پاکستانی ریاستی اداروں کو دہشتگردوں کے حامیوں سے پاک کرنا ضروری ہے، صاحبزادہ حامد رضا Reviewed by Momizat on . سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ صاحبزادہ فضل کریم حریت فکر کے مجاہد تھے۔ وہ زندگی بھر انقلابِ نظامِ مصطفی کے لئے جدوجہد کرتے ر سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ صاحبزادہ فضل کریم حریت فکر کے مجاہد تھے۔ وہ زندگی بھر انقلابِ نظامِ مصطفی کے لئے جدوجہد کرتے ر Rating: 0
You Are Here: Home » Urdu - اردو » پاکستانی ریاستی اداروں کو دہشتگردوں کے حامیوں سے پاک کرنا ضروری ہے، صاحبزادہ حامد رضا

پاکستانی ریاستی اداروں کو دہشتگردوں کے حامیوں سے پاک کرنا ضروری ہے، صاحبزادہ حامد رضا

پاکستانی ریاستی اداروں کو دہشتگردوں کے حامیوں سے پاک کرنا ضروری ہے، صاحبزادہ حامد رضا
سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ صاحبزادہ فضل کریم حریت فکر کے مجاہد تھے۔ وہ زندگی بھر انقلابِ نظامِ مصطفی کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ صاحبزادہ فضل کریم کی دینی و قومی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ان کا نام اور مقام ہمیشہ تاریخ کے صفحات پر جگمگاتا رہے گا۔ اہل حق صاحبزادہ فضل کریم کا مشن جاری رکھیں گے اور دہشت گردوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے دہشت گردی کے خلاف توانا آواز بلند کی۔ دہشت گردی کے مسئلے پر ریاستی اداروں کا یکسو نہ ہونا المیہ ہے۔ حکمرانوں کی بزدلی دہشت گردی کے خاتمے میں رکاوٹ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنی اتحاد کونسل کے بانی صاحبزادہ فضل کریم کی پہلی برسی کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں کو دہشت گردوں کے حامیوں سے پاک کرنا ضروری ہے۔ استحصالی طبقے نے محروم طبقات کے حقوق غصب کر رکھے ہیں۔ دو فیصد اشرافیہ نے اٹھانوے فیصد ملکی وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ظلم، استحصال اور جبر کے خاتمے کے لیے انقلابِ نظامِ مصطفی لانا ہو گا۔ ٹیکس چور اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ آئین کی شق 62 اور 63 پر عمل کیا جائے تو آدھی اسمبلیاں خالی ہو جائیں گی۔ نظامِ مصطفی قوم کی آخری امید ہے۔ دہشت گردوں کے ہمدرد ملک کے غدار اور دہشت گردوں کے وفادار ہیں۔ عناد اور مفاد کی سیاست نے ملک تباہ کر دیا ہے۔ جمہوریت کے سارے ثمرات اشرافیہ نے سمیٹے ہیں۔ جعلی جمہوریت سے غریب عوام کو کچھ نہیں ملا۔ انتخابی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا کوئی فائدہ نہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ملکی سلامتی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان عالمی سازشوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ را، موساد اور سی آئی اے پاکستان دشمنی میں متحد ہو چکی ہیں

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top