مجلس وحدت مسلمین نہ تو فوج کیلئے لڑ رہی ہے، نہ فوج کے کہنے پر لڑ رہی ہے، علامہ حسن ظفر نقوی Reviewed by Momizat on . معروف اہل تشیع عالم دین و خطیب مولانا سید حسن ظفر نقوی مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ترجمان ہیں، آپ کا تعلق شہر قائد کراچی ہے، گذشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد میں ان معروف اہل تشیع عالم دین و خطیب مولانا سید حسن ظفر نقوی مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ترجمان ہیں، آپ کا تعلق شہر قائد کراچی ہے، گذشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد میں ان Rating: 0
You Are Here: Home » Urdu - اردو » مجلس وحدت مسلمین نہ تو فوج کیلئے لڑ رہی ہے، نہ فوج کے کہنے پر لڑ رہی ہے، علامہ حسن ظفر نقوی

مجلس وحدت مسلمین نہ تو فوج کیلئے لڑ رہی ہے، نہ فوج کے کہنے پر لڑ رہی ہے، علامہ حسن ظفر نقوی

مجلس وحدت مسلمین نہ تو فوج کیلئے لڑ رہی ہے، نہ فوج کے کہنے پر لڑ رہی ہے، علامہ حسن ظفر نقوی
معروف اہل تشیع عالم دین و خطیب مولانا سید حسن ظفر نقوی مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ترجمان ہیں، آپ کا تعلق شہر قائد کراچی ہے، گذشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد میں انقلاب مارچ کے شرکاء کے ساتھ پارلیمنٹ کے سامنے ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان کے ہمراہ دھرنے میں شریک تھے۔ ”اسلام ٹائمز“ نے کراچی پہنچنے کے بعد مولانا حسن ظفر نقوی کے ساتھ ریڈ زون پر حکومت اور مظاہرین کے تصادم کے بعد ملکی سیاسی بحران میں افواج پاکستان کے کردار کے حوالے انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

شیعہ نیوز: پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کے پس منظر میں نواز حکومت مخالف جماعتوں کی انقلابی تحریک پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ان کی حکومت مخالف تحریک کے پیچھے فوج ہے، نیز ملکی سیاسی منظر نامے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔۔ سب سے پہلے تو میں عوام کے ردعمل پر بات کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا ہو کیوں رہا ہے، یہاں تک نوبت آئی کیوں ہے کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ملکی ادارے اس میں ملوث ہیں، اداروں کی جنگ شروع ہوچکی ہے، اس کا پس منظر کیا ہے، اس اصل مسئلہ یہ ہے، اس کی طرف لوگ توجہ کم دے رہے ہیں، 66 سال کے یہ جو ہمارا بوسیدہ اور فرسودہ نظام ہے جس میں چند درجن یا چند سو لوگ وہی ہیر پیر کرکے اس لوٹ مار کے نظام کو چلا رہے ہیں، اسی سے انکے مفادات وابستہ ہیں، اس کا سب سے واضح ثبوت ہے کہ اب سے چند ہفتوں قبل وہ سیاسی جماعتیں جو ایک دوسرے کو میڈیا میں نوچ رہی تھیں یعنی حزب اقتدار اور حزب اختلاف، ایسے ایک دوسرے کیخلاف لگے ہوئے تھے کہ جو بھی دوسرا حکومت میں رہا، یا آیا تو ملک ختم ہوجائے گا، لیکن جب اس فرسودہ نظام کو الٹنے کی بات آئی کہ جس سے ان سب کے مفادات وابستہ ہیں تو سب کو اپنی فکر پڑگئی، کیونکہ سب نے اس کرپٹ نظام کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔
