وزیرستان آپریشن میں دہشتگردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی توقع نہیں، میجر جنرل (ر) اطہر عباس Reviewed by Momizat on . سیمینار سے خطاب میں پاک فوج کے سابق ترجمان نے کہا کہ امریکا بار بار بیانات دے رہا تھا کہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں جبکہ سب کو محسوس ہو رہا تھا کہ اب دہشت گردوں کا م سیمینار سے خطاب میں پاک فوج کے سابق ترجمان نے کہا کہ امریکا بار بار بیانات دے رہا تھا کہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں جبکہ سب کو محسوس ہو رہا تھا کہ اب دہشت گردوں کا م Rating: 0
You Are Here: Home » Urdu - اردو » وزیرستان آپریشن میں دہشتگردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی توقع نہیں، میجر جنرل (ر) اطہر عباس

وزیرستان آپریشن میں دہشتگردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی توقع نہیں، میجر جنرل (ر) اطہر عباس

وزیرستان آپریشن میں دہشتگردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی توقع نہیں، میجر جنرل (ر) اطہر عباس
سیمینار سے خطاب میں پاک فوج کے سابق ترجمان نے کہا کہ امریکا بار بار بیانات دے رہا تھا کہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں جبکہ سب کو محسوس ہو رہا تھا کہ اب دہشت گردوں کا مرکز شمالی وزیرستان تھا۔ آپریشن کے دوران ایک ماہ میں بڑے شہر کلیئر ہوجائیں گے لیکن شمالی وزیرستان میں جوابی کارروائی کی تیاری بھی ہونا چاہئے تھی۔
وزیرستان آپریشن میں دہشتگردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی توقع نہیں، میجر جنرل (ر) اطہر عباس اسلام ٹائمز۔ پاک فوج کے سابق ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کی ضرورت تھی کیونکہ ملک میں ایئر پورٹس بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک وقت طلب معاملہ ہے جس میں دہشت گردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی توقع نہیں ہے۔ اسلام آباد میں سیفما کے زیر اہتمام آپریشن ضرب عضب پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل (ر) اطہر عباس نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ 2010ء میں ہو چکا تھا، جس کی تیاری کے بعد 2011ء میں آپریشن شروع کرنا تھا لیکن مسلسل حملوں کی وجہ سے شمالی وزیرستان میں فورسز گو مگو کیفیت میں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن پہلے بھی ہوسکتا تھا مگر اس سے دہشت گردی ختم نہ ہونے کا خدشہ تھا جبکہ اس وقت آپریشن ضروری تھا کیونکہ ملک میں ایئرپورٹس بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ اطہر عباس نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن وقت طلب معاملہ ہے جس میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی توقع نہیں ہے جبکہ بڑے شہروں کے علاوہ پہاڑوں پر بھی آپریشن ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان میں آپریشن پر خدشہ تھا کہ فاٹا میں ہمیشہ کیلئے جنگ میں چلے جائیں گے کیونکہ شمالی وزیرستان میں قبائل اور طالبان ایک ساتھ رہ رہے تھے اور اب آپریشن میں تحریک طالبان اور دیگر گروپوں کو الگ کر دیا گیا ہے۔

پاک فوج کے سابق ترجمان نے کہا کہ امریکا بار بار بیانات دے رہا تھا کہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں جبکہ سب کو محسوس ہو رہا تھا کہ اب دہشت گردوں کا مرکز شمالی وزیرستان تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران ایک ماہ میں بڑے شہر کلیئر ہوجائیں گے لیکن شمالی وزیرستان میں جوابی کارروائی کی تیاری بھی ہونا چاہئے تھی۔ اطہر عباس نے کہا کہ ضرب عضب فوجی نہیں قومی آپریشن ہے جس میں ہر صورت فوج کو حمایت ملنا چاہئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اطہر عباس نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ 3 سال قبل ہوچکا تھا لیکن اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کی ہچکچاہٹ کے باعث آپریشن نہیں ہوسکا۔ جس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا کہ ریٹائرڈ فوجی افسران کو بیانات دیتے ہوئے احتیاط کرنی چاہئے اور اپنے بیانات سے آپریشن کو متنازع نہیں بنانا چاہئے

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top