانیوں کے لئے آمادہ رہنے پرمنحصر ہوتا ہے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کا ایرانی قوم کے لئے سب سے بڑا درس یہ تھا کہ اعلی اہداف تک پہنچنے کے لئے ان اہداف کے سلسلے میں جد وجہد، تلاش و کوشش ، جانفشانی اور استقامت ضروری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے 8 سالہ دفاع مقدس اور مسلط کردہ پر رمز و راز جنگ کو ایرانی قوم اور ملک کے جوانوں کی استقامت اور سامراج اور کفر محاذ کے مقابلے میں ان کی پائداری کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: دفاع مقدس کی یاد ہمیشہ زندہ رکھنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم کے معاندین اور اسی طرح بعض دیگر افراد اس تلاش میں ہیں کہ دفاع مقدس کی فداکاریوں اور اہم شخصیات کے فعال نقش کو فراموش کردیا جائے اور اسی وجہ سے ان کی تلاش و کوشش ہے کہ اس راہ کو فراموش کردیا جائے جسےدفاع مقدس کی قربانیوں اور جسے الہی حکیم و بصیر انسان حضرت امام خمینی (رہ )نے معین و مشحض کیا تھا ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دفاع مقدس کا ہر لحظہ ایرانی قوم کے لئے ناقابل فراموش ہے اور ایرانی قوم کی اعلی اہداف کی سمت حرکت میں اس کے گہرے اور مؤثر اثرات ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر راہیان نور قافلون کا شکریہ ادا کیا جو دفاع مقدس کے دوران جنگی کارروائیوں کے علاقوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے لئے ان علاقوں میں حاضر ہوئے ہیں۔ اور اس امید کا اظہار کیا کہ اس معنوی سفر کا توشہ، الہی انوار و بصیرت اور سیکھنے کابہترین تجربہ قرارپائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی آبادان کا محاصرہ توڑنے والے آپریشنز کے علاقہ میں پہنچنے سے پہلے دفاع مقدس کے نوگمنام شہیدوں کے مزار پر حاضر ہوئے اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top