گستاخانہ خاکوں اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کیخلاف شیعہ علما کونسل کا کراچی میں کفن پوش ماتمی جلوس Reviewed by Momizat on . کراچی میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ و نسل کشی، اندرون سندھ شیعہ مسلمانوں پر جھوٹے مقدمات اور فرانسیسی میگزین میں توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف کراچی میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ و نسل کشی، اندرون سندھ شیعہ مسلمانوں پر جھوٹے مقدمات اور فرانسیسی میگزین میں توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف Rating: 0
You Are Here: Home » Urdu - اردو » گستاخانہ خاکوں اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کیخلاف شیعہ علما کونسل کا کراچی میں کفن پوش ماتمی جلوس

گستاخانہ خاکوں اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کیخلاف شیعہ علما کونسل کا کراچی میں کفن پوش ماتمی جلوس

گستاخانہ خاکوں اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کیخلاف شیعہ علما کونسل کا کراچی میں کفن پوش ماتمی جلوس
کراچی میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ و نسل کشی، اندرون سندھ شیعہ مسلمانوں پر جھوٹے مقدمات اور فرانسیسی میگزین میں توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف کراچی میں شیعہ علماء کونسل سندھ کے زیر اہتمام نمائش چورنگی سے کفن پوش ماتمی جلوس نکالا گیا، جس میں شیعہ علماء کونسل سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عباس تقوی، مرکزی رہنماء علامہ شبیر حسن میثمی، صدر کراچی ڈویژن علامہ جعفر سبحانی، علامہ فیاض مطہری، علامہ کرم علی حیدری سمیت دیگر علماء کرام، خواتین، بچوں سمت عوام کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمائش چورنگی سے نکالے گئے کفن پوش ماتمی جلوس کی منزل وزیراعلیٰ ہاؤس تھی، جہاں پہنچ کر شرکائے جلوس اپنا احتجاج ریکارڈ کرنا چاہتے تھے۔ جلوس کے شرکاء جیسے ہی زینب مارکیٹ پہنچے تو پولیس کی بھاری نفری نے جلوس کو آگے جانے سے روک دیا، اور وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس جانے والے راستوں کو پولیس کی بھاری نفری تعینات اور کنٹینرز کھڑے کرکے سیل کر دیا، جس پر شرکائے جلوس نے علماء کرام کی سربراہی میں زینب مارکیٹ صدر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اور سندھ حکومت کیخلاف سخت نعرے بازی کی۔ علماء کرام نے مشاورت کے بعد زینب مارکیٹ کے سامنے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ آئندہ کا لائحہ عمل جلد طے کرکے دوبارہ سڑکوں پر آئیں گے، جس کے بعد کفن پوش ماتمی جلوس کے شرکاء پُرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

کفن پوش ماتمی جلوس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ ہم پُرامن لوگ ہیں، ورنہ یہ کنٹینر اٹھا کر پھینکنا کوئی مسئلہ نہیں٬ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ میں اگر ذرا سی بھی اخلاقی جرأت ہوتی، تو کراچی چھوڑ کر بھاگنے کے بجائے یہاں رُک کر ہمارا سامنا کرتے٬ ہماری شکایت سنتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج صرف ملت کی بیداری اور تشیع کی طاقت کا مظاہرہ کرنے آئے تھے، جس میں ہم کامیاب رہے۔ علامہ ناظر تقوی کا کہنا تھا کہ اہل تشیع مسلمانوں کے قاتلوں کی پھانسی میں رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے انہیں فوری تختہ دار پہ لٹکایا جائے٬ اور کسی بھی امتیاز کے بغیر دہشت گردوں کو پھانسی دی جائے٬ ہم اکیسویں ترمیم اور فوجی عدالتوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مدارس دہشتگردی میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف بھی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کارروائی کی جائے٬ اس حوالے سے شیعہ مدارس معائنے کے لئے سب سے پہلے حاضر ہیں۔ علامہ ناظر تقوی نے شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور نسل کشی روکنے میں ناکامی پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے فوری مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے ارباب اختیار سے کراچی میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے کفن پوش ماتمی جلوس سے اختتامی خطاب میں کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو شرم آنی چاہیے یہ بیان دیتے ہوئے کہ کراچی میں کوئی ٹارگٹ کلنگ نہیں٬ ہو رہی، عوام تو عوام، خود پولیس اور رینجرز کے بیس سے زائد جوان رواں سال کے آغاز سے ابتک دہشتگردوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ ہمارے سامنے بہت سے آپشنز ہیں، ہم مشاورت کر رہے ہیں٬ اگر ملت تشیع کو تحفظ فرہم نہیں کیا گیا تو بہت جلد قوم کو “کال” دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی جریدے میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے دنیا بھر میں ملت اسلامیہ کی روح مجروح ہوئی ہے٬ ہم عالمی طاقتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سلسلے کی حوصلہ شکنی کی جائے، اور قوم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ علامہ شبیر میثمی کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی انتہائی شرمناک ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

About The Author

Number of Entries : 6115

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.

© 2013

Scroll to top