آج جو یہ پاک فوج کے حوالے سے الزام تراشیاں کرکے رہے ہیں تو مجھے افسوس کے ساتھ ہنسی بھی آتی ہے کہ ماضی میں جب جس حکومت کو فوج کی ضرورت پڑی تو بلا لیا اور جب حکومت مخالف کسی نے ایسی بات کی تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ہم نے کبھی بھی فوجی اقتدار کی بات نہیں کی، لیکن حکومت خواہ مخواہ خود فوج کو اس معاملے میں گھسیٹ رہی ہے کہ مخالفین کے پیچھے فوج ہوگی، اس کے پیچھے فوجی ہونگے، ان سے خود تو پوچھو انہیں کون لایا ہے، تمہیں کس نے جنم دیا ہے، ایوب خان کن کن سیاستدانوں کو لایا تھا، یحییٰ خان کے دور میں کون کون سیاستدان آئے، ضیاءالحق کو کس نے سپورٹ کیا اور اسکی دی ہوئی وزارتوں کو کس کس نے قبول کیا، جنرل (ر) مشرف کے دور میں بیٹھی ہوئیں اور بیٹھے ہوئے آج جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، ابھی کل تک تو تم مشرف کی کابینہ میں تھے، مشرف کی محترمہ وزیر بھی تھیں، اور محترم وزیر بھی تھے، اصل میں اس کرپٹ اور فرسودہ نظام جس سے ان مفاد پرستوں کے مفادات وابستہ ہیں، اس کے لپٹنے سے خوفزدہ ہیں۔ پرویز مشرف کے لائے ہوئے بلدیاتی نظام کو انہوں نے لپیٹ دیا، اصلاحات کرکے بھی نہیں لا رہے کہ نیچے تک عوام کو کوئی فائدہ پہنچے، یہ بلدیاتی نظام تو دنیا بھر میں رائج ہے، اس لئے نہیں لاتے کہ آمر کا لایا ہوا ہے، مگر یہ اصلاحات کرکے بھی نہیں لائے لیکن جب اسی آمر نے جب اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں دیں تھیں تو اسے نہیں ختم کر رہے، جس پر آج حکومت کی محترم خواتین، بہنیں بیٹھی ہوئی ہیں، اسے کیوں ختم نہیں کیا اگر آمر کا لایا ہوا تھا تو، یعنی آمر کا جو کام آپ کے فائدے کا ہو وہ ٹھیک اور جو کام کہ جس سے اختیارات عوام کو نچلے درجے تک منتقل ہو رہا ہو وہ غلط۔
تو ابھی جو یہ سب کرپٹ نظام کے دلدادہ لوگ تڑپ رہے ہیں، وجوہات بیان کر رہے ہیں اور ہاں ہوسکتا ہے کہ تیسری قوت فائدہ اٹھا جائے لیکن عوامی بغاوت اس کرپٹ نظام کے خلاف ہے، آپ اپنے اس جاگیرداری، وڈیرہ شاہی نظام کو جمہوریت کا نام دے رہے ہیں، یہ اصل میں نیم جاگیردارانہ، نیم سرمایہ دارانہ نظام ہے، جمہوریت نام کی کوئی شے تو یہاں ہے ہی نہیں، تو یہ جو کل کے دشمن اور آج کے دوست بن گئے ہیں، یہ سب اپنے اس کرپٹ نظام کو بچانے کیلئے چیخ رہے ہیں، یہ سب سرمایہ دار، جاگیر دار، وڈیرے ایک ہوگئے ہیں کیونکہ سب کے مفادات اسی کرپٹ اور فرسودہ نظام سے وابستہ ہیں۔ اب اگر کوئی تیسری قوت فائدہ اٹھاتی ہے تو موقع تو آپ خود فراہم کر رہے ہو۔ ریکارڈ پر ہے کہ دنیا کے کتنے ہی ایسے وزیراعظم اور صدور ہیں جنہوں نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر استعفے دیدیئے ہیں، آپ کے پڑوس میں جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو وی پی سنگھ کی جماعت نے نہیں کیا تھا مگر اس نے بطور وزیراعظم استعفٰی دیدیا۔ اس طرح اس نے اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھی، آپ کو بھی جمہوریت عزیز ہوتی تو آپ بھی استعفٰی دیتے اور کمیشن بنا کر ہیرو بن جاتے اور دوبارہ انتخابات کراکر پھر جیت جاتے، کمیشن اپنا کام کرتا رہتا، مگر آپ نے حالات ایسے پیدا کئے کہ کوئی تیسری قوت آئے اور آپ الزام لگائیں کہ یہ لوگ تیسری قوت لیکر آئے ہیں جبکہ حکومت مخالفیں میں کوئی بھی تیسری قوت کو لانے کا نہیں کہہ رہا۔
یہ لوگ تو بیچارے سیدھے سیدھے نعرے لگا رہے ہیں، انہیں حقوق چاہئیں، یہ تو ظلم و تشدد کے خلاف، کرپٹ نظام کےخلاف نعرے لگا رہے ہیں اور اب جب یہ معاملات اتنے آگے بڑھ گئے اور آپ کی جمہوریت کی ڈھول کا پول کھل گیا کیونکہ اس لوٹ مار کے نظام کی پیداوار سب کے سب اکٹھے ہو کر عوام کے سامنے ننگے ہوچکے ہیں، کیسے اس کرپٹ نظام میں ووٹ حاصل کرتے ہیں، یہ لاکھوں کروڑوں ایکڑ کے مالک، یہ سرمایہ دار، وڈیرے، جاگیردار، کارخانوں ملوں کا مالکان، یہ سب عوام کو بھیٹ بکریوں کی طرح، ڈرا دھمکا کر لے جاتے ہیں اور ان سے مہریں لگوائی جاتی ہیں، سیدھی سیدھی سی بات ہے کہ جس کرپٹ نظام کے ذریعے یہ عوام پر مسلط ہیں اسے لپٹتا دیکھ کر یہ کیسے خاموش رہتے، تو یہ سب آج ایک دوسرے کے ساتھ ملکر چیخ چلا رہے ہیں اور عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں جبکہ حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز خاموش ہیں۔

شیعہ نیوز: کیا وجہ ہے کہ حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز جو بہت فعال نظر آتی ہیں، وہ آج عوام پر ہونیوالے ظلم و ستم پر خاموش ہیں۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: اگر گاؤں دیہات میں ہماری کسی مظلوم عورت پر ظلم ہوتا ہے تو ان کیلئے یہ حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز میدان میں آتی تھیں تو ہمیں خوشی ہوتی تھی کہ کوئی تو آواز بلند کر رہا ہے، کیا کسی نے مختاراں مائی کو پکڑ لیا، وہ بھی مظلوم عورت تھی، اس کے ساتھ بھی ظلم ہوا، اب ایک این جی او اسے امریکہ لے جاری ہے، کوئی این جی او اسے کسی مغربی ملک لے کر جارہی ہے، سب ڈالر پونڈ اکٹھے کر رہی ہیں، سیلاب، زلزلے آتے ہیں سب کی لاٹریاں نکل آتی ہیں جبکہ غریب متاثرین تو آج تک ایسے ہی بے حال پڑے ہیں، مر رہے ہیں، آج جب یہ عوام پر ظلم و ستم ہو رہا ہے تو یہ این جی اوز کہاں ہیں، کیوں چپ ہیں تو یہ اس لئے نہیں بول رہے کہ یہ دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور مغرب کس طرف ہیں، اب جب امریکہ اور مغرب نے نواز حکومت کی حمایت کر دی، تو یہ سب حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز خاموش ہیں، کیونکہ اگر انہوں نے نواز حکومت کی مخالفت کی تو ان کی ساری دال روٹی بند ہو جائے گی، ڈونیشن کے نام پر آنے والے ڈالرز پونڈز سب بند ہوجائیں گے، لہٰذا یہ سب خاموش ہیں۔ ایک ملالہ کیلئے ساری دنیا چیخ رہی تھی مگر آج کتنی ہی ملالہ شہید اور زخمی کر دی گئیں، مگر آج وہ ایک ملالہ بھی خاموش اور ملالہ والے بھی سب خاموش، ملالہ پر یقیناً ظلم ہوا تھا، ہم نے بھی مذمت کی مگر آج جو دیگر ملالہ ظلم و ستم کا شکار ہیں، ان کیلئے سب خاموش کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ اور مغرب اگر نواز حکومت کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیں تو یہ تمام حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز نواز حکومت کو فرعون، نمرود اور یزید قرار دے دینگے۔ بہرحال لوگ اس کرپٹ نظام سے تنگ آکر سڑکوں پر آچکے ہیں، اس کا نتیجہ کیا اور کب نکلے گا، اس کی پیش بینی کوئی نہیں کرسکتا۔

شیعہ نیوز: آپ نے کہا کہ نواز حکومت امریکہ اور مغرب نواز ہے اور یہ بھی اسکی حمایت کر رہے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں عالمی قوتیں پاکستان میں اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: ہماری گذشتہ حکومت نے تو خود عالمی قوتوں کیلئے پاکستان میں نرسریاں لگائیں تھی، آمر جنرل ضیاء کا دور اس میں سرفہرست ہے، تو ہماری حکومتوں نے تو خود سب کو میدان فراہم کیا تھا کہ آو ساری عالمی خفیہ ایجنسیاں آو اور یہاں پر پریکٹس کرو، روس امریکہ سمیت سب کی پراکسی وار یہاں لڑی گئیں، افغان جہاد کے نام پر آپ نے عالمی استعمار و سامراج کو پاکستان میں جگہ دی، عالمی سامراج کیلئے آپ استعمال ہوئے، آج سب بھگت رہے ہیں، آمر جنرل ضیاء کا تو کوئی نام ہی نہیں لیتا، ہم تو کہتے ہیں کہ کم از کم جنرل ضیاء تک تو جاو جہاں سے معاملہ شروع ہوا ہے، پرویز مشرف تو بعد کی پیداوار ہے، پہلے تو آمر ضیاء سے معاملہ شروع ہوا ہے کہ نواز شریف اور اسکی حکومت اسی کی تو پیداوار اور پھل ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو کوئی نطر انداز نہیں کرسکتا، عالمی قوتیں یہاں آنا چاہتی تھیں اور حکومتوں نے انہیں میدان فراہم کیا، آج آپ نے پورا ملک انہیں عالمی قوتوں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔
نواز حکومت کی مغرب و امریکہ نواز ہونے کی تازہ مثال کہ حکومت مخالف انقلابی تحریک میں سنی شیعہ اتحاد و وحدت کا عظیم مظاہرہ پوری دنیا نے دیکھا اور سراہا، تو عالمی سامراج و استعمار امریکہ و اسرائیل اور انکے حواری مغربی ممالک جو کہ دنیا بھر میں فرقہ واریت پھیلا کر اتحاد بین المسلمین کو نقصان پہنچانے کی سازشیں رچانے میں مصروف ہیں، انہیں کی ایما پر نواز حکومت نے اپنے حمایتی تکفیری دہشتگردوں اور گروہوں کو سنی شیعہ مسلمانوں کے اتحاد کے مظاہرے کو ناکام بنانے کیلئے میدان میں لے آئی کہ میری حکومت بچ جائے، باقی ملک و قوم کو جو چاہے نقصان پہنچے۔ اس سے ہماری یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ نواز حکومت دہشتگردوں کی سرغنہ ہے، تکفیری دہشتگرد عناصر سے ان کے تعلقات ہے، یہ ایک دوسرے کے حمایتی ہیں، آج دنیا دیکھ چکی ہے کہ کون نواز حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور کون پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

شیعہ نیوز: فوج اگر معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے تو کیا مجلس وحدت مسلمین اسے خوش آمدید کہے گی۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: مجلس وحدت مسلمین نہ تو فوج کیلئے لڑ رہی ہے، نہ فوج کے کہنے پر لڑ رہی ہے اور نہ ہی فوج کو بلانے کیلئے لڑ رہی ہے، ہم تو شروع سے یہ چاہتے تھے کہ تمام مظلوم طبقات ملکر ملک پر مسلط فاسد و فاسق کرپٹ نظام کو لپیٹ دیں، خاتمہ کر دیں، آج کتنی خوش آئند بات ہے کہ سنی شیعہ سمیت تمام مظلوم طبقات ملکر اس فرسودہ کرپٹ نظام کیخلاف میدان عمل میں آچکے ہیں، آج حکمرانوں کی نااہلی، ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، اب کیا نتائج نکلتے ہیں، کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا، اچھے اور برے دونوں ہوسکتے ہیں، 245 لگا کر خود نواز حکومت نے پہلے فوج کو بلا لیا، زلزلہ سیلاب آتا ہے فوج کو بلاتے ہیں، کرفیو لگا کر فوج کو بلاتے ہیں، جب حکومت کی مرضی ہو، جب حکومت کو مشکل ہو، جب فوج آجائے لیکن عوام کی آواز پر فوج نہ آئے، ہمارا بھی مؤقف یہ ہے کہ ملکی سیاسی معاملات میں فوج کو مداخلت نہیں کرنی چاہئیے، لیکن اب جب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، ہر محلے میں ہر جگہ دھاندلی ہو رہی ہے، جہاں جس کا زور چل رہا ہے وہ بکوں کی بکوں پر مہریں لگائی جا رہی ہیں، تو بھئی کب تک یہ سلسلہ چلے گا۔ بہرحال ہم نہ پہلے مارشل لا کے حامی تھے اور نہ اب ہیں، ہم تو چاہتے ہیں کہ انصاف ہو، صاف و شفاف نظام ہو، عوام کو یکساں حقوق ملیں۔ یہاں تک تو عوام کو شعور آچکا ہے کہ یہ موجودہ نظام ناکارہ ہے، ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز: موجودہ ملکی صورتحال میں افواج پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہئیے۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: جیسا کہ میں پہلے کہا کہ حکومت فوج کو بلائے تو جمہوریت اور عوام فوج کو بلائے تو غیر جمہوری ہونے کی الزام تراشیاں، ارے بھئی یہ فوج کیا بھارت کی فوج ہے، کیا وہ امریکہ اور اسرائیل کی فوج ہے، کہاں کی فوج ہے، بھئی پاکستانی فوج ہے نا، جب یہ فوج سیلاب، زلزلوں اور دہشتگردی کیخلاف ہماری مدد کو آسکتی ہے تو عوام کو بھی ظلم و ستم سے نجات دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتی ہے، جیسا کہ سب اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے تمام اداروں میں سب سے مضبوط و منظم ادارہ فوج کا ہے، لیکن ہم بھی یہی کہتے ہیں مارشل لا نہیں، فوجی حکومت نہیں، مگر جب حالات ایسے ہوجائیں، عوام ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی ہو تو فوج کا اتنا کردار ضرور ہونا چاہئیے کہ وہ ان کو بٹھا کر جیسا کہ پہلے بھی کیا ہے، قومی حکومت کی طرف ان کو لے کر آئیں، اور معاملات اس طرف جا رہے تھے کہ نواز شریف صاحب نے قومی اسمبلی میں سارا معاملہ الٹا کر دیا، پہلے آپ نے خود فوج کو دعوت دی، کیونکہ آپ سے معاملات کنٹرول نہیں ہو رہے تھے، فوج اپنا کردار ادا کرنے آگئی، فوج کی دعوت پر سب لبیک کہہ رہے تھے لیکن نواز حکومت نے قومی اسمبلی کے فلور پر فوج کو گندا کیا، یہاں تک کہ آئی ایس پی آر کو بیان جاری کرنا پڑا کہ ہمیں نواز حکومت نے کردار ادا کرنے کو کہا تھا۔ لہٰذا پہلے نواز حکومت نے انہیں کردار ادا کرنے کو کہا پھر انہیں گندا کیا، تو اب جو فوج کرتی ہے وہ انکی صوابدید پر ہے، اب پاکستان ہے، پاکستانی قوم ہے، خدا ہمارا حامی و ناصر ہو، یہ عوامی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، آج نہیں تو کل اس کا نتیجہ انتہائی مثبت آئے گا، انشاءاللہ ایک دن ضرور اس فرسودہ اور کرپٹ نظام اور اس کی پیداوار جو لوگ ہیں، سیاستدان ہیں، وڈیرے، جاگیردار، سرمایہ دار ہیں، انکے چمچے اور انکے حامی ہیں، انکا بوریا بستر لپٹ جائے گا۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